پی ٹی آئی کا مستقبل
عمران خان اور پی ٹی آئی کا سیاسی مستقبل کیا ہو گا؟ اس پر خوب بحث ہو رہی ہے اور سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے۔بانی پی ٹی آئی جب سے پابند سلاسل ہوئے ہیں،باہر کی دنیا سے ان کا
عمران خان اور پی ٹی آئی کا سیاسی مستقبل کیا ہو گا؟ اس پر خوب بحث ہو رہی ہے اور سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے۔بانی پی ٹی آئی جب سے پابند سلاسل ہوئے ہیں،باہر کی دنیا سے ان کا
کہتے ہیں سیاسی عدم استحکام ہو تو معاشی استحکام کبھی نہیں آ سکتا۔اخبارات اور ٹی وی چینلز پر یہ بات ہر روز ہوتی ہے۔مگر مجال ہے کسی اپوزیشن لیڈر پر کبھی اس کا کوئی اثر ہوا ہو۔جبکہ معاشی و سیاسی
پاکستانی سیاست میں ہمیشہ ہی سے چند خاندانوں کی اجارہ داری رہی ہے۔ان میں ایک بھٹو خاندان بھی ہے جو نصف صدی سے بھی زیادہ عرصے سے پاکستانی سیاست میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔سندھ سے تعلق رکھنے والا
پولیس،سرکار(حکومت)کاذیلی ادارہ ہےجس کا کام جرائم کی روک تھام اور امن و امان کی صورت حال کو برقرار اورقابو میں رکھنا ہے۔پولیس اپنے فرائض پولیس آرڈر 2002 ء کے تحت ادا کرتی ہے۔پولیس آرڈر 2002ء چاروں صوبوں میں نافذالعمل ہے۔پولیس
سیاست کا فلسفہ بھی عجیب ہے۔اس میں کسی پڑھائی لکھائی یا ڈگری کی ضرورت نہیں ہوتی۔کوئی بھی کسی رکاوٹ کے بغیر کامیاب ترین سیاستدان بن سکتا ہے۔گزشتہ 76 سالوں سے ہم پاکستان کی سیاست کو دیکھ رہے ہیں۔ان دہائیوں میں
مشہور ضرب المثل ہے نیم حکیم خطرہ جاں مراد یہ کہ ناتجربہ کار سے ہمیشہ کام بگڑنے کا اندیشہ رہتا ہے اور ایسا شخص جوکسی سند،ڈگری اور تجربے کے بغیرطب جیسے پیشے سے جڑ جائے تو اندازہ کیجئے کتنی انسانی
تیری یاد سے شروع ہونے والا پاکستان فلم انڈسٹری کا سفر نوے کی دہائی میں عروج کی پوری انتہائوں کو چھونے کے بعد اختتام پذیر ہو چکا تھا۔بس اِکا دکا فلمیں ہی بن رہی تھیں۔باکس آفس پر فلموں کی مسلسل
کرکٹ ایسا کھیل ہے جو گیارہ کھلاڑیوں پر مشتمل دو ٹیموں کے مابین کھیلا جاتا ہے۔یہ کھیل گیند اور بلے کا مرہون منت ہوتا ہے۔کرکٹ کا میدان بیضوی شکل کا ترتیب دیا جاتا ہے۔میدان کے عین وسط میں 2،2 گز
پاکستان تحریک انصاف دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر ملک گیر احتجاج کا پروگرام بنا رہی ہے۔در پردہ اس حوالے سے بہت سی تیاریاں ہو رہی ہیں۔زونل دفاتر کو متحرک کر دیا گیا ہے تاکہ حکومت کے خلاف بھرپور جلسوں،ریلیوں