نیویارک (نیوزڈیسک)وال سٹریٹ جرنل نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ ترکیہ شام میں کرد علاقوں کے خلاف فوجی آپریشن شروع کرنے والا ہے۔ امریکی اخبار نے کہا ہے شام میں کوبانی علاقے کے قریب ترک توپ خانہ اور افواج بڑی تعداد میں تعینات ہیں۔ امریکی حکام نے شام میں کرد علاقوں میں ترکیہ کی دراندازی کے خدشے کا اظہار کیا۔
ایس ڈی ایف کے بیان میں ترک فریق کی طرف سے امریکی ثالثی کے بنیادی نکات کو قبول کرنے سے گریز کا بتایا گیا۔ ان نکات میں منبج ملٹری کونسل کے جنگجوؤں اور شہریوں کو شمالی اور مشرقی شام میں محفوظ علاقوں میں منتقل کرنے کا کہا گیا تھا۔
شامی کردوں کے حوالے سے شام میں سیاسی امور کے محکمے کی ترجمان عبیدہ ارناؤوط نے تصدیق کی ہے کہ کرد شامی عوام کا حصہ سمجھے جاتے ہیں لیکن عبوری حکومت اپنے کنٹرول سے باہر کسی گروہ کے وجود کی اجازت نہیں دے گی۔ انہوں نے کہا ہے کہ کرد شامی عوام کے ایک حصے کی نمائندگی کرتے ہیں اور ہم اس گروہ کے حقوق کے تحفظ کے لیے بہت زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ لیکن ہم کسی بھی صورت میں شام سے کسی بھی حصے کو دمشق حکومت کے کنٹرول سے باہر نہیں ہونے دیں گے۔
اس تناظر میں شمالی شام کے کرد علاقوں میں جنگ بندی کو محفوظ بنانے کے لیے امریکی قیادت میں ثالثی کی کوششیں ناکام ہو گئی ہیں۔ ایک کرد ملیشیا نے پیر کی شام ترکیہ کی طرف سے مذاکرات کے اہم نکات کو ماننے سے انکار کیا ہے۔ کردوں پر مشتمل امریکی حمایت یافتہ سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) نے کہا ہے کہ انقرہ نے مذاکرات کو سنجیدگی سے نہیں لیا ہے۔
سیریئن ڈیموکریٹک فورسز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جنگ روکنے کی امریکی کوششوں کے باوجود ترکیہ اور اس کی ملیشیا نے حالیہ عرصے میں کرد علاقوں پر اپنی جنگ تیز کر رکھی ہے۔ 8 دسمبر کو شام کے سابق صدر بشار الاسد کے خاتمے کے بعد سے کردوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ ترکیہ کی حمایت رکھنے والی ملیشیا ’’ سیریئن نیشنل آرمی‘‘ نے حال ہی میں کرد فورسز کے زیر کنٹرول علاقے میں پیش قدمی کی ہے اور سٹریٹجک نوعیت کے شہر منبج کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔
شام میں تشدد کو ریکارڈ کرنے والی سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمٰن نے کہا ہے کہ ترک فریق اور اس کی حمایت یافتہ ملیشیا کوبانی پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہی ہیں اور مجھے خدشہ ہے کہ یہ جلد ہو جائے گا۔ اگرچہ ایس ڈی ایف شام میں شدت پسند گروپ داعش کے خلاف جنگ میں امریکہ کا ایک اہم پارٹنر ہے تاہم ترکیہ ایس ڈی ایف کو کالعدم کردستان ورکرز پارٹی کی شاخ اور ایک دہشت گرد تنظیم سمجھتا ہے۔
شامی سابق صدر بشار الاسد سونے اور نوادرات کا خزانہ لے کر فرار ہوئے: سابق مشیرعیسیٰ ابراہیم ایڈووکیٹ کا انکشاف


