حضرت آدم ؑکی تخلیق اور نسل انسانی
اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو اپنے دست قدرت سے پیدا کیا اور ان میں روح پھونکی۔ حضرت آدمؑ کو خلیف اللہ کے طور پر دنیا میں بھیجا گیا تاکہ وہ اللہ کے احکامات کے مطابق زندگی گزاریں اور نسل
اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو اپنے دست قدرت سے پیدا کیا اور ان میں روح پھونکی۔ حضرت آدمؑ کو خلیف اللہ کے طور پر دنیا میں بھیجا گیا تاکہ وہ اللہ کے احکامات کے مطابق زندگی گزاریں اور نسل
آج کی دنیا بڑی تبدیلیوں کا سامنا کر رہی ہے، اور لوگ مستقبل کے بارے میں گہری بے یقینی محسوس کرتے ہیں۔ ہم ایک ایسے دور کے دہانے پر کھڑے ہیں جسے لوگ قیامت کے قریب کا وقت سمجھتے ہیں۔
دنیا کے ہر دور میں آزمائشیں اور فتنے انسانیت کے لیے بڑی ابتلا کا سبب بنے ہیں، لیکن آخر زمان کا دور وہ ہوگا جس میں فتنے اپنی شدت اور وسعت میں بے مثال ہوں گے۔ ان فتنوں کا ذکر
یاجوج و ماجوج کے بارے میں یہ روایت عام ہے کہ ذو القرنین نے دو پہاڑوں کے درمیان ایک مضبوط دیوار بنا کر انہیں قید کر دیا تھا، اور یہ آخری زمانے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے
برطانیہ اور یورپ صنعت انقلاب کے ساتھ ایشیاء اور افریقہ کے ممالک پر قبضہ رکے ان کے سارے وسائل لوٹ کر لے گئے اور اس طرح لوٹ مار کرکے ماد ترق کے قائد بن گئے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد،
قرآن مجید میں سورہ الکہف میں بیان کیے گئے قصہ اصحابِ کہف میں آج کے دور اور حالات میں ہمارے لئے اور خاص کر نوجوان نسل کے لئے بہترین رہنمائی موجود ہے۔ سورہ کہف میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور
حضرت جلال الدین رومی ؒ فقیہ وقت عالم باعمل اور اللہ کے مقربین صاحب کرامت ولی اللہ تھے۔ جن کے چاہنے والوں اور شاگردں کا سمندر آٹھ سو سال سے رواں دواں ہے اور دنیا بھر کے دانش مند ہر
اللہ سبحانہ تعالیٰ کا فرمان اور کرامت انسان اور قرآن کابیان، ولقدکرمنا بنِی آدم وحملناہم فِی البرِ والبحرِ ورزقناہم مِن الطیِباتِ وفضلناہم عل کثِیر مِمن خلقنا تفضِیلاً (سورہ الاسراء 70 ) اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا
حضرت عزیز محمود اودائی چیف جسٹس سے درویش بنے اور پھر درجہ ولایت پر فائض ہو کر وقت کے بہت عظیم صاحب کرامت ولی اللہ بنے۔ ان کی زندگی کا وہ واقعہ جس میں ان کی روحانی تبدیلی کا آغاز
اللہ تعالیٰ نے انسان کو تمام مخلوقات میں بلند مقام عطا کیا ہے، جس کا ذکر قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں بار بار آیا ہے۔ انسان کے اس بلند مقام کو سمجھنا اور اپنی صلاحیتوں کو صحیح معنوں میں