Search
Close this search box.
جمعه ,05 جون ,2026ء

ٹرمپ اور جیفری ایپسٹین کا نصب متنازع مجسمہ توجہ کا مرکز بن گیا

واشنگٹن(ویب ڈیسک) امریکا کے دارالحکومت واشنگٹن میں نیشنل مال کے مقام پر منگل کے روز ایک متنازع مجسمہ نصب کیا گیا جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور جنسی جرائم میں سزا یافتہ مالیاتی شخصیت جیفری ایپسٹین کو مشہور فلم کے کرداروں کے انداز میں دکھایا گیا ہے۔

’’کنگ آف دی ورلڈ‘‘ کے نام سے نصب کیے گئے اس مجسمے میں دونوں شخصیات کو ایک جہاز کے اگلے حصے پر کھڑے دکھایا گیا ہے، جو فلم کے معروف منظر کی جانب اشارہ کرتا ہے جس میں مرکزی کردار یہی جملہ کہتے ہیں۔

مجسمہ بنانے والی تنظیم ’’سیکرٹ ہینڈ شیک‘‘ کے مطابق یادگار کے دونوں اطراف نصب تختیوں پر درج ہے کہ فلمی کرداروں کی الم ناک محبت کی کہانی شاہانہ سفر، شور شرابے والی محفلوں اور خفیہ خاکوں پر مبنی تھی، اور یہ مجسمہ ڈونلڈ ٹرمپ اور جیفری ایپسٹین کے درمیان اسی نوعیت کی دوستی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔


تنظیم کے مطابق مجسمے کے اطراف میں دونوں شخصیات سے متعلق دس بڑے بینرز بھی آویزاں کیے گئے ہیں۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ دو ہزار چھبیس صدر ٹرمپ کے لیے بینرز کا سال ثابت ہوا ہے کیونکہ واشنگٹن میں متعدد وفاقی عمارتوں پر ان کی تصاویر کے بڑے بینرز لگائے گئے، اسی طرز پر انہوں نے بھی اپنے بینرز نصب کرنے کا فیصلہ کیا۔

اس سے قبل اسی تنظیم نے ستمبر دو ہزار پچیس کے آخر میں نیشنل مال پر ڈونلڈ ٹرمپ اور جیفری ایپسٹین کی دوستی کو ظاہر کرنے والا ایک اور مجسمہ نصب کیا تھا جس میں دونوں کو ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے اچھلتے کودتے دکھایا گیا تھا۔

یہ مجسمہ احتجاجی فن پارے کے طور پر خاصی توجہ کا مرکز بنا تھا تاہم امریکی پارک پولیس نے اجازت نامے کی مبینہ خلاف ورزی پر اسے ایک دن بعد رات کے وقت ہٹا دیا تھا۔

بعد ازاں ایک ہفتے بعد یہ مجسمہ دوبارہ نصب کیا گیا اور چار دن تک اپنی جگہ موجود رہا۔

تنظیم ’’سیکرٹ ہینڈ شیک‘‘ اس کے بعد بھی مختلف تنصیبات لگاتی رہی ہے۔ جنوری میں جیفری ایپسٹین کی سالگرہ کے موقع پر نیشنل مال میں تقریباً دس فٹ اونچا ایک بڑا سالگرہ کارڈ نصب کیا گیا تھا جس پر مبینہ طور پر وہ پیغام اور خاکہ درج تھا جو ڈونلڈ ٹرمپ نے جیفری ایپسٹین کو بھیجا تھا، جبکہ آنے والے افراد کو اس کارڈ پر دستخط کرنے کی بھی اجازت دی گئی تھی۔

تنظیم کی جانب سے نصب کیا گیا تازہ ترین مجسمہ تیرہ مارچ تک نیشنل مال پر موجود رہے گا۔
مزیدپڑھیں:آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد پاکستان بحیرہ احمر کے راستے تیل درآمد کرنے لگا

یہ بھی پڑھیں