2026 ء طاقت کا دور، اور انسان کا امتحان
2026 ء محض ٹیکنالوجی کا ایک نیا مرحلہ نہیں۔ یہ محض رفتار، ڈیٹا، یا مشینوں کی ذہانت کا سال نہیں۔ یہ دراصل ایک ربانی امر کا لمحہ انکشاف ہے ایسا لمحہ جس میں انسان کو پہلی بار اجتماعی طور پر
2026 ء محض ٹیکنالوجی کا ایک نیا مرحلہ نہیں۔ یہ محض رفتار، ڈیٹا، یا مشینوں کی ذہانت کا سال نہیں۔ یہ دراصل ایک ربانی امر کا لمحہ انکشاف ہے ایسا لمحہ جس میں انسان کو پہلی بار اجتماعی طور پر
قونیہ ترکی کا وہ مقدس شہر ہے جہاں مولانا جلال الدین رومی نے اپنی روحانی زندگی کے سب سے روشن اور گہرے برس گزارے، اور جہاں ان کی محبت خدا کا نور آج بھی جگمگا رہا ہے۔ ہر سال 17
محبت اور انصاف کے ایک نئے عالمی دور کی شروعات‘ایک عظیم روحانی اشارہ، ایک اہم ترین تاریخی واقعہ،مسلم کرسچن اتحاد کی پیدائش،مستقبل کی عالمی قیادت کی نشاندہی،اور حضرت عیسی کے بابرکت دور کی قریب آتی ہوئی آمد۔ پوپ لیو کا
محبت اور انصاف کے ایک نئے عالمی دور کی شروعات‘ایک عظیم روحانی اشارہ، ایک اہم ترین تاریخی واقعہ،مسلم کرسچن اتحاد کی پیدائش،مستقبل کی عالمی قیادت کی نشاندہی،اور حضرت عیسی کے بابرکت دور کی قریب آتی ہوئی آمد۔ پوپ لیو کا
انسانی تاریخ کی ابتدا آلات، مشینوں یا ٹیکنالوجی سے نہیں ہوتی اس کا آغاز آدم علیہ السلام سے ہوتا ہے، پہلے انسان جو خالقِ دو جہاں کے دستِ قدرت سے تخلیق ہوئے۔اللہ نے ان میں اپنی روح پھونکی اور انہیں
تعارف: تخلیقِ کائنات کا پہلا راز محبت‘ جب خالقِ کائنات نے فرمایا:میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا، مجھے یہ محبوب ہوا کہ پہچانا جائوں، تو میں نے مخلوق کو پیدا کیا تاکہ مجھے پہچانا جائے۔یہ حدیثِ قدسی اس ابدی حقیقت
ڈیجیٹل کرنسی کیا ہے؟ڈیجیٹل کرنسی یا مرکزی بینک کی ڈیجیٹل کرنسی (CBDC)ایک ایسی سرکاری رقم ہےجوکسی ملک کامرکزی بینک جاری کرتاہےاور جو صرف رقمی (ڈیجیٹل)شکل میں موجودہوتی ہے،کوئی کاغذ یاسکہ نہیں۔مثلاًچین میں ڈیجیٹل یوآن (e-CNY)یورپ میں ڈیجیٹل یورواور برطانیہ، امریکہ،
صنعتی دور‘ مادی دنیا پر قدرت۔ ہر دور اللہ کے حکم سے ظاہر ہوتا ہے ہر زمانہ خدائی منصوبے کا ایک مرحلہ ہے۔صنعتی انقلاب وہ دور تھا جب انسان نے مادہ پر اختیار حاصل کیا۔ آگ، لوہے اور مشینوں کا
علمی پس منظر اور خاندانی وراثت‘مولانا جلال الدین محمد رومی بلخ کے ایک علمی و روحانی خانوادے میں پیدا ہوئے۔آپ کے والد بہاء الدین ولد اپنے زمانے کے عظیم عالمِ دین، فقیہ اور عارفِ کامل تھے، جنہیں سلطان العلماء کے
(گزشتہ سے پیوستہ) عدل‘ ہر نفع محنت یا خطرے کے ساتھ ہو۔امانت ‘لین دین میں دھوکا یا چھپائو نہ ہو۔ توازن‘ دولت چند ہاتھوں میں محدود نہ ہو بلکہ گردش کرے۔قناعت‘ سادگی اور کفایت شعاری ہو۔مسلمانوں کو اپنے مالی ادارے