Search
Close this search box.
پیر ,08 جون ,2026ء

جھو ٹ کی راج دھانی میں سچ کا کیا کام؟

امیر جماعت اسلامی محترم سراج الحق نے خوب کہا ہے کہ ’’ہمارا معاشرہ جذباتی لوگوں کامعاشرہ ہے،یہاں دھیمے لہجے میں سچ بولنے سے زیادہ اونچی آواز میں جھوٹ بولنے والے پریقین کیا جاتا ہے ۔‘‘
بڑے لوگ بڑی بات کرتے ہیں اور ان کی بات کے تہہ در تہہ معانی کے ادراک کے لئے وسعت ذہن کی ضرورت ہوتی ہے ، ہمارے معاشرے میں اس کا فقدان ہے ۔اب بات کے مطلب کو نہیں اس کے فائدے کو تلاش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ، اس لئے علم و عمل پیچھے رہ گئے ہیں مفادات آگے۔اسی لئے چاروں اور بے برکتی کا راج ہے ، کوئی اس راز کو پانے کی سعی نہیں کرتا کہ لاحاصلی کا خوف رگ جاں میں آندھیاں برپا کردیتا ہے۔
نئی حکومتوں کو بنے کئی دن ہو گئے ، مگر حکومت کی باگ ڈور سنبھالنے والوں کو ابھی بھی یقین نہیں کہ زمام اقتدار ان کے ہاتھ میں ہے یاکسی دست غیب میں ۔حالت یہ ہے کہ دھیمے لہجے میں سچ بولنے والوں کو بھی سزا وار ٹھہرایا جاتا ہے اور جھوٹ کو جھوٹ کہنے والا خسارے کے سودے کا روادار نہیں ۔
جوار مغرب سے جاری ہونے والے احکامات پرتو سابق وزیراعظم بھی آخر کو تلملا اٹھے ہیں کہ ان کی آنکھوں میں سمایا چوتھی بار وزیر اعظم بننے کا خواب ابھی سلامت ہے گو دختر نیک اختر کو اپنی پہلی سیڑھی پر چڑھا دیا ہے مگر اس کے قدم جمنے نہیں پارہے ہر پل ہوا میں تیرتی دکھائی دیتی ہیں کہ اس کے پیچھے کوئی اپنا ہی اپنے بکھرے ہوئے خواب کی کرچیاں چن رہا ہے ، جب پی ڈی ایم تھی تو پنجاب کی پگ اس کے سر پر تھی اور پی ایم ایل این کو اقتدار کا سنگھاسن سونپا گیا ہے تو پنجاب کو دوپٹہ اوڑھا دیا گیا ہے کہ خفیہ فلمیں چلانے کا طوفان پھر عود نہ کر آئے کہ احسان کرکے شر سے بچنا بھی تو ضروری ہوتا ہے ہاں مگر دادا کی خدمت گزار کی ہم نام بیٹی کو اپنے ساتھ رکھا ہے کہ کاروبار حکومت میں کوئی دشواری نہ ہو۔وزیر اعظم کو ساز باز سے فرصت نہیں اسی لئے علی امین گنڈا پور کو گورنر راج کے خطرے سے ڈرا دھمکا کر سینٹ کی بیل منڈھے چڑھانے کی تگ و دو میں ہیں اور جو چمک کے جادو کا علم رکھتے ہیں وہ تجوریوں کے منہ کھولنے کو تیار بیٹھے ہیں ۔ اسٹیبلشمنٹ کے مہروں کو کون مات دے سکتا ہے ، انہیں تو شہہ کے امکان سے بھی ماورا رکھا گیا ہے۔
پی پی پی اصولوں کی سیاست سے دور ہونے کے ثبوت کے طور پر رضاربانی کو دیوار سے لگا چکی کہ وہ پچھلوں کی خاص نشانی ہیں اور ان کے اندر بھی ملک معراج خالد کی روح موجود ہے کچھ اور کر پائیں یا نہیں سچ کی سیاست کے ابھی بھی امین ہیں اور اب ایسے انسان کی کوئی جگہ نہیں رہی۔
حالات جس سرعت سے رنگ بدل رہے ہیں اور حلقے کھولنے کا کام جس سنجیدگی سے کیا جارہا اس کے پیچھے کیا طوفان ٹھاٹھیں مار رہا ہے اس کی کیا شکل بنتی ہے اس بارے کچھ کہنا بعید از قیاس سہی مگر چڑیوں سے خبریں لینے والے پے در پے اشارے دے رہے ہیں ،اس پر پروین شاکر کا شعر بہت یاد آرہا ہے کہ
بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا
میں سمندر دیکھتی ہوں تم کنارہ دیکھنا
یہاں سوچ اور فکر رکھنے والے تو چہار سو ایک سراب پھیلتا دیکھ رہے ہیں جس میں بھوک اگ رہی ہے پیاس تڑپ رہی ہے ، مفلسوں کے جنازے ہی جنازے ہیں وہ بھی بے کفن کہ جن کے پاس خوراک خریدنے کے پیسے نہیں وہ مہنگا کپڑا کیسے خرید سکتے ہیں کہ اپنے مردوں کے کفن کا اہتمام کرسکیں ، یوں عید آنے والی ہے مگر ملکی اور غیر ملکی برانڈز پر پائوں دھرنے کی جگہ نہیں غریب تو کپڑے کی عام دوکان پر جانے کی سکت بھی نہیں رکھتا اور سرکار وفاق کی ہو یا صوبوں کی امداد اپنے چہیتوں کے ہاتھ دے دیتی ہے اور انہیں اپنے اور اپنوں کے سوا کوئی مستحق دکھائی نہیں دیتا،جو مستحق ہیں وہ ہاتھ بھی تو نہیں پھیلاتے اور نہ تقسیم کاروں کی شکایت کا مزاج رکھتے ہیں ،اب یہ تو کار سرکار ہے کہ بددیانت لوگوں کو خیرات کے مال کا امین نہ بنائے ، ایسا کرے بھی تو کیسے کہ اسے اپنے آگے نعرے لگانے اور دھمالیں ڈالنے والوں کی ضرورت ہوتی ہے ، یہاں اتنا کرنے کی بھی کسی کو توفیق نہیں کہ پرائس کنٹرول کمیٹیوں کے لئے جماعتی وابستگی سے ہٹ کر ایسے لوگ تلاش کرے جو انسانیت کے درد سے آشنا ہوں ، جنہیں یہ احساس ہو معاشرے کو بدعنوانیوں سے پاک کیسے کرنا ہے ملک کے قریے قریے کو خوشیوں کا گہوارہ کیسے بنانا ہے ۔یہاں تو سچ بولنے کی روایت مفقود ہوتی جارہی ہے تو سچے کی انگلی کوئی کیوں تھامے گا کہ آج کا بڑا سبق یہی ہے، حق دبائو ، اپنے پیٹ کا دوزخ بھرلو دنیا کی کامیابی اسی میں ہے آخرت کس نے دیکھی ہے ؟ پس جناب سرج الحق بھینسوں کے آگے بانسری نہ بجائیں کہ یہاں عافیت کا عرفان کون رکھتا ہے جو خیر بانٹے۔

یہ بھی پڑھیں