لندن(انٹرنیشنل ڈیسک)برطانیہ، آسٹریلیا اور کینیڈا نے ریاست فلسطین کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کردیا۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ ’ آج، امن اور دو ریاستی حل کی اُمید کو زندہ کرنے کے لیے میں بطور وزیراعظم برطانیہ اعلان کرتا ہوں کہ برطانیہ باضابطہ طور پر ریاستِ فلسطین کو تسلیم کرتا ہے۔’
انہوں نے مزید کہا کہ ’ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی ہولناکی کے سامنے ہم اس بات کے لیے قدم اُٹھا رہے ہیں کہ امن اور دو ریاستی حل کے امکان کو زندہ رکھا جا سکے، اس کا مطلب ہے ایک محفوظ اور پُرامن اسرائیل کے ساتھ ایک قابلِ عمل فلسطینی ریاست،اور فی الحال ہمارے پاس دونوں میں سے کوئی بھی نہیں ہے۔’
برطانیہ کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے اعلان کے دوران وزیرِ اعظم کیئراسٹارمر نے مزید کہا کہ غزہ میں انسان کا پیدا کردہ بحران نئی گہرائیوں تک پہنچ چکا ہے، ’ بھوک اور تباہی بالکل ناقابلِ برداشت ہیں۔’
انہوں نے کہا کہ دسیوں ہزار افراد شہید کیے جا چکے ہیں، جن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو کھانا اور پانی لینے کے لیے گئے تھے، ’یہ موت اور تباہی ہم سب کے لیے ہولناک ہے۔‘
Today, to revive the hope of peace for the Palestinians and Israelis, and a two state solution, the United Kingdom formally recognises the State of Palestine. pic.twitter.com/yrg6Lywc1s
— Keir Starmer (@Keir_Starmer) September 21, 2025
انہوں نے کہا کہ’ کچھ بیمار اور زخمی بچوں کو نکالا گیا ہے اور ہم نے انسانی ہمدردی کی امداد میں اضافہ کیا ہے لیکن ابھی بھی کافی امداد نہیں پہنچ رہی۔’
کیئراسٹارمر نے کہا کہ ہم اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ سرحد پر عائد پابندیاں ختم کرے، ظالمانہ طریقوں کو بند کرے اور امداد کو اندر جانےدے۔
قبل ازیں وزیرراعظم آسٹریلیا انتھونی البانیز اور آسٹریلوی سینیٹ میں قائد ایوان و وزیرخارجہ پینی وونگ کی جانب سے جاری کردہ ایک مشترکہ بیان میں فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کیا گیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ آج، اتوار 21 ستمبر 2025 سے مؤثر، دولتِ مشترکہ آسٹریلیا باضابطہ طور پر آزاد اور خودمختار ریاستِ فلسطین کو تسلیم کرتا ہے۔
My statement formally recognising the State of Palestine. pic.twitter.com/HtBmnIQGBS
— Anthony Albanese (@AlboMP) September 21, 2025
اس اقدام کے ذریعے آسٹریلیا فلسطینی عوام کی اپنی ریاست کے قیام کی جائز اور دیرینہ خواہشات کو تسلیم کرتا ہے۔
آج فلسطین کو تسلیم کرنا، کینیڈا اور برطانیہ کے ساتھ مل کر، ایک مربوط بین الاقوامی کوشش کا حصہ ہے تاکہ دو ریاستی حل کے لیے ایک نیا محرک پیدا کیا جا سکے، جس کا آغاز غزہ میں جنگ بندی اور 7 اکتوبر 2023 کے مظالم میں لیے گئے یرغمالیوں کی رہائی سے ہو۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ آج کا یہ قدم آسٹریلیا کے دو ریاستی حل کے طویل المدت عزم کی عکاسی کرتا ہے، جو ہمیشہ اسرائیلی اور فلسطینی عوام کے لیے پائیدار امن اور سلامتی کی واحد راہ رہی ہے۔
بین الاقوامی برادری نے فلسطینی اتھارٹی کے لیے واضح تقاضے طے کیے ہیں۔ فلسطینی اتھارٹی کے صدر نے اسرائیل کے وجود کے حق کو تسلیم کرنے کے عزم کو دہرایا ہے اور آسٹریلیا کو براہِ راست یقین دہانیاں کرائی ہیں، جن میں جمہوری انتخابات کرانے اور مالیات، طرزِ حکمرانی اور تعلیم کے شعبوں میں نمایاں اصلاحات کرنے کے وعدے شامل ہیں۔
قبل ازیں، برطانوی خبررساں ادارے کے مطابق کینیڈا فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے والا پہلا جی 7 ملک بن گیا۔ وزیرِ اعظم مارک کارنی نے کہا ہے کہ آج سے ’ کینیڈا ریاستِ فلسطین کو تسلیم کرتا ہے۔’
اپنے ایکس اکاؤنٹ پر جاری کردہ بیان میں مارک کارنی نے کہا:
’ کینیڈا ریاستِ فلسطین کو تسلیم کرتا ہے اور ریاستِ فلسطین اور ریاستِ اسرائیل دونوں کے لیے پُرامن مستقبل کے وعدے کی تعمیر میں اپنی شراکت پیش کرتا ہے۔’
Since 1947, Canada has supported a two-state solution – Palestine and Israel living side by side in peace and security. Today, Canada recognises the State of Palestine and offers our partnership in building the promise of lasting peace in the Middle East. https://t.co/wyORqCiyib
— Prime Minister of Canada (@CanadianPM) September 21, 2025
مزیدپڑھیں:بھارت کاٹاس جیت کرفیلڈنگ کافیصلہ
