اسلام آباد (نیوز ڈیسک) معروف گلوکار جواد احمد نے سینٹر مشتاق احمد کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ تو ہمیشہ منظرِ عام پر رہنے اور ٹی وی پر آ کر توجہ حاصل کرنے کے عادی ہیں، مگر دعووں کے پیچھے عملی اقدام نظر نہیں آتا۔
جواد احمد نے اپنے حالیہ بیان میں کہا کہ کچھ لوگ مسلسل میڈیا میں آ کر خود کو نمایاں کرتے رہتے ہیں اور پھر جب کوئی مسئلہ پیش آتا ہے تو شکایات کرتے ہیں — مثال کے طور پر موبائل ہیک ہونے یا سیکیورٹی کے مسائل کا رونا رویا جاتا ہے مگر اصل سوال یہ ہے کہ ان کے پاس مسئلے حل کرنے کے لیے کیا عملی حکمتِ عملیاں ہیں۔ انہوں نے کہا: “اگر آپ کا موبائل ہیک ہو گیا تو آپ کیا کر سکتے ہیں؟ کون آپ کو ہیک کرے گا؟ صرف دعوے اور الزام تراشیاں کافی نہیں ہوتیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی شراکت داریوں یا بیرونی سہولتوں کے حوالے سے بھی صرف باتیں کی جاتی ہیں، جبکہ حقیقی محنت اور اقدامات نظر نہیں آتے۔ جواد احمد نے مطالبہ کیا کہ سیاستدان اور عوامی رہنما اپنے دعووں کو ثبوت اور عمل سے ثابت کریں، نہ کہ صرف ٹی وی اسکرین پر دکھائی دے کر توجہ حاصل کریں۔
سیاسی و سماجی حلقے اس بیان کو میڈیا میں دکھاوے اور عملی حکمتِ عملی کے درمیان جاری تنقیدی مباحثے کا تازہ رخ قرار دے رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مشہور شخصیات کا اس طرح کا مؤقف عوام میں بھی بحث کو جنم دیتا ہے اور اس سے پالیسی سازوں اور عوامی نمائندوں پر عوامی جوابدہی کے دباؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
کیمرے کے شوقین سینیٹر مشتاق فلسطین کے لیے تو کچھ نہیں کر سکتے مگر اپنے لیے کافی کچھ کر رہے ہیں۔ pic.twitter.com/tyXzK9TAk4
— Jawad Ahmad (@jawadahmadone) October 3, 2025
مزیدپڑھیں:استنبول: غزہ فلوٹیلا کے 137 کارکن ترکی پہنچ گئے



