سیرۃ النبیﷺ اور غلاموں کے حقوق
(گزشتہ سے پیوستہ) حضرت بلالؓ کہتے ہیں اس طرح اللہ تعالٰی نے میری جان بچا لی ورنہ یا تو میں کہیں دور دراز نکل جاتا اور یا غلام بنا لیا جاتا ۔بہرحال غلام بنانے کا ایک طریقہ یہ تھا کہ
(گزشتہ سے پیوستہ) حضرت بلالؓ کہتے ہیں اس طرح اللہ تعالٰی نے میری جان بچا لی ورنہ یا تو میں کہیں دور دراز نکل جاتا اور یا غلام بنا لیا جاتا ۔بہرحال غلام بنانے کا ایک طریقہ یہ تھا کہ
جناب نبی کریمؐ سے پہلے بھی غلاموں کا سلسلہ جاری تھا، غلام جانوروں کی طرح خریدے اور بیچے جاتے تھے اور ان سے کام لیا جاتا تھا۔ ہمارے ہاں تو یہ سلسلہ اسلام کے آغاز سے کچھ عرصہ بعد ہی
جنوبی ایشیا میں ’’ایسٹ انڈیا کمپنی‘‘ نے اپنے تسلط کا بنیادی ذریعہ معیشت میں دخل اندازی کو بنایا تھا جو دھیرے دھیرے کنٹرول کی صورت اختیار کر گئی اور پھر پورا برصغیر بتدریج ایسٹ انڈیا کمپنی کی غلامی میں چلا
(گزشتہ سے پیوستہ) دوسری گزارش یہ ہے کہ یہ مطالبات ہمارے لیے نئے نہیں ہیں، ہم اس سے قبل بھی اس قسم کے مطالبات کا سامنا کر چکے ہیں۔ حتیٰ کہ روشن خیالی اور اعتدال پسندی کا یہ ایجنڈا خود
(گزشتہ سے پیوستہ) ان گزارشات کے بعد میں آپ حضرات کو اس طرف توجہ دلانا چاہوں گا کہ آج کی روشن خیالی اور اعتدال پسندی کا عملی ایجنڈا کیا ہے اور اس خوبصورت نعرے کے ذریعے ہم سے جو عملی
روشن خیالی اور اعتدال پسندی دو خوبصورت اصطلاحیں ہیں، جو اپنے لغوی مفہوم و معنی کے اعتبار سے بہت بہتر اور خوب ہیں اور اسلام کے مزاج کا حصہ ہیں۔ قرآن کریم میں یہ کہا گیا ہے کہ اسلام لوگوں
(گزشتہ سے پیوستہ) جنرل اسمبلی یہ اعلان کرتی ہے کہ انسانی حقوق کا یہ عالمی منشور تمام اقوام کے واسطے حصول مقصد کا مشترک معیار ہوگا تاکہ ہر فرد اور معاشرے کا ہر ادارہ اس منشور کو ہمیشہ پیش نظر
دس دسمبر کو دنیا بھر میں انسانی حقوق کا دن منایا گیا۔ ۱۹۴۸ء میں آج کے دن اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے انسانی حقوق کے اس چارٹر کی منظوری دی تھی جسے آج کی دنیا میں بین الاقوامی قانون
اقوام متحدہ کی صورتحال یہ ہے کہ اس میں فیصلوں کی اصل قوت سلامتی کونسل کے پاس ہے اور سلامتی کونسل کی چابی ویٹو پاور رکھنے والے پانچ ممالک کے ہاتھ میں ہے اور عملاً ان پانچ ممالک کی مرضی
پہلی جنگ عظیم کے بعد ”انجمن اقوام“ کے نام سے ایک عالمی تنظیم کا قیام عمل میں لایا گیا تھا، جس کا مقصد اقوام و ممالک کے درمیان جنگ کو روکنا اور متحارب اقوام و ممالک کو اس بات پر