Search
Close this search box.
هفته ,20 جون ,2026ء

کرامت و شرف انسان اورقرآن مجید

اللہ سبحانہ تعالیٰ کا فرمان اور کرامت انسان اور قرآن کابیان، ولقدکرمنا بنِی آدم وحملناہم فِی البرِ والبحرِ ورزقناہم مِن الطیِباتِ وفضلناہم عل کثِیر مِمن خلقنا تفضِیلاً (سورہ الاسراء 70 ) اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس نے بنی آدم یعنی انسانوں کو عزت بخشی ہے اور انہیں خشکی اور سمندر میں سوارکیا، اور انہیں پاکیزہ رزق عطا کیااورانہیں اپنی مخلوقات میں سے بہت سی مخلوقات پر فضیلت دی۔ اس آیت میں بنی آدم کا لفظ استعمال ہوا ہے، جو پوری انسانیت کا احاطہ کرتا ہے، چاہے وہ مومن ہو، کافر ہو مشرک یا ملحد۔
اس آیت کی روشنی میں مومن، کافر،مشرک اور ملحد کی بحیثیت انسان تکریم کا ذکر آیا ہے۔ جو پوری انسانیت کو شامل کرتا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ نے ہر انسان کو، چاہے وہ مومن ہو،کافر ہو مشرک یا ملحد، عزت اور فضیلت دی ہےاور انہیں پاکیزہ رزق عطا کیا ہے۔ یہ دنیاوی نعمتیں اللہ کی طرف سے ہر انسان کودی گئی ہیں اوراس میں مذہب کی تخصیص یا تفریق نہیں کی گئی۔تاہم قرآن اور احادیث کی روشنی میں یہ دنیاوی تکریم اورنعمتیں انسانوں کے اعمال اورعقائد کی بنیادپر آخرت میں مختلف نتائج کوجنم دیں گی۔ یہاں یہ اہم ہےکہ اللہ کی دنیاوی عنایات جیسےرزق اوردیگر جسمانی نعمتیں، ایمان یاکفر کی بنیاد پر عطا نہیں کی جاتیں بلکہ یہ اللہ کی رحمت کاعمومی اظہارہے۔تاہم دنیا کےبعد آخرت میں مومن، کافر، مشرک اور ملحد کا انجام اس کے ایمان اور اعمال کے مطابق ہوگا۔
اللہ سبحانہ تعالیٰ نے انسان کو شرف کرامت خاص طور پرعطافرمایا۔ اس لئے انسان کو دنیا میں یہ اختیار دیا کہ وہ ایمان وکفر میں سے اپنی مرضی کا راستہ اختیار کرے۔ اسے مجبور نہیں بلکہ مختار بنا کر آزادی اختیار دی گئی۔ اس لئے یوم حساب کا قیام ہوگا جو انصاف و عدل پر قائم ہوگا اور سزا و جزا کے فیصلے ہوں گے۔
مومن وہ ہے جو اللہ کی وحدانیت، رسالت اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے اور نیک اعمال کرتا ہےاورحرام وحلال حدودکا پاس اور لحاظ کرتا ہے۔ قرآن میں جگہ جگہ یہ ذکر ہے کہ مومنین کے لیے جنت کے باغات ہوں گے، جہاں انہیں انعامات سے نوازا جائے گا اور بہترین جزا دی جائے گی۔
اِن الذِین امنوا وعمِلوا الصلِحتِ کانت لہم جنت الفِردوسِ نزلا (سورۃ الکہف: 107 ) ترجمہ: ’’جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کئے، ان کے لئے فردوس کے باغات مہمانی ہوں گے۔‘‘
کافرو مشرک ملحد اور منافق کا انجام ان اپنے اختیار کردہ اعمال کے مطابق ہوگا۔ کافر وہ ہے جو اللہ کا انکار کرتا ہے اور آخرت کو نہیں مانتا ۔ اس طرح منافق وہ ہے جو ظاہر اپنے کو مسلمان شو کرتا ہےلیکن دل سے اللہ اور دین کا انکار کرتا ہے۔ مشرک وہ ہے جو اللہ کے ساتھ ایمان و اعمال میں اوروں کو شریک کرتا اور توحید کاملہ پر ایمان نہیں رکھتا۔یہ سب کافر ہیں اورقرآن میں کافروں کے لیے سخت عذاب کی خبر دی گئی ہے۔-
اِن الذِین کفروا وظلموا لم یکنِ اللہ لِیغفِر لہم ولا لِیہدِیہم طرِیقا (سورۃ النساء 168 )
ترجمہ: ’’بیشک جن لوگوں نے کفرکیا اور ظلم کیا اللہ ہرگز ان کو معاف نہیں کرے گا اور نہ انہیں کوئی راہ دکھائے گا۔‘‘ ملحد وہ ہے جو نہ صرف اللہ کا انکار کرتا ہے بلکہ کسی مافوق الفطرت حقیقت پر ایمان نہیں رکھتا۔ قرآن میں ایسے لوگوں کو بھی کافروں کے زمرے میں رکھا گیا ہے اور ان کے لیے آخرت میں عذاب کا ذکر ہے۔ والذِین کفروا وکذبوا بِآیاتِنا ولئکِ صحاب الجحِیمِ(سورۃ المائدہ: 10)
ترجمہ: ’’اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا وہ جہنم والے ہیں۔‘‘ عمومی نعمتیں اور آخرت کا فرق اللہ تعالی کی دنیاوی نعمتیں، جیسے رزق، صحت اور دنیاوی فضیلت، تمام انسانوں کو عطا کی جاتی ہیں، اس میں کوئی تفریق نہیں ہے کہ وہ مومن ہیں یا کافر۔ لیکن آخرت میں اللہ کا انعام اور عذاب ان کے ایمان اور اعمال کی بنیاد پر ہوگا۔ دنیا میں ملنے والی عزت اور رزق آخرت کی کامیابی یا ناکامی کی ضمانت نہیں ہیں، بلکہ آخرت کا انحصار ایمان اور نیک اعمال پر ہے۔نبی اکرم ﷺ کی احادیث میں بھی اسی بات کی تاکید ملتی ہے کہ دنیاوی زندگی میں اللہ کی نعمتیں سب کو ملتی ہیں، لیکن آخرت کا اجر و سزا ایمان اور اعمال کی بنیاد پر دیا جائے گا۔ ایک حدیث میں فرمایا گیا-
اِن الدنیا سِجن المومِنِ وجنۃ الکافِرِ(صحیح مسلم) ترجمہ: ’’دنیا مومن کے لیے قید خانہ ہے اور کافر کے لیے جنت۔‘‘
یہ حدیث واضح کرتی ہےکہ مومن کی حقیقی منزل آخرت ہے۔ اور اصل ابدی زندگی اور نعمتیں اللہ کی رحمت کے ساتھ اور اس کے نیک اعمال کے مطابق آخرت میں ملیں گی۔ جبکہ کافر کے لیے دنیا ہی ایک وقتی خوشی ہے، لیکن آخرت میں ان کا برا انجام اور سخت عذاب ہوگا۔ عقل و دانش اور خوش بختی کا تقاضا ایمان اعمال اورآخرت کی فکر میں ہے۔

یہ بھی پڑھیں