قرآن مجید میں سورہ الکہف میں بیان کیے گئے قصہ اصحابِ کہف میں آج کے دور اور حالات میں ہمارے لئے اور خاص کر نوجوان نسل کے لئے بہترین رہنمائی موجود ہے۔ سورہ کہف میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضرعلیہ السلام کا خاص ذکر بھی ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا علم لا محدود ہے اور اللہ تعالیٰ پر ایمان بالغیب، بلا سوال و دلیل اور بلا شک و شبہ ضروری ہے۔ جب نبی موسیٰ علیہ السلام نے اپنے ساتھ کے لوگوں سے کہا تھا کہ ان سے زیادہ علم رکھنے والا کوئی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو یہ بتانے کے لئے کہ ان کے علم سے بھی زیادہ علم رکھنے والے لوگ موجود ہیں، انہیں خضر ؑ سے ملاقات کا حکم دیا۔ چنانچہ وہ اللہ کے حکم کے مطابق حضرت خضر ؑ کو ملے اور ان سے کہا کہ مجھے بھی وہ علم سیکھائو جو اللہ نے آپ کو دیا ہے۔ حضرت خضرؑ نے کہا لیکن آپ صبر نہ کرسکیں گے اور ایسا ہی ہوا اور حضرت خضرؑ کے عجیب اقدامات پر حضرت موسیٰ خاموش نہ رہ سکے جس پر حضرت خضرؑ نے انہیں عجیب اقدامات کی وجہ بتائی اور ان کو جانے دیا۔
انبیاء علیہم السلام کا سارا علم اللہ کا عطا ہوتا ہے۔ وہ اپنی طرف سے نہیں بلکہ اللہ کی وحی اور الہام وکشف کے ذریعہ دئیے گئے علم و احکام اور ہدایات کو انسانوں تک پہنچاتے رہے سورہ الکہف میں اصحابِ کہف کے بیان میں تعلیمات، ایمان، صبر دعا اور اللہ کی قدرت کے بارے میں علم و عرفان میں پوشیدہ ہیں جو مومنوں کے لئے رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ ذیل میں ان تعلیمات کا خلاصہ پیش کیا جا رہا ہے۔
توحید کی اہمیت سورہ الکہف میں اصحابِ کہف کا قصہ توحید کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔ اس سورہ میں مذکور جوانوں نے اپنے ایمان کی حفاظت کے لئے مشرک معاشرے اور لادین بادشاہ کے ظلم و جبر سے بچنے کے لیے ایک غار میں پناہ لی اور یہ ثابت کیا کہ اللہ کے علاوہ کسی اور کی عبادت نہیں کرنی چاہیے اور ایمان حفاظت کے لئے حتیٰ کہ غار میں رہنے کو ترجیح دی جائے۔ کامل توکل۔ اللہ کی قدرت پر کامل بھروسہ کرنا جزو ایمان ہے۔ اصحابِ کہف کا واقعہ اللہ کی قدرت کا مظہر ہے۔ اللہ نے انہیں تین سو سال تک غار میں سلا کر رکھا اور پھر دوبارہ جگا دیا۔ اس سے یہ تعلیم ملتی ہے کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے اور اس کی قدرت کے آگے کوئی بھی چیز ناممکن نہیں۔
اصحابِ کہف کی کہانی تقدیر پر ایمان کی تعلیم دیتی ہے۔ اللہ نے ان کی تقدیر میں یہ واقعہ لکھا تھا اور وہ اس پر راضی رہے۔ اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہر حال میں اللہ کی تقدیر پر راضی رہنا چاہیے اور توکل کامل کرنا چاہئے۔
