Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

بچوں کو کس عمر میں اسمارٹ فونز دینا چاہیے؟ نئی تحقیق

اسلام آباد( نیوز ڈیسک) اکثر والدین کی جانب سے سوال کیا جاتا ہے کہ کس عمر میں بچوں کو اسمارٹ فونز کے استعمال کی اجازت دینا بہتر ہوتا ہے یا نقصان دہ ہوتا ہے؟

تو اس سوال کا جواب ایک نئی تحقیق میں دیا گیا ہے۔

جرنل آف دی ہیومین ڈویلپمنٹ اینڈ Capabilities میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ بچوں کو 13 سال کی عمر سے قبل اسمارٹ فونز کے استعمال کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

تحقیق کے مطابق 13 سال کی عمر سے قبل اگر بچے اسمارٹ فونز کو استعمال کرتے ہیں تو اس سے ان کی دماغی صحت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ اسمارٹ فونز استعمال کرنے والے 13 سال سے کم عمر بچوں کو دنیاوی حقیقت سے کٹ جانے، ذاتی اہمیت میں کمی کے احساس، جذبات کو کنٹرول میں رکھنے میں مشکلات اور خودکشی کے خیالات جیسے مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔

تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ 13 سال سے کم عمر بچے اسمارٹ فون استعمال کرتے ہیں، تو 13 سال کی عمر تک پہنچنے سے قبل ہر گزرتے سال کے ساتھ ان کی دماغی صحت اور شخصیت پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق اس کی ممکنہ وجہ یہ ہے کہ 13 سال سے کم عمر بچے جب اسمارٹ فونز استعمال کرتے ہیں تو وہ سوشل میڈیا تک رسائی حاصل کرتے ہیں جبکہ ان کی نیند متاثر ہوتی ہے، آن لائن بدزبانی کا سامنا ہوتا ہے اور خاندان تعلقات بھی متاثر ہوتے ہیں۔

اس تحقیق میں 163 ممالک سے تعلق رکھنے والے لگ بھگ 20 لاکھ افراد میں سروے کیا گیا تھا۔

تحقیق کے نتائج چونکا دینے والے تھے اور محققین نے مطالبہ کیا کہ دنیا بھر میں 13 سال سے کم عمر بچوں کے اسمارٹ فونز اور سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کی جانی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

اس سے قبل تحقیقی رپورٹس میں اکثر اس بات پر توجہ مرکوز کی گئی تھی کہ اسمارٹ فونز کے استعمال اور بچوں میں انزائٹی اور ڈپریشن کے درمیان تعلق ہے یا نہیں، مگر اس تحقیق میں دیگر پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا گیا
مزید پڑھیں‌:عالمی ڈونر نے پاکستان کو سیکڑوں موٹرسائیکلیں عطیہ کر دیں

یہ بھی پڑھیں