
دیمک کہانی
نہ جگنو کی سی پرنور ادا ، نہ تتلی جیسے خوش رنگ پنکھ، نہ طائوس جیسی شوقِ خود نمائی، اور نہ کوئل جیسی نغمہ سرائی، نہ طاقتِ پرواز اور نہ ہی حسرتِ پرواز۔ روشنیوں سے دورگہری تاریکیوں میں رہنے والی

نہ جگنو کی سی پرنور ادا ، نہ تتلی جیسے خوش رنگ پنکھ، نہ طائوس جیسی شوقِ خود نمائی، اور نہ کوئل جیسی نغمہ سرائی، نہ طاقتِ پرواز اور نہ ہی حسرتِ پرواز۔ روشنیوں سے دورگہری تاریکیوں میں رہنے والی

حضرت امام حسین ؓنے جب شمع بجھا کر جانے والوں کو موقع دیا تو کسے معلوم تھا کہ اس کے بجھتے ہی اندھیرا نہیں، ایسا اجالا پھیلے گا جووہاں موجود فدا ئیانِ حسین ؓ کے دلوں کو منور کرتا چلا

والد کو یاد کرنے کا بھی عالمی دن آگیا۔ یہ دن ان بد قسمت لوگوں کے لئے تو ایک خبر ہو سکتا ہے جو جیتے جی اپنے والدین کو کسی آرام گاہ میں منتقل کر دیتے ہیں۔یہ دنیا کے وہ

یار طرح دار نے خاصی جدوجہد کے بعد خود کو کرسی میں گھسایا اور بولا’’ اس بھاری بھرکم جثے کا کو ئی علاج ہے‘‘؟میری اس دوست اور اس کی گھڑانما توند سے آشنائی کو اب عرصہ بیت چکا تھا۔ وقت

بھوک ایک ایسی کیفیت ہے جسے ہر نظام، مذہب اور خطے میں ناپسندیدہ اور قابلِ مذمت قرار دیا جاتا ہے۔ ازل سے انسان بھوک مٹانے کے لئے جدوجہد کرتا چلا آیا ہے اور بھوک ہی کی خاطر ایک دوسرے سے

تالیوں کی آواز میں ابو(عرفان صدیقی) کا نام’’ نشان امتیاز‘‘ کے لئے پکارا گیاتو دل میں مسرت کا اک جہان روشن ہوگیا ۔ یہ لمحات جہاں انتہائی باعثِ فخر تھے وہیں پرابو کی غیر موجودگی کی گہری کسک رگ جاں

اردو شاعری ہمیشہ سے فقط جذبات کے اظہار کا ذریعہ نہیں رہی بلکہ یہ قوموں کے ضمیر جگانے، حوصلہ بلند کرنے اور مشکل وقت میں امید کے چراغ روشن کرنے کا ایک طاقتور وسیلہ بھی رہی ۔ برصغیر کی تاریخ

بڑی سوچ بچار کے بعد اندازہ ہوا کہ بنیادی سہولیات سے محروم گائوں میں زندگی برس ہا برس سے کیسے رواں دواں ہے۔ یہ گائوں کا ایک خاص سماجی ڈھانچہ تھا جس نے گائوں کو خود انحصاری کا ایسا مرکز

یوں توپاکستان کے سب گائوں ہی اپنے ہیں مگر ’’اپنا گائوں‘‘ تو اپنا ہی ہوتا ہے۔ انسان سفر حیات میں کہیں بھی نکل جائے اسے اس گائوں کی مٹی ضرور کھینچتی ہے جہاں اس نے آباء کی پرخلوص محبتوں او

سرسید سکول ، مال روڈ راولپنڈی کا نام ذہن میں آتے ہی یادوں کے نہ جانے کتنے چراغ روشن ہو جاتے ہیں۔ کیا دن تھے وہ اور کیا لوگ تھے وہ جن کے آس پاس زندگی کا بیشتر وقت گزارنے