Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

ڈاکٹر عثمان انور کی ایف آئی اے میں تعیناتی

ڈاکٹر عثمان انور انسپکٹر جنرل آف پولیس پنجاب کی حیثیت سے اپنا عہدہ بہت سی یادیں اور محبتیں چھوڑ کر پنجاب سےرخصت ہوگئے۔ان کامسکن اب اسلام آباد ہے۔جہاں فیڈرل انویسٹی گیشن اتھارٹی کےڈی جی (ڈائریکٹر جنرل) بنا دیئے گئے ہیں۔ ڈاکٹرصاحب نےاپنے نئے عہدے کاچارج بھی سنبھال لیااور اپنی نئی ذمہ داریوں سے عہدہ بر آ ہونے کے لیئے ہمہ تن مصروف ہوچکے ہیں۔ ڈاکٹرعثمان انور تین سال سے بھی زیادہ عرصہ پنجاب میں رہے اور آئی جی کی حیثیت سےجو خدمات سرانجام دیں وہ کبھی نہیں بھلائی جاسکیں گی۔کسی ادارے کو کوئی اچھا سربراہ مل جائے تو اس کی قسمت بدل جاتی ہے۔عثمان انور نے پنجاب پولیس کے سربراہ کی حیثیت سے ثابت کیا کہ وہ صرف پیشہ ور پولیس افسر ہی نہیں،اچھے منتظم اور بہترین انسان بھی ہیں۔انہوں نے فورس میں ایسی روایات قائم کیں اورایسی مثالیں چھوڑ گئےکہ اس پرایک ضخیم کتاب لکھی جاسکتی ہے۔ڈاکٹر عثمان انور نےآئی جی پنجاب کی حیثیت سے اپنی مدت ملازمت کے دوران وہ کر دکھایا جو کم ہی افسر کرتے ہیں۔یہ اعزاز بہت کم لوگوں کے حصےمیں آتا ہےکہ کسی کو اس کےاچھے کاموں اورکارکردگی کی وجہ سے یاد رکھاجائے۔پنجاب پولیس میں سپاہی سےلے کر اعلیٰ عہدے کے افسران تک سب ان سے مطمئن اور بہت خوش تھے۔وہ کارکردگی کے حامل سپاسی کو بھی اتنی ہی عزت اور تعظیم دیتے جس کاحق دار وہ کسی افسر کو سمجھتے تھے۔
اظہاریکجہتی اور تعزیت کے لئے شہداء کے گھروں میں جانا،ان کی مالی اعانت کرنا،شہدا کے بچوں کے تعلیمی معاملات کو دیکھنا،بچیوں کی شادیاں اور تمام تر کفالت کا ذمہ انہوں نے اپنے سر لے رکھا تھا۔چھوٹے سے چھوٹے معاملے تک بھی دیکھتے اور ان پرنظررکھتے۔ ہر ضروری بات کانوٹس لیناڈاکٹر عثمان انور کی سرشت میں شامل تھا۔انہوں نےانسپکٹر جنرل آف پولیس کی حیثیت سے جرائم کی بیخ کنی کے لئے بہت کام کیا۔پولیس انڈکس کے مطابق پنجاب میں سنگین جرائم کا گراف ان کے دورانیے میں بہت نیچے آیا۔ڈاکٹر عثمان انور کی جگہ اب گریڈ 21کے افسر رائو عبدالکریم کو انسپکٹر جنرل آف پولیس پنجاب کا عہدہ تفویض کیا گیا ہے جبکہ ٹرانسفر کے بعد ڈاکٹر عثمان انور اب ایف آئی اےکےڈائریکٹر جنرل کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں سنبھال چکے ہیں۔قوی خیال ہے پنجاب پولیس کی طرح ایف آئی اے کو بھی وہ ایک مثالی ادارہ بناکردم لیں گے اور اس حوالے سے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھیں گے۔ایف آئی اےوفاقی تحقیقاتی ادارہ ہےجووفاقی وزارت داخلہ کے زیر کنٹرول ہے۔یہ کثیر جہتی منظم جرائم پرنظررکھتا ہےان کےخلاف کارروائی اسکے ذمے ہے۔امیگریشن کا معاملہ ہو،غیرقانونی انسانی سمگلنگ یا وفاقی اداروں میں رشوت ستانی،بینکنگ اسکینڈلز،سائبرکرائم یا منی لانڈرنگ۔ان تمام امورکو ایف آئی اے ہی دیکھتا ہے، تحقیق و تفتیش اور ملزمان کی گرفتاری تک کااختیاربھی اس کےپاس ہے۔اداروں میں صداقت اوردیانت نہ ہو تو وہ کبھی پھل پھول نہیں سکتے۔نہ زندہ رہ سکتے ہیں۔ایف آئی اے کا ماٹو ہی صداقت اور دیانت پر مبنی ہے۔ایف آئی اےکی تشکیل 55 سال پہلے 13 جنوری 1975ء کو ہوئی،اس کا دائرہ اختیار صرف پاکستان تک محدود ہے۔تاہم مطلوب کوئی ملزم فرار ہو کر اگر بیرون ملک چلاجائےاوروہاں مقیم ہوجائے تو ایف آئی اے کو اختیار حاصل ہے کہ کارروائی کرتے ہوئے وہ کسی بھی مطلوب ملزم کو انٹرپول کے ذریعے بیرون ملک سے گرفتارکرکے واپس ملک لا سکتی ہے۔ایف آئی اے کا ہیڈکوارٹراسلام آبادمیں ہے۔صوبوں کی سطح پر ایف آئی آے کے ریجنل آفس لاہور، کراچی، کوئٹہ اورپشاور میں قائم ہیں۔جن میں ڈائریکٹرعہدےکاافسر اپنی ذمہ داریاں نبھاتا ہے۔پولیس سے بھی کئی افسر ڈیپوٹیشن پر ایف آئی اے میں اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ایف آئی اے کی اہم بات یہ ہے کہ کسی الزام کی تحقیق کیئے بغیر نہ تو وہ ایف آئی آر کا اندراج کرتا ہے،نہ الزام علیہ کو گرفتار کیا جاتا ہے۔کسی الزام کی پوری تحقیق اور شنوائی کے بعد جرم ثابت ہونے پر ہی کسی ملزم یا ملزمان کے خلاف ایف آئی آر کا اندراج کیا جاتا ہے۔درخواست دہندہ اپنا الزام ثابت نہ کر سکے تو ایف آئی آر درج نہیں کی جاتی۔
ٹھوس شواہد اور الزام ثابت ہونے پرہی مقدمہ کا اندراج ہوتا ہےجبکہ پنجاب پولیس یا کسی بھی صوبے میں اندراج مقدمہ سے قبل تحقیق و تفتیش یا انکوائری کا کوئی رواج نہیں۔اس طرح اکثر بےگناہ لوگ بھی کسی کی جھوٹی درخواست پر ملزم بن جاتے ہیں تاہم ایف آئی اے میں پولیس کےبرعکس ایسی روایات ہیں جو اسے ممتاز اور منفرد بنا دیتی ہیں۔ڈاکٹر عثمان انور ایسے ہی ایک ادارے کے سربراہ مقرر ہوئے ہیں جس میں تفتیش کا اپنا طریقہ کار اور روایات ہیں۔عثمان انور کاایف آئی اے کے سربراہ کی حیثیت سے انتخاب اس لیے کیا گیا کہ وہ اعلیٰ روایات کے امین اعلیٰ سطح کے پیشہ ور افسر ہیں۔توقع کی جا رہی ہے ڈاکٹر عثمان پنجاب پولیس کی طرح ایف آئی اے میں بھی اپنی اعلیٰ روایات کو قائم کریں گے اور اسے قوم کی امنگوں کاگہوارہ بنادیں گے۔پنجاب پولیس میں ڈاکٹرعثمان انورکاتین سالہ دور ہمیشہ سنہری حروف سےلکھاجائےگا اور اپنی اعلیٰ روایات کو لےکر وہ ایف آئی اے کو بھی یقیناایک مثالی ادارہ بنانے میں کامیاب رہیں گے۔ ایف آئی اے میں سائبر کرائم کی شکایات کافی بڑھ گئی ہیں جبکہ بیخ کنی ایف آئی اےکی ذمہ داری ہے۔اگرچہ سائبر کرائم ونگ فعال اور اس پر بہت کام کررہاہےلیکن ابھی اور بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ آن لائن بلیک میلنگ اورخواتین کے ساتھ ہراسگی کے واقعات کی تیزی سےروک تھام ہوسکے۔آن لائن مالی فراڈ کے ان گنت واقعات بھی ہر روز سامنے آتے ہیں جن کی روک تھام کی ضرورت پہلے سے کافی بڑھ گئی ہے۔ایف آئی اےکےدائرہ اختیار میں جو بھی ذمہ داریاں ہیں امید ہے ڈاکٹر عثمان انورکی ایف آئی اے میں تعیناتی سے ہم انہیں احسن طریقے سے پوری ہوتے دیکھیں گے۔ایف آئی اے کو آئین نےجو دائرہ اختیاردیا ہے ڈاکٹر عثمان انور کے آنے سے امید کی جا سکتی ہے کہ اس اختیار کا کہیں بھی غلط استعمال نہیں ہو گا۔سیاسی شعبدہ باز بھی ایف آئی اے کی کارروائیوں پر انگلی اٹھانےسےاب گریزاں ہوں گے۔ایمان کی حد تک میرا یقین ہے کہ ڈاکٹر عثمان انوربحیثیت ڈائریکٹرجنرل،ایف آئی اے کو اچھا ماحول دیں گے اور بہتر کارکردگی کا حامل بنائیں گے تاکہ آنے والوں کے لئے یہ ادارہ روشن مثال بنے۔

یہ بھی پڑھیں