موجودہ حکومت کی صحت کے شعبے میں اصلاحات
جب کسی بھی ملک میں صحت کے معاملات بگڑنے لگیں، عام آدمی بنیادی طبی سہولیات تک رسائی سے محروم ہو جائے، ہسپتالوں میں علاج مہنگا ہو جائے، دوائیں نایاب ہو جائیں، بچوں کی ویکسینیشن رک جائے اور بیماریوں کا پھیلاؤ
جب کسی بھی ملک میں صحت کے معاملات بگڑنے لگیں، عام آدمی بنیادی طبی سہولیات تک رسائی سے محروم ہو جائے، ہسپتالوں میں علاج مہنگا ہو جائے، دوائیں نایاب ہو جائیں، بچوں کی ویکسینیشن رک جائے اور بیماریوں کا پھیلاؤ
دہشت گردی اورانتہاپسندی کےبڑھتے ہوئے خدشات پاکستان کی جدیدسیاسی،معاشی اور معاشرتی تاریخ کاسب سےگہرااور پیچیدہ باب ہے۔ یہ صرف ایک سکیورٹی چیلنج نہیں بلکہ ذہنوں ،رویّوں،بیانیوں اورریاستی کمزوریوں کا مجموعہ ہےجس نےکئی دہائیوں تک ملک کی سمت، رفتار اور وژن
گزشتہ چند برسوں میں دنیا جن سیاسی و معاشی ہچکولوں سے گزری ہے، انہوں نے ریاستوں کو یہ احساس دلایا ہے کہ اب عالمی تعلقات پرانے فارمولوں کے تحت نہیں چل سکتے۔ عالمی سیاست کے مراکز ایک طرف سے دوسری
اقوام کے تعلقات میں اصل طاقت ہمیشہ تلوار یا معیشت نہیں بلکہ مکالمے اور فہم کی قوت رہی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب قوموں نے اختلافات کے باوجود بات چیت کا دروازہ کھلا رکھا تبھی امن کے امکانات جنم
دنیا آج ایک نئے دوراہے پر کھڑی ہے۔ طاقت کے توازن، عالمی مفادات کی کشمکش، علاقائی تنازعات اور انسانی ترقی کے مسائل نے دنیا کو غیر یقینی کی کیفیت میں ڈال دیا ہے۔پارلیمان جمہوری طرزِ حکمرانی کی بنیاد ہے،تاریخ گواہ
1947ء کا سال برصغیر کی تاریخ میں ایک ایسا موڑ بن کر آیا جس نے صدیوں پر محیط انسانی اقدار، تہذیب اور باہمی احترام کے تمام اصولوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ تقسیم ہند کے نام پر جو طوفان اٹھاوہ
دنیا کی تاریخ کے صفحات پر اگر کبھی ظلم کی داستانوں کو قلمبند کیا جائے تو 27 اکتوبر 1947ء کا سیاہ دن ان میں سب سے گہرا، سب سے خون آلود اور سب سے دل دہلا دینے والا باب ثابت
پاکستان نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ اگر قیادت میں عزم، اداروں میں یکجہتی اور قوم میں اعتماد موجود ہو تو کوئی تنازع ایسا نہیں جو گفت و شنید کے ذریعے حل نہ ہو سکے۔ پاکستان اور
انسانی تاریخ کی تمام داستانوں میں اگر کوئی ایک موضوع سب سے زیادہ پیچیدہ، جذباتی اور تغیرات سے بھرا ہوا ہے تو وہ عورت کے مقام اور اس کے حقوق کا ہے۔ یہ موضوع صدیوں کی تہذیبی، فکری، مذہبی اور
دنیا آج ایک ایسے عہد میں داخل ہو چکی ہے جہاں طاقت اور ترقی کا اصل معیار دولت یا قدرتی وسائل نہیں بلکہ علم، ڈیٹا اور ٹیکنالوجی ہے۔ جو ممالک اس حقیقت کو سمجھ چکے ہیں وہ نہ صرف اپنی