Search
Close this search box.
اتوار ,07 جون ,2026ء

اقوام متحدہ، انسانی حقوق کا چارٹر اور عالمِ اسلام

پہلی جنگ عظیم کے بعد ”انجمن اقوام“ کے نام سے ایک عالمی تنظیم کا قیام عمل میں لایا گیا تھا، جس کا مقصد اقوام و ممالک کے درمیان جنگ کو روکنا اور متحارب اقوام و ممالک کو اس بات پر آمادہ کرنا تھا کہ وہ باہمی تنازعات کو جنگ کی بجائے بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد خلافت عثمانیہ ختم ہو گئی تھی، جو دنیائے اسلام کے لیے اعصابی مرکز کی حیثیت رکھتی تھی اور عالمی فورم پر مسلمانوں کی نمائندگی کیا کرتی تھی، اس لیے ”انجمن اقوام“ کی قیادت عملاً ان ممالک کے ہاتھ میں تھی جو پہلی جنگ عظیم کے فاتح تھے۔ اور فاتح ہونے کا تصور ان کے ذہنوں میں راسخ ہو چکا تھا، جس کی وجہ سے وہ دنیا کو ایک اور بڑی جنگ سے نہ روک سکے اور تمام معاملات کو اپنی مرضی اور ایجنڈے کے مطابق چلانے کی دھن نے خود انہیں دوسری عظیم جنگ کی طرف دھکیل دیا۔
دوسری جنگ عظیم ”انجمن اقوام“ کی ناکامی کی واضح علامت تھی، اس لیے اس کے ساتھ ہی وہ بھی تحلیل ہو گئی اور ایک اور عالمی ادارے کے قیام کی داغ بیل ڈالی گئی جو ”اقوام متحدہ“ کے نام سے اب تک موجود ہے اور عالمی سطح پر مسائل کو اپنی ترجیحات کے مطابق ڈیل کر رہی ہے۔ اقوام متحدہ کا قیام ۱۹۴۵ء میں عمل میں لایا گیا۔ اس کا بنیادی مقصد بھی اقوام و ممالک کے درمیان جنگ کے امکانات کو روکنا اور باہم متحارب ممالک و اقوام کو اپنے تنازعات باہمی مذاکرات اور گفت و شنید کے ذریعے طے کرنے پر آمادہ کرنا تھا۔ لیکن چونکہ اس کی قیادت بھی دوسری جنگ عظیم کے فاتحین کے ہاتھ میں تھی اور اس کے اہداف، تنظیم اور طریق کار کے تعین میں وہی فیصلہ کن حیثیت رکھتے تھے، اس لیے انہوں نے اس مقصد کے ساتھ دنیا پر اپنے غلبہ کو مستحکم کرنے، اسے اپنی تہذیبی بالادستی کی شکل دینے اور اس عالمی ادارے کے ذریعے پوری دنیا پر بالواسطہ اپنی حکمرانی قائم کرنے کو بھی اس کے اہداف میں شامل کر لیا اور انسانی حقوق کے چارٹر سے لے کر عسکری ٹیکنالوجی میں بالادستی اور اجارہ داری تک تمام معاملات اس انداز میں طے کیے کہ عملی کنٹرول انہی کے ہاتھ میں رہے اور وہ جس بات پر متفق ہو جائیں اسے اقوام متحدہ کے نام سے پوری دنیا کا متفقہ فیصلہ قرار دے کر اس کی چھتری تلے اسے عملی جامہ پہنا دیں۔
عالم اسلام کی صورت اقوام متحدہ کے قیام کے وقت کچھ اس طرح تھی کہ ترکی کی خلافت عثمانیہ، جس نے صدیوں تک مسلم امہ کی قیادت اور عالمی فورم پر ملت اسلامیہ کی مسلسل نمائندگی کی تھی، تحلیل ہو چکی تھی اور دنیا کے بیشتر مسلم ممالک برطانوی، فرانسیسی، ولندیزی اور پرتگیزی استعماروں کے زیر تسلط تھے، اس لیے اقوام متحدہ کی تشکیل اور اس کے تنظیمی ڈھانچے اور پالیسیوں کی ترتیب و تدوین میں مسلم امہ کی معتد بہ اور متوازن نمائندگی موجود نہیں تھی۔ جس کے باعث بہت سے ایسے خلا باقی رہ گئے جو مسلم امہ کے مفادات اور موقف و جذبات سے مطابقت نہیں رکھتے تھے اور گزشتہ ساٹھ برس سے امت مسلمہ مسلسل اس حوالے سے نقصانات کا سامنا کر رہی ہے۔
اگر عالم اسلام کے مسائل، مشکلات اور ان کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی گزشتہ ساٹھ سال کی کارکردگی کا ریکارڈ سامنے رکھا جائے تو یہ بات سمجھنا مشکل نہیں رہے گی کہ عالم اسلام کو نظرانداز کرنے بلکہ دبا کر رکھنے، اس کو مسلسل مشکلات و مسائل سے دوچار رکھنے اور منتشر و کمزور رکھنے کو اقوام متحدہ کی پالیسیوں اور طریق کار کی پشت پر کار فرما اصل عوامل کی حیثیت حاصل رہی ہے اور اس کا تسلسل اب بھی بدستور جاری ہے، مگر دنیا کے مسلم ممالک اسلامی سربراہ کانفرنس تنظیم کے نام سے متحد ہونے کے باوجود اس سلسلہ میں کوئی واضح اور مؤثر آواز بلند کرنے میں پیش رفت نہیں کر سکے۔ حتیٰ کہ اب سے دس برس قبل اقوام متحدہ کی پچاس سالہ تقریبات کے موقع پر ملائیشیا کے اس وقت کے وزیر اعظم جناب مہاتیر محمد نے مسلم حکومتوں کے سامنے تجویز رکھی تھی کہ وہ ان تقریبات کا بائیکاٹ کر کے اپنا دباؤ منظم کریں اور اقوام متحدہ کے نظام میں ضروری اصلاحات کے لیے آواز اٹھائیں تو اسے مسلم دنیا میں پذیرائی نہ ملی اور اصلاح احوال کے لیے کوشش کا یہ مناسب موقع بھی ضائع ہو گیا۔
اقوام متحدہ کی صورتحال یہ ہے کہ اس میں فیصلوں کی اصل قوت سلامتی کونسل کے پاس ہے اور سلامتی کونسل کی چابی ویٹو پاور رکھنے والے پانچ ممالک کے ہاتھ میں ہے اور عملاً ان پانچ ممالک کی مرضی کے بغیر پوری اقوام متحدہ کوئی فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ یہ صورتحال دنیا بھر کے ترقی پذیر ممالک، بالخصوص عالم اسلام کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے اور عالم اسلام کے لیے اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ اور توہین آمیز معاملہ یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے پالیسی میکر حلقے مسلم امہ کا اسلامی تشخص قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور اس کی دلیل صرف یہ ہے کہ چونکہ مغربی دنیا نے مذہب کے معاشرتی کردار سے دست برداری اختیار کر لی ہے اور اسے قومی اور سیاسی معاملات سے بے دخل کر دیا ہے، اس لیے باقی ساری دنیا کو بھی یہی فلسفہ اختیار کرنا چاہیے اور عالم اسلام کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ مغرب کی طرح مذہب کے معاشرتی کردار سے دست بردار ہو کر سیکولر فلسفہ حیات کو قبول کرے۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں