حضرت جلال الدین رومی ؒ فقیہ وقت عالم باعمل اور اللہ کے مقربین صاحب کرامت ولی اللہ تھے۔ جن کے چاہنے والوں اور شاگردں کا سمندر آٹھ سو سال سے رواں دواں ہے اور دنیا بھر کے دانش مند ہر دور میں آپ کی تعلیمات سے فیض یاب ہوتے چلے آرہے ہیں۔ آپ کی نادر کتابوں کے ترجمے دنیا بھر کی زبانوں میں متعدد مسلم اور غیر مسلم سکالرز کرتے چلے آرہے ہیں۔ آپ کے مزار مبارک پر دنیا بھر کی خاص و عام علم اور اہم شخصیات بڑی تعداد میں روزانہ حاضر دے کر روحانی راحت و سکون پاتے ہیں۔
مسلمان سنی و شیعہ ، عیسائی اور دیگر مذاہب کے لوگ جوق درجوق زیارت کے لئے آتے ہیں۔ حکمران ڈپلومیٹس ، علمی اور فلمی دنیا کی اہم شخصیات سب حضرت رومی ؒکی حاضری سے فیض یاب ہوتے ہیں ،ہزاروں کتابیں مختلف زبانوں میں آپ کی ذات اور آپ کی مثنوی اور دیگر کتابوں پر مسلسل لکھ جارہی ہیں۔ معروف عالم اور ادیب احمد افلاقی نے حضرت مولانا جلال الدینؒ کے بارے میں درج ذیل واقعہ اپنی تصنیف ’’عارفون کی حکمت‘‘میں لکھا ہے کہ ہمارے بزرگ احباب نے بیان کیا کہ شہر تبریز سے ایک معزز، امیر اور نیک تاجر آیا اور ’’شکر فروشوں ‘‘کے کاروان سرائے میں ٹھہرا۔ ایک دن اس نے قونیہ کے تاجروں سے پوچھا اس شہر میں ایک اللہ والے بڑے شیخ اور عالم ہیں ۔ میں چاہتا ہوں کہ ان کی زیارت کا شرف حاصل کروں، ان کے پاس بیٹھنے اور ان کے مفید کلام اور نصیحتوں سے مستفید ہونے کی سعادت حاصل کروں۔ میں بڑے عالم اور متقی شیخ کا دیدار کرنا چاہتا ہوں۔
تاجروں نے کہا تم جس شخص کی تلاش کر رہے ہو وہ ایک ایسا آدمی ہے جو ایک اچھے گھوڑے پر سوار ہو، اور خدا کی محبت کے علاوہ تمام مادی چیزوں کی لذتوں کو ترک کر چکا ہے، وہ خدا کی عبادت میں مشغول ہے، وعظ کرتا ہے اور علم الٰہی پھیلاتا ہے وہ علم کاایک سمندر ہے اور اس کا نام مولانا جلال الدین ہے۔ جو ہر خاص و عام کا محبوب ہے۔
تبریز کے سوداگر نے بڑی تڑپ کے ساتھ کہا ’’میری رہنمائی کرو اور مجھے اس شیخ کے پاس لے چلو۔ کچھ تاجر اس کی رہنمائی کر کے مولانا کی مجلس میں لے گئے، تاجر نے پچاس دینار سونے کے سکے بھی اپنے کپڑے کے کونے میں باندھے اور اپنے ساتھ لے گئے۔ جب وہ مولانا کے مدرسے میں داخل ہوئے تو مولانا اکیلے بیٹھے اللہ کے ذکر میں مشغول تھے، تمام تاجر ان کے سامنے شائستگی اور احترام سے سر جھکائے بیٹھ گئے اور مولانا کی صرف ایک نظر تبریزی سوداگر پر پڑی اور اس کی عقل کو حیرانی ہوئی اور اس نے بے ساختہ رونا شروع کردیا اور بے خود ہو گیا۔ پھرمولانا کی توجہ سے وہ مطمئن ہوا اور ان کو اپنے نقصانات کی شکایت کی اور ان سے رہنمائی طلب کی۔ اس نے کہا میں ہر سال ضرورت مندوں کو زکوٰۃ دیتا ہوں اور اپنی وسعت کے مطابق صدقہ کرتا ہوں لیکن پھر بھی نقصان اٹھا رہا ہوں۔‘‘
