زمانہ قدیم میں فلاسفہ کے درمیان بحث مباحثہ اور مکالمہ کا رواج عام تھا جو وقت کے ساتھ ساتھ زوال پذیر ہوتا چلا گیا ، یہی وجہ ہے کہ علم کی اہمیت بھی پامالی کا شکارہونے لگی ، تاہم بعض فلاسفہ مثلاً افلاطون ، سقراط دیگر کئی فلاسفہ کے افکار و نظریات نے علم و حکمت اور شعور و آگہی کے چراغ روشن کئے جو آج بھی انسانیت کیلئے سد راہ ہیں ۔
تھراسی ماگس زمانہ قبل مسیح(400-459) کا فلسفی ہے جو کہ سقراط کا ہمعصر بھی تھا اور سقراط کے ایک سوال کہ تمہارے نزدیک انصاف کا مفہوم کیا ہے ؟ کے جواب میں کہا کہ طاقت کا نام ہی انصاف ہے ، جس کی لاٹھی اس کی بھینس، جو طاقتور انسان کی غرض ہی عدل ہے ، حکمران جو قوانین بناتے ہیں وہ اپنی اغراض کے لئے بناتے ہیں۔گو سقراط نے اس سے اتفاق نہیں کیا تاہم تھراسی ماگس نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ چرواہوں اور حکمرانوں کا ایک ہی قسم کا حال ہے وہ جانوروں کی اس وجہ سے دیکھ بھال کرتا ہے اور ان کوموٹا تازہ کرتا ہے کہ اچھا گوشت کھانے کو ملے ، حاکم بھی رعایامیں نظم و نسق اسی وجہ سے قائم رکھنا چاہتا ہے کہ خود اس کو زیادہ نفع اور قوت حاصل ہو، رعیت اس کے لئے ایسے ہے جیسے چرواہے کے لئے بھیڑیں ،دنیا کا تجربہ یہی بتاتا ہے کہ ادنی قسم کی چوری اور ظلم کرنے والے کو لوگ بہت برا گردانتے ہیں ، لیکن اگر ڈاکہ اگر وسیع پیمانے پر ہو اور کامیاب بھی رہے تو ڈاکو معزز ہوجاتا ہے ۔فقط ادنی ڈاکو ، ڈاکو کہلاتا ہے ، وسیع پیمانے پر ڈاکہ مارنے والا اورقتل و غارت گری کرنے والابڑے القاب کا مستحق ہوجاتا ہے اس کو لوگ جہاں پناہ انصاف کا بول بالا کرنے والا اور خدا کا سایہ کہنے لگتے ہیں ، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ عدل طاقتور کی غرض ہی کا نام ہے۔
یہ پرانے بلکہ بہت ہی پرانے لوگوں کی سوچ ہے ، وہ لوگ جو معاشرے میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے ، جن کے افکار و نظریات کی ان کے اپنے معاشرے ہی میں نہیں ان کی سرحدوں سے پار بھی پذیرائی تھی ۔دور دراز کے لوگ ان کے فلسفہ زندگی کی قدر کرتے تھے ، ان کے دور میں بھی عدل و انصاف کے پیمانے کمزور اور طاقتور کے لئے ایک نہیں تھے ، وہ بھی اختلاف و احتجاج کا اظہار کرتے تھے ، انہیں بھی طاقتور طبقات اور اداروں سے شکایات رہتی تھیں مگر اس وقت کے فلاسفہ اور دانشور بحث مباحثہ اور مکالمہ کے ذیعے ان کے مسائل کا ازالہ کرتے تھے اس وقت بھی لوگوں کو عدل و انصاف سے متعلق افراد سے اتنے ہی تحفظات ہوتے تھے جتنے آج کے انسان کو ہیں مگر فرق یہ تھا کہ منصف غلط فیصلوں پر کسی کی رائے کو بے اعتنا نہیں گردانتے تھے وہ میزان کے پلڑوں کو برابر ناں بھی رکھ سکیں تو یکسر ایک جانب جھک جانے کی ننگی آرزو کے سامنے چاروں شانے چت نہیں ہوجاتے تھے ۔زمانہ بدل گیا ہے ، انقلابات نے انسان کو بہت کچھ سکھایا ہے ، علم نے نئے افق کے در وا کر دیئے ہیں ، سب سے بڑا انقلاب صحرائے عرب میں آیا ، جس نے انسانی زندگی کے معیارات بدل کے رکھ دیئے ، ساڑھے چودہ سو برس پہلے کی بات ہے۔داعی انقلاب کے نظریات میں اتنی سچائی تھی ، کردار میں اتنی مضبوطی تھی ، ان کی کتاب میں اتنا تنوع تھا کہ آج تک کی سائنس بھی اس سے استفادہ کئے بنا نہیں رہ سکی اور نہ ہی قیامت تک استفادوں کی راہ بند ہوں گی ۔
ہم مگر خود آدھے تیتر آدھے بٹیر بن گئے ہم نے اگر شارح اسلام ﷺ کی تعلیمات کو ان کے انقلابی افکار کو حرجاں بنایا ہوتا تو یہاں طاقتور کا سکہ نہ چلتا ، معاملات جمہور اتنے گمبھیر نہ ہوتے ، ہمارا فلسفہ زندگی ، ہمارا شعرو ادب ، ہمارا فکری نظام اور معاشی و معاشرتی انصرام اتنا مضمحل نہ ہوتا ، یہاں فرد اور گروہ دونوں کوکمزور کردیا گیا ، جو اپنی سنا نہیں پارہے دراصل انہوں نے اپنی سنانے میں سبکی کے سوا کچھ نہیں پایا۔اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ مباحثے اور مکالمے کی روایت ختم ہوگئی ہے ، صبر اورشکر کارواج نہیں رہا ، تحمل اور برداشت ناپید ہوگئے ہیں ۔حاکم ہو یا منصف ، اپنے منصب سے آگہی کے فقدان کا شکار ہیں اسی لئے عزت و تکریم کے بحران سے دوچار ہیں۔
ہم غیر ضروری کے پیچھے بھاگتے ہوئے بہت دور تک نکل گئے ہیں ، اتنے کہ ضروری کے ادراک سے بھی بے خبر ٹھہرے ، اچھے اور برے کی تمیز سے بے بیرا ، یہاں تک کہ علم اور لاعلمی کے احساس سے بھی مبرا ، ہمیں اپنی تہی دستی دکھائی نہیں دے رہی ، یہ روش رہی تو اگلی نسل کا کیا ہوگا ؟ اس لئے مکالمے کی روایت کو زندہ کریں ، دہشت گردی خود بخود اس کے نیچے دفن ہوجائے گی۔