پاکستانی فلم و ٹی وی کی مقبول اداکارہ مہوش حیات نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے محض ایک، 2 سال قبل شادی کرنے کے بارے میں سوچنا شروع کیا ہے ورنہ اس سے پہلے وہ اس کے لیے بالکل تیار نہیں تھیں۔
مہوش حیات نے سال 2009 میں شارٹ فلم انشا اللہ سے شوبز انڈسٹری میں قدم رکھا اور پھر ڈرامہ ‘ماسی اور ملکہ کے ذریعے ٹیلیویژن اسکرین پر نظر آئیں۔تاہم انہیں شہرت سال 2012 میں نشر ہونے والے رومانٹک ڈرامے میرے قاتل میرے دلدار سے ملی جس کے لیے انہیں بہترین اداکارہ کا لکس اسٹائل ایوارڈ بھی ملا تھا۔
جس کے بعد وہ کئی ڈراموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھاتی نظر آئیں تاہم سال 2014 میں فلم نامعلوم افراد کے لیے آئٹم سانگ بلی سے فلمی دنیا میں قدم رکھا اور فلموں میں اداکاری کا ڈیبیو 2015 میںجوانی پھر نہیں آنی سے کیا۔ڈراموں اور فلموں کے علاوہ مہوش مارول سینیمیٹک یونیورس کی ٹی وی سیریزمس مارول میں عائشہ کا کردار بھی نبھا چکی ہیں اور انہیں حکومت پاکستان کی جانب سے تمغہ امتیاز بھی مل چکا ہے۔
مہوش حیات کا شمار پاکستان کی سپر اسٹارز میں ہوتا ہے، جن کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کررہی ہے جس میں وہ شادی کے موضوع پر بات کرتی نظر آئیں۔میزبان ندا یاسر کے سوال کے جواب میں اداکارہ نے بتایا کہ ان کے لیے رشتے آتے رہتے ہیں لیکن میں ٹال مٹول کردیتی ہوں۔
شادی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سے 2 سال سے میں نے اس بارے میں سوچنا شروع کیا ہے ورنہ اس سے پہلے میری سوچ ایسی تھی کہ ایسا کچھ ممکن نہیں ہے۔بات کو جاری رکھتے ہوئے مہوش نے کہا کہ اب مجھے لگتا ہے کہ اس میں کوئی برائی نہیں ہے کہ اگر کوئی آپ کو اچھا لگتا ہے تو آپ بات چیت وغیرہ کرسکتے ہیں لیکن اس سے پہلے میری مکمل توجہ میرے کام پر تھی اور اس بارے میں بالکل نہیں سوچتی تھی۔
ندا یاسر کے اس سوال پر کہ کس طرح کا جیون ساتھی چاہیے؟ مہوش حیات نے جواب دیا کہ کوئی ذہین انسان ہونا چاہیئے اور نرم دل انسان ہو، اس کا اپنی فیملی سے اور کام کے حوالے سے رویہ کس طرح کا ہے؟ یہ ساری چیزیں دیکھنا ضروری ہیں۔مہوش حیات کا کہنا تھا کہ مجھے لگتا ہے کہ شادی 2 افراد کا نہیں 2 خاندانوں کا ملن ہوتی ہے۔
امریکا میں صدارتی انتخابات نومبر کے مہینے اور منگل کو ہی کیوں ہوتے ہیں؟جانیں اہم وجوہات

