ٹیکنالوجی کا غلط استعمال اور مقدس مقصد کے درمیان توازن
’’اور کہہ دو: حق آ گیا اور باطل مٹ گیا، بے شک باطل مٹنے ہی والا ہے۔(سورہ الاسرا 17:81) ہر دور کا ایک غالب آلہ ہوتا ہے: ہل نے زراعت کی بنیاد رکھی، طباعت نے علم کا انقلاب برپا کیا،
’’اور کہہ دو: حق آ گیا اور باطل مٹ گیا، بے شک باطل مٹنے ہی والا ہے۔(سورہ الاسرا 17:81) ہر دور کا ایک غالب آلہ ہوتا ہے: ہل نے زراعت کی بنیاد رکھی، طباعت نے علم کا انقلاب برپا کیا،
انسانی تاریخ میں زر(کرنسی)کا تصور ہمیشہ ارتقاء پذیر رہا ہے۔ ابتدا میں سونا، چاندی اور دیگر دھاتیں بطور زر استعمال ہوئیں، پھر کاغذی نوٹ رائج ہوئے اور آج ڈیجیٹل کرنسیاں جنہیں کرپٹو کرنسیاں کہاجاتا ہے سامنے آئی ہیں۔اہم سوال یہ
انسانی تاریخ ہمیشہ سے حرص، تکبر اور استحصال کے اندھیروں میں ڈوبی رہی ہے۔قدیم سلطنتوں سے لےکر جدید ریاستوں تک، طاقت اکثر غلط استعمال ہوئی اور دولت چند ہاتھوں میں جمع رہی جبکہ کمزور طبقات ہمیشہ دبے رہے۔اس کا نتیجہ
تمہید‘ذات کے آئینے میں کائنات کا عکس جب انسان پیدا ہوتا ہے تو اس کی آنکھیں رنگوں، آوازوں اور لمس کی دنیا پر کھلتی ہیں۔ لیکن جیسے جیسے شعور بڑھتا ہے، ایک اندرونی سوال ابھرتا ہے۔ میں کون ہوں؟تم کون
آخر الزمان بیداری کا وقت مایوسی کا نہیں۔ہم اس عہد میں زندہ ہیں جسے قرآن اور احادیث نے آخر الزمان یعنی قیامت سے قبل کا دور قرار دیا۔ یہ وہ وقت ہے جب مادی ترقی اپنی انتہا کو پہنچ چکی،
تاریخ کے نئے سفاک قاتل نیتن یاہو نے ہٹلر کو پیچھے چھوڑ دیا ۔انسان اور اس کی شرف و کرامت کی حیثیت جس سے وہ نیچے گر گیا۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین پر اپنا خلیفہ بنایا، اسے عقل،
ہم ایک ایسے دور میں سانس لے رہے ہیں جسے بعض اہلِ دانش نے عصرِ مشہود یعنی The Age of Witnessing کا نام دیا ہے۔ ڈیجیٹل آنکھیں ہر سمت، ہر زاویے اور ہر پل ہماری نگرانی میں مصروف ہیں۔ سمارٹ
ایک ایسی دنیا جہاں غلط فہمیاں، تنازعات اور جلدبازی سے فیصلے عام ہیں، اسلام ہمیں نرمی، صبر اور حکمت کے ساتھ لوگوں کے ساتھ پیش آنے کا حکم دیتا ہے۔ قرآن اور حدیث میں بار بار زبان کو سنبھالنے، بدگمانی
انسان، اللہ کی ایک مقدس اور سربستہ حقیقت ہے مٹی سے بنایا گیا، مگر الٰہی نور سے منور، خواہشات کا حامل، مگر اپنے رب کے قرب کا متلاشی۔ قرآن ہمیں بار بار یاد دلاتا ہے:اور ہم نے اس میں اپنی
ہم انسانی تاریخ کے ایک بے مثال اور انقلابی موڑ پر کھڑے ہیں۔یہ صرف تیز رفتار کمپیوٹنگ یا سمارٹ ایپس کی بات نہیں یہ بنیادی تبدیلی کا دور ہے، ایک ایسا وقت جہاں انسانی زندگی، معاشرت، علم، کاروبار، اور حتی