بھارت( ویب ڈیسک) امریکی الزامات کے بعد مودی سرکار نے ارب پتی کاروباری شخصیت گوتم اڈانی کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کیلئے اُن کے کاروبار میں ریاستی ملکیتی لائف انشورنس کارپوریشن سے 3.9 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کروائی۔ جس کا منصوبہ اب بے نقاب ہو گیا ہے۔
واشنگٹن پوسٹ کی تحقیقات کے مطابق بھارتی حکام نے مئی 2023 میں ایک حکومتی منصوبے کے تحت تقریباً 3.9 بلین ڈالر کا سرمایہ کاری کا ایک منصوبہ تیار کیا، جس کو بھارتی وزارت خزانہ اور لائف انشورنس کارپوریشن نے ایک ساتھ مل تیار کیا تھا۔ اس منصوبے کے تحت اڈانی کے مختلف کاروباروں میں بڑی سرمایہ کاری کی گئی۔ اس اقدام کو عوامی فنڈز کے غلط استعمال کے طور پر تنقید کا سامنا ہے، کیونکہ یہ سرمایہ کاری اُس وقت کی گئی جب اڈانی کے گروپ کے قرضوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا تھا۔
اڈانی گروپ نے کہا کہ ایل آئی سی نے ان کے گروپ میں سرمایہ کاری کی ہے اور اس سے اچھے منافع ملے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایل آئی سی نے ان کے گروپ میں سرمایہ کاری کی ہے اور یہ سرمایہ کاری مکمل طور پر قانونی اور جائز ہے۔ تاہم، بھارتی حکام کی جانب سے یہ اقدامات زیادہ تر اڈانی گروپ کی مالی مدد کے لیے کیے گئے، جو ان کے بڑھتے ہوئے قرضوں کی وجہ سے مشکلات کا شکار تھا۔
بھارتی حکام کا موقف یہ ہے کہ اڈانی گروپ نے مالی مشکلات کا سامنا کیا، اور اس سرمایہ کاری سے نہ صرف اڈانی کے کاروبار کو سہارا ملا بلکہ بھارت کی اقتصادی استحکام میں بھی مدد ملی۔ تاہم، یہ اسکینڈل بھارت کے سیاسی منظرنامے اور کاروباری تعلقات پر سوالات اٹھاتا ہے، خصوصاً اس لیے کہ گوتم اڈانی وزیر اعظم نریندر مودی کے قریبی اتحادی ہیں۔
اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ کس طرح بھارتی حکام نے اڈانی گروپ کو مالی مدد فراہم کرنے کے لیے اپنے اداروں کا استعمال کیا، جبکہ عالمی سطح پر ان کے خلاف الزامات کی تحقیقات جاری ہیں۔ یہ تحقیقات بھارتی مالیاتی دستاویزات، سابق و موجودہ حکام کے بیانات اور دیگر ذرائع پر مبنی ہیں۔
واضح رہے کہ گوتم اڈانی، جو بھارت کے دوسرے امیر ترین شخص ہیں ان کے خلاف امریکہ میں رشوت ستانی اور دھوکہ دہی کے الزامات بھی عائد کیے گئے تھے، جس کے باعث کئی امریکی اور یورپی بینک قرض دینے سے ہچکچا رہے تھے۔ تاہم، بھارتی حکومت نے انہیں مدد فراہم کرنے کے لیے اپنا منصوبہ تیار کیا۔
