Search
Close this search box.
هفته ,20 جون ,2026ء

دولت کی حکمرانی اور عالمی انسانی غلامی

برطانیہ اور یورپ صنعت انقلاب کے ساتھ ایشیاء اور افریقہ کے ممالک پر قبضہ رکے ان کے سارے وسائل لوٹ کر لے گئے اور اس طرح لوٹ مار کرکے ماد ترق کے قائد بن گئے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد، استعماری اور سامراجی طاقتوں نے بظاہر ایشیاء اور افریقہ کے ممالک کو آزاد کر دیا، لیکن یہ آزادی محض ظاہری تھی۔ حقیقت میں، ان اقوام کو معاشی اور مالیاتی شکنجوں میں جکڑ کر ان پر اپنی گرفت برقرار رکھی گئی۔ ان ممالک نے عالمی بینکنگ اور مالیاتی ادارے بنا کر ان کے ذریعے قرضوں کے جال میں پھنسا کر ان قوموں کو نئے انداز غلامی میں دھکیل دیا، جس کے نتیجے میں یہ ممالک آزاد ہونے کے باوجود مالیاتی اداروں کے غلام بن گئے اور اس سے نکلنے میں آج تک ناکام ہیں۔ مسلمان ممالک بالخصوص اس سودی نظام کے باعث بے بسی کا شکار ہیں۔
اللہ تعالیٰ کے واضح احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ذلت اور رسوائی کا سامنا کر رہے ہیں، اور بدقسمتی سے انہیں اس کا ادراک نہیں ہے۔ ایمان کی کمزوری اور شیطانی دھوکے نے آج کے مسلمان حکمرانوں اور عوام کو اپنی اصل تہذیب اور تاریخ بھلا دی ہے۔ انہیں یاد ہی نہیں کہ خالد بن ولید نے محض 15 ہزار مخلص مجاہدین کے ساتھ اس وقت کی دو سپر پاورز یعنی روم اور فارس کی دو لاکھ سے زائد افواج کو شکست دی تھی، جو اعلیٰ ترین اسلحہ اور وسائل سے لیس تھیں اور یہ سب اسلام کے ظہور سے بیس سال کے اندر سچے ایمان کے ساتھ اللہ کی طاقت و رحمت سے ہوا ۔
آج کے مسلمان اور ان کے حکمران دین سے دور ہونے کے باعث استعماری اور سامراجی طاقتوں کے غلام بن گئے ہیں۔ وہ سامراجی طاقتوں کے خلاف مزاحمت کی کوشش کرتے ہیں تو اقتصادی پابندیاں ان کو مزید پسماندگی میں دھکیل دیتی ہیں۔ ایسے میں جب یہ ممالک قرضوں کی قسطیں منظور کرواتے ہیں، اسے کامیابی سمجھ کر جشن مناتے ہیں، حالانکہ یہ غلامی کی زنجیر ہے جس سے وہ آزاد نہیں ہو پا رہے۔آج کا عام انسان بھی قرضوں، بلوں اور ٹیکسوں کے بوجھ تلے دب چکا ہے۔ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف جیسے بین الاقوامی مالیاتی ادارے، قوموں کو اپنی شرائط پر مجبور کرتے ہیں اور انحراف کی صورت میں پابندیاں لگائی جاتی ہیں۔ یوں حکومتیں اور عوام مالیاتی غلامی میں مبتلا ہیں۔یہ سرمایہ دارانہ نظام، جو جدید استعماری طاقتوں کی توسیع ہے، انسانی تہذیب کے زوال کا باعث بن رہا ہے۔ مادی ترقی کی دوڑ نے انسان کو اس کی روحانی آزادی سے محروم کر دیا ہے، اور دولت چند ہاتھوں میں مرکوز ہو گئی ہے۔
عام آدمی اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے میں ناکام ہو چکا ہے، جس سے اس کی صحت، خاندانی زندگی اور اخلاقی اقدار بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔آج کا شیطانی ماڈرن ازم اور سرمایہ دارانہ نظام، دولت و مادیت کو خدا بنا چکا ہے اور اب ٹیکنالوجی کے انقلاب میں سوشل میڈیا کا اتنا اسیر بن گیا ہے کہ نارمل فیملی لائف بھی آرٹیفشل لائف بن چکی ہے۔ اس نے دین او ر علماء کو بے حیثیت کر دیا ہے۔ دین کا دعویٰ کرنے والے بھی اس فتنے کا شکار ہو کر دین داری کی بجائے دین فروشی میں مبتلا ہو چکے ہیں اور انہیں اس کا احساس تک نہیں ہے۔مادیت کی دوڑ میں دولت کے پجاری اس کی ہر حد کو کراس کرنے کے باوجود زیادہ سے زیادہ دولت جمع کرنے میں لگے، اس کی حد جاننا ہی نہیں چاہتے کہ کتنا کافی ہے؟
لاکھ پتی کروڑ پتی اور کروڑ پتی ارب پتی اور ارب پتی کھرب پتی بننے کی دوڑ میں پڑا ہے۔ ہمیں اس دھوکہ دہی اور مصنوعی زندگی سے نکل کر سادگی، کفایت شعاری اور نیکی کے راستے کو اپنانا ہوگا۔ اپنے وسائل کے اندر رہتے ہوئے زندگی گزارنے اور روحانی حقیقت کو پہچاننے میں ہی ہماری نجات ہے۔ ہمیں اپنی زندگی میں انفرادی اور اجتماعی سطح پر تبدیلی لانی ہوگی تاکہ سامراجی طاقتوں کے تسلط سے آزاد ہو سکیں اور ایک منصفانہ معاشرہ تشکیل دے سکیں۔ ہمیں مصنوعی ماڈرن ازم کا شکار ہونے کی بجائے، فطری نظام کی طرف پلٹنا ہوگا، زرعی پیداوار، مویشی پالنا، اور حلال تجارت کی طرف رجوع کرکے ہم اپنی معاشی خودمختاری حاصل کر سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہوئے اور اس کے احکامات کے تحت زندگی گزارنے سے ہم دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں