Search
Close this search box.
هفته ,11 جولائی ,2026ء

مشرقِ وسطیٰ سے امیر افراد کا انخلا، نجی طیاروں کے کرائے لاکھوں ڈالر تک پہنچ گئے

ریاض/دبئی (نیوز ڈیسک) مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی اور میزائل و ڈرون حملوں کے بعد امیر افراد اور بین الاقوامی کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیدار نجی طیاروں کے ذریعے خطہ چھوڑنے لگے ہیں۔ ذرائع کے مطابق محفوظ راستہ اختیار کرنے کے لیے سعودی عرب کا دارالحکومت ریاض اہم مرکز بن گیا ہے جہاں سے یورپ اور دیگر ممالک کے لیے پروازیں جاری ہیں۔

رپورٹس کے مطابق نجی طیاروں کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ سے انخلا کے اخراجات انتہائی زیادہ ہو گئے ہیں اور ریاض سے یورپ تک ایک نجی طیارے کا کرایہ تقریباً تین لاکھ پچاس ہزار ڈالر (تقریباً دو لاکھ ساٹھ ہزار پاؤنڈ) تک پہنچ گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق دبئی، ابو ظہبی، قطر اور بحرین پر میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد امیر طبقے میں تشویش بڑھ گئی ہے اور کئی افراد سعودی عرب کے راستے خطہ چھوڑ رہے ہیں۔ نجی سیکیورٹی کمپنیاں دبئی سے ریاض تک تقریباً دس گھنٹے کے زمینی سفر کے لیے لگژری گاڑیوں کے قافلے فراہم کر رہی ہیں، جس کے بعد مسافروں کو نجی طیاروں کے ذریعے یورپ منتقل کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق خطہ چھوڑنے والوں میں عالمی مالیاتی اداروں کے اعلیٰ عہدیدار اور وہ امیر افراد بھی شامل ہیں جو سیاحت یا کاروباری دوروں پر موجود تھے۔ بڑھتی ہوئی طلب کے باعث نجی طیاروں اور سفری سہولیات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔

رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ عمان کے راستے انخلا کے امکانات کم ہو گئے ہیں کیونکہ حالیہ حملوں کے بعد بعض بندرگاہوں اور راستوں کو بند کر دیا گیا ہے، جس کے باعث سعودی عرب کو محفوظ راستہ سمجھا جا رہا ہے۔

ریاض کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ اس وقت اہم فضائی مرکز کی حیثیت اختیار کر چکا ہے جہاں سے یورپ، امریکہ، ایشیا اور دیگر خطوں کے لیے پروازیں جاری ہیں، جبکہ بعض ممالک کے شہریوں کے لیے آمد پر ویزا کی سہولت بھی انخلا کے عمل کو آسان بنا رہی ہے۔

دوسری جانب سعودی حکام نے بعض ڈرون حملوں کو ناکام بنانے کی تصدیق بھی کی ہے جبکہ تیل کی تنصیبات پر حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
مزیدپڑھیں:تہران میں فضائی حملہ، محمود احمدی نژاد محفوظ، تین محافظ ہلاک

یہ بھی پڑھیں