ایمان پر ثابت قدمی اور استقامت،سورہ الکہف میں یہ واضح درس ہے کہ کس طرح اصحابِ کہف کے جوانوں نے ظلم اور کفر کے ماحول میں بھی اپنے ایمان کو برقرار رکھا اور اللہ پر بھروسہ کیا۔ ان کے ایمان پر استقامت انہیں اللہ کے قریب کر کے اعلیٰ درجے کی محبوبیت پر فائز کردیا ۔ واقعہ اصحابِ کہف سے سبق ملتا ہے کہ مومن کو ہر حالت میں اپنے ایمان پر ثابت قدم رہنا چاہیے۔ وقت کی قدر و حقیقت غار میں اصحابِ کہف کا تین سو سال سے زیادہ کا عرصہ بحالتِ نیند گزارنا اور بیداری پر اس لمبے عرصے کا احساس تک نہ کرنا، بلکہ یہ محسوس کرنا کہ شائد آدھا دن سو گئے۔ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ حقیقتِ وقت کا اصل اللہ کے علم میں ہے۔ جیسا کہ آخرت کی زندگی وقت کی قید سے آزاد ہوگی۔ تاہم اس دنیا میں وقت کو ایک عظیم نعمت سمجھ کر اس کی قدر کرنا اور اس کا صحیح استعمال بہت ضروری ہے۔دعا کی طاقت اصحابِ کہف کے واقعہ میں دعا کی طاقت کا علم و یقین بتایا گیا ہے۔ انہوں نے اللہ سے دعا کے ساتھ مدد مانگی اور اللہ نے ان کی دعا قبول کی۔ اس سے یہ واضح تعلیم ملتی ہے کہ مومن کو ہر مشکل وقت میں اللہ سے دعا کرنی چاہیے۔ اصحابِ کہف نے اللہ سے ایمان اور کامل توکل کے ساتھ دعا کی اور ان کی دعا قبول ہوئی۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ مشکل وقت میں اللہ سے مدد مانگنی چاہیے اور وہ ضرور مدد کرتا ہے۔ لیکن دعا کامل یقین اور توکل کے ساتھ اور حضورِ قلب کے ساتھ مانگی جائے۔
آخرت کی یاد دہانی اور یقین اصحابِ کہف کی کہانی آخرت کی یاد دہانی ہے۔ تین سو سال کے بعد جاگنے پر انہیں وقت کا پتہ تک نہ چلا اور پھر حقیقت کا احساس ہوا کہ دنیا کی زندگی عارضی ہے اور اصل زندگی آخرت کی ہے۔علم کی طلب اور اہمیت قصہ اصحابِ کہف میں علم کی طلب اور اس کی اہمیت کا بھی بیان ہے۔ اللہ نے ان جوانوں کو علم اور حکمت عطا کی، جو کہ ہمارے لئے ایک سبق ہے کہ علم کی طلب ہر مومن کا فریضہ ہے۔ اللہ کی حکمت اور بندوں کا امتحان اللہ اپنے بندوں کو مختلف طریقوں سے آزماتا ہے۔ اصحابِ کہف کی آزمائش بھی اسی بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اللہ اپنے بندوں کو ایمان کی مضبوطی اور ثابت قدمی کے ذریعے آزماتا ہے۔ لہٰذا ہمیں مشکل حالات میں توکل کامل کا دامن تھامے رہنا چاہیے۔ نیکی کی ترغیب اصحابِ کہف کی کہانی نیکی کی ترغیب دیتی ہے۔ ان جوانوں نے نیکی اور حق کی راہ کو اپنایا اور اس میں ثابت قدم رہے جو کہ ہمارے لئے اور ہمارے نوجوانوں کے لئے ایک مثال ہے۔
یہ تعلیمات ہماری روزمرہ زندگی کے لئے رہنما اصول فراہم کرتی ہیں اور ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ ایمان، صبر اور اللہ پر توکل کے ساتھ مشکل وقت میں دعا کرنا ہماری زندگی کے بنیادی اصول ہونے چاہئیں۔ اس سورت کی ہر جمعہ کو تلاوت کی رسول اللہ ﷺ نے ہدایت فرمائی۔ اس طرح اس کی اول اور آخر دس آیات کو دجال کے زمانے میں اس کے فتنے سے بچنے کے لیے پڑھنے کی ہدایت نبویؐ ہے۔ اصحاب کہف کی دعا
ترجمہ: اے ہمارے رب ہم پر اپنی طرف سے رحمت نازل فرما اور ہمارے کاموں میں ہمیں ہدایت عطا فرما۔