مولانا نے کہا آپ کے پاس پچاس دینار اللہ کی راہ میں قبول ہوئے، آپ کسی ضرورت مند کو دے دیں ہیں، آپ پر ایک آفت آنے والی تھی، لیکن اس مجلس میں آپ کی موجودگی سے اللہ تعالیٰ نے آپ کی مغفرت فرما دی، اور آپ اس مصیبت سے بچ گئے۔ مایوس نہ ہوں۔’’کیونکہ اب آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔‘‘سوداگر مولانا کی بات سے حیران اور خوش ہوا۔ پھر مولانا نے فرمایا یہ نقصان تمہیں اس لیے پہنچاہے کہ ایک دن آپ مغرب کے ایک بازار کے شروع سے گزرے، یعنی فرنگستان سے وہاں ایک فرنگی درویش جو بڑے اولیاء میں سے تھا سو رہا تھا، آپ نے اس پر تھوکا۔ جس سے اس مبارک ولی کے دل کو آپ نے زخمی کیا۔ اس لیے آپ کو یہ مصیبتیں اور نقصان اٹھانا پڑا، اب جا کر اس سے معافی مانگو۔
سوداگر حیران و متاثر ہوا اور کہنے لگا آپ کو یہ کیسی قدرت حاصل ہے، مولانا نے فرمایا ’’اگر تم ابھی دیکھنا چاہتے ہو تو دیکھ لو‘‘اور اپنا دست مبارک دیوار پر مارا۔ دیوار کھلی تو سوداگر نے فرنگی درویش کو فرنگستان کے بازار میں ایک بنچ پر سوتے ہوئے دیکھا، اس نے فورا ًاپنا سر جھکا لیا اور رونے لگا، اس نے اپنے کپڑے پھاڑ دئیے اور مولانا کی خواہش کے مطابق فرنگی درویش کی طرف چل پڑا ۔ جب وہ اس جگہ پہنچا تو فرنگی درویش کو بالکل اسی جگہ سوتا ہوا پایا جس جگہ مولانا نے اسے دکھایا تھا اور تاجر نے فرنگی درویش کو سلام کیا اور مولانا کا سلام پہنچایا۔
فرنگی درویش نے کہا اگر مولانا کی طرف سے نہ آتے تو تمہیں خدا کی قدرت دکھا دیتا، اب قریب آ ’’اور سوداگر کو گلے لگا کر بوسہ دیا اور اس پر طرح طرح کے احسانات کئے۔ درویش نے سوداگر سے کہا اب اپنے شیخ مولانا کی زیارت کرو، تاجر نے دیکھا کہ مولانا مدرسہ میں مشغول ہیں اور یہ پڑھنے کے لطف میں مگن ہیں‘‘ خدا کی ایک اعلیٰ بادشاہی ہے جہاں ہر چیز موجود ہے، چاہے وہ یاقوت ہو یا سنگ مرمر، مٹی ہو یا پتھر، اگر تم مومن ہو تو وہ تمہاری تلاش کرے گا اور اگر تم کافر ہو تو وہ تمہیں تمہارے کفر سے پاک کر دے گا۔
فرنگی درویش نے اسے کہا اب جائو اور مولانا کو میرا سلام پہنچا۔ جب سوداگر قونیہ واپس آیا تو اس نے مولانا کو فرنگی کا سلام پہنچایا۔ دوستوں میں بے شمار تحائف تقسیم کئے اور مستقل طور پر قونیہ میں سکونت اختیار کی اور مولانا کے عقیدت مند محبت کرنے والے شاگردوں میں شامل ہوگیا۔ حدیث قدسی مطابق اتقوا فِراسۃ المومِن ، فِانۃ ینظر بِنورِ اللہِ ترجمہ: مومن کی فراست سے بچو، کیونکہ وہ خدا کے نور سے دیکھتا ہے۔