Search
Close this search box.
پیر ,08 جون ,2026ء

مریم نواز کا انداز حکمرانی

فیصلہ ہو گیا ہے ، پنجاب کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ جاتی امرہ سے اپنے دفتر تک آنے جانے کے لئے ہوائی سفر کریں گی یعنی ہیلی کاپٹر کے ذریعے آئیں جائیں گی اور تقریباً اڑھائی سے تین لاکھ روپے اس سفر پر خرچ اٹھے گا گویا ایک سال کے نو کروڑ روپے کے لگ بھگ خرچ ہوں گے ۔
ملکی معیشت کے ہچکولے کھاتے کھاتے جہاز کو بہر طور یہ دھچکا برداشت کرنا ہو گا۔عیش وعشرت کے اس سفر میں ان کا دفتری عملہ بھی شامل ہوگا ۔اس سفر کے ٹی اے ڈی کا تخمینہ لگا نا ابھی باقی ہے ۔ماہرین معیشت جلد پنجاب کے عوام کے سامنے ان کی پہلی وزیر اعلیٰ کے روزانہ کے اخراجات کی ہوش ربا تفصیل پیش کردیں گے ۔
اس میں شک نہیں کہ ایسا پہلی بار نہیں ہورہا ہر دور کے حکمران قومی دولت کو اللوں تللوں میں اڑاتے ہی رہتے ہیں ،ہر حاکم کا بھی اپنا مزاج ہوتا ہے اور وہ نظام کو اپنے مزاج کے تابع رکھے بغیر نہیں رہ سکتا ، یہ الگ بات کہ اسی تعفن زدہ جمہوری ماحول میں ملک معراج خالد جیسے لوگ بھی پیدا ہوجاتے ان میں اور قوم کے مال کو مال مفت دل بے رحم کی مثل استعمال کرنے والوں میں فرق یہ ہوتا ہے کہ پرتعیش زندگی بسر کرنے والے تاریخ میں مرجاتے ہیں اور ملک صاحب جیسے انسان تاریخ میں امر ہوجاتے ہیں ، یہاں تک کہ لوگوں کے دلوں میں ان کی تصویر سج جاتی ہے ۔
مریم نواز اس باپ کی بیٹی ہیں جن کا ناشتہ لاہور سے ہوائی جہاز پر اسلام آباد جاتا تھا ۔
تاریخ پاکستان میں ایک اور حکمران کا ذکربھی ملتا ہے جنہوں نے اپنے دور اقتدار میں امریکہ میں امریکی صدر کی ضیافت کا اہتمام کیا تو پاکستان سے اسپیشل فلائٹ کے ذریعے بٹیر منگوائے گئے، راوی لکھتا ہے کہ امریکی صدر نے ان خصوصی طور پر منگوائے گئے بٹیروں کی طرف مڑکر بھی دیکھنا گوارہ نہ کیا۔ایک بانی پاکستان محمد علی جناح جب بیمار پڑے اور کھانا پینا چھوڑدیا تو ان کے سابقہ کک کا سراغ لگاکر اسے منگوایا گیا اس کا بنایا ہوا قائد نے شوق سے تناول فرمایا اور ساتھ ہی استفسار کیا کہ کھانا کس نے تیار کیا ؟ بتایاگیا آپ کے کک کو لائیلپور سے اسپیشل منگواکر تیار کروایا گیا، قائد اعظم ؒنے ناگوار ی کا اظہار کرتے ہوئے اپنی جیب سے خرچ دے کر باورچی کوواپس بھجوا دیا۔قائد ملت لیاقت علی خان کے گھر کا قصہ بیان کرنا بھی روری ہے کہ گھر پر مہمان آئے تو جو چائے پیش کی گئی وہ پھیکی تھی ، محترمہ رعنا لیاقت علی خان نے بتایا کہ ملک میں چینی کا بحران ہے اس لئے گھر میں چینی نہیں ہے ۔یہ وہ واقعات ہیں جو ہمارے ابتدائی بچوں کے نصاب میں شامل کرنے چاہئیں مگر اب جیسے حکمران دھاندلی کی پنیریوں سے تیار کئے جارہے ہیں ویسے ہی کیرکولم تیار کرنے والے ہیں جو اپنے پیسے کھرے کرتے ہیں نئی نسل ڈوبے یاگمراہ ہو ان کو اس سے کیا غرض۔
مریم نواز کو ایک ماڈل وزیر اعلیٰ ثابت ہونا چاہیے تھا کہ مصحف تاریخ میں ان کا نام سنہری حروف سے لکھا جاتا ، بھلے وہ نواز شریف کی دختر ہیں جنہوں اپنی بداعتدالیوں سمیت اپنا سیاسی ورثہ انہیں منتقل کیا ہے اور وہ اسی پر فخر کرتی ہیں ۔کاش انہوں نے اپنا آئیڈیئل ملک معراج خالد، لیاقت علی خان یا بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کوبنایا ہوتا کاش …!کاش ہمارے کسی حکمران نے تو پاکستان کو اپنا رومانس بنایا ہوتا ،ایسا ہوتا تو یہ ملک غربت کے لحاظ سے دنیا کا باونواں ملک نہ ہوتا کہ یہ قدرتی وسائل کی جنت ہے مگر چھہتر سال سے یہ ہوس کاروں کی بھینٹ چڑھا ہوا ہے ،کتنے ہی خاندان ہیں جنہیں تحت الثری سے اوج ثریا تک پہنچا دیا اس نے مگر وہ ایسے حریص نکلے کہ اسے بیچ کھانے کی آ رزو میں مرے جاتے ہیں ،ثکے ٹکے کے لوگوں کو اس نے اربوں نہیں کھربوں پتی بنادیا مگر ان کے دل ہیں کے اسے وہ محبت والفت دے ہی نہیں پائے ۔
مریم نواز سے بھی کسی نہ کسی نے اچھی امیدیں ضرور وابستہ کی ہوں گی مگر پہلے قدم پر ہی موصوفہ نے قوم کی جھولی مایوسیوں سے بھر دی ہے کہ قومی خزانے کو آل شریف کا ورثہ ہی سمجھ لیا ہے ،ان کی انتظامی صلاحیتوں کے بارے میں تو ماہرین حل وعقد تو اس وقت سے تحفظات کا شکار رہے ہیں جب انہیں وزیراعظم باپ نے یوتھ کا مستقبل سونپا تھا اور اسٹیبلشمنٹ اور مقتدرہ نے مل کر ملک کے بڑے صوبے کی باگ ڈور ہی اس کے حوالے کردی ہے جو اس ملک کی حکمرانی کو اپنا خاندانی حق گردانتی ہیں، یہ کتنا بڑا ظلم ہے اس ملک اور اس قوم کے ساتھ…! یہ انداز حکمرانی تو کسی قابض قوت کا بھی اپنی رعایا کے ساتھ نہیں رہا جو مریم نواز صاحبہ اپنانے کے زعم میں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں