کشمیر!الفتنۃ اشد من القتل
احتجاج جمہوریت کا حسن اسوقت تک سمجھا جاتا ہے کہ جب تک وہ فتنے میں تبدیل نہ ہو،کشمیر میں پیر کے دن سے جاری احتجاج اپنے پہلے ہی دن ایک نوجوان کی جان لے گیا،جبکہ متعدد زخمی اس کے علاہ
احتجاج جمہوریت کا حسن اسوقت تک سمجھا جاتا ہے کہ جب تک وہ فتنے میں تبدیل نہ ہو،کشمیر میں پیر کے دن سے جاری احتجاج اپنے پہلے ہی دن ایک نوجوان کی جان لے گیا،جبکہ متعدد زخمی اس کے علاہ
عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی اپیل پر جنت نظیر آزاد کشمیر پیر کے دن سے ریاست گیر پہیہ جام اور شٹر ڈائون ہڑتال کی زد میں ہے‘ مظفرآباد، میرپور اور پونچھ کے تینوں ڈویژنز میں کاروبار زندگی معطل ہے جبکہ
کوئی سبقت لسانی کے مریض یوٹیوبر ملاں مافیاء کے ٹچر بازوں‘ 450 سے زائد گرفتار گستاخوں اور مرزا جہلمی کے سہولت کاروں کو بتائے کہ تم گستاخوں کی سہولت کاری اور گستاخیوں کو پرموٹ کرکے ہم سے زندگی کا آخری
نظریاتی طور پر مردہ دانش فروش وجاہت مسعود کا کالم (پاک سعودی معاہدہ اور نظریاتی مردہ خانہ) دراصل معاہدے کو سیکولر اور غیر نظریاتی عینک سے دیکھنے کی ایک کوشش ہے، مگرحقیقت یہ ہے کہ پاک سعودی اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ
اسلام آباد سے خبر آئی ہے کہ جمعیت علماء اسلام جموں و کشمیر کے مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس میں ریاستی اور عالمی صورتحال پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔اجلاس میں ریاست جموں و کشمیر کے عوام اور ریاست
دعوتِ دین میں ناجائز ذرائع سے پرہیز کے بارے میں علامہ یوسف بنوری کی ایک اہم نصیحت تمام مذہبی اور مذہبی سیاسی جماعتوں کے پیش نظر رہنی چاہئے ، وہ فرماتے ہیں کہ اس سلسلے میں، میں ایک اصولی بات
سعودی عرب اورایٹمی طاقت پاکستان کے درمیان ریاض میں جامع دفاعی معاہدہ ہوگیا ۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور وزیراعظم شہباز شریف نے پاک سعودی ’’اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے‘‘ (SMDA) معاہدے پر دستخط کئے۔ مشترکہ اعلامیے میں کہا
اللہ کے محبوبﷺ کو مدینہ سے آنے والے قافلے کی اطلاع مل چکی تھی۔ یہ سن 13نبوی کا واقعہ ہے۔ مدینہ سے 72 مرد اور 2خواتین پر مشتمل انصار کا قافلہ حضرت مصعب بن عمیر کی سربراہی میں زیارت نبیﷺ
دوحہ میں پیر 15ستمبر کو منعقدہ ہنگامی عرب اسلامی سربراہی اجلاس نے اپنے مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل کے حالیہ حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے قطر کی خودمختاری پر کھلا حملہ اور عالمی قانون کی صریح خلاف ورزی قرار
ان کا انتقال 12 ستمبر 2010ء کو ہوا،آج ان کے انتقال کو 15برس بیت چکے ،وہ مرد حق،مردقلندر صاحب نسبت بزرگ تھے، ایک ایسے اللہ والے بزرگ کہ جنہیں دیکھ کر خدا یاد آجاتا تھا،اس خاکسار پہ ان کی شفقتیں