ایک بادشاہ سیر وتفریح پر نکلا‘ جاتے جاتے کہیں دور ہی نکل گیا دیکھا تو ایک گھر ہے جس کا مالک سخی طبیعت کا تھا اس نے بادشاہ کی خوب مہمان نوازی کی بادشاہ کی نظر جب پھانسی پر لٹکے کتے پر پڑی تو گھر کے مالک سے اس کا سبب پوچھا مگر مالک نے سبب بتانے سے انکار کردیا حالانکہ بادشاہ نے اس کو اپنا تعارف بھی کرایا بادشاہ نے دوسرے دن قاصد بھیجا پھر پھانسی پر لٹکے کتے کا سبب پوچھا مگر وہ شخص پھر انکاری ہوگیا بادشاہ کو بڑا غصہ آیا تو اس نے اپنے داروغہ کو بھیجا کہ اس شخص کو گرفتار کرکے لے آ‘ داروغہ نے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اس کو دربار میں پیش کردیا ‘بادشاہ نے پھر پھانسی لگے کتے کا سبب پوچھا مگر وہ پھر انکاری ہوگیا تو بادشاہ نے اب اس کو لالچ دے کر سبب پوچھنے کی کوشش کی تو اس شخص نے اس شرط پر کہ کچھ عرصہ بادشاہی اس کو دی جائے تو پھر سبب بتائے گا مگر بادشاہ نے اس ڈر سے کہ کہیں مستقل قبضہ ہی نہ کرلے انکار کردیا مگر پھر بھی بادشاہ کو سکون نہیں آیا حتی کہ پھانسی پر لٹکے کتے نے بادشاہ کی نیند تک حرام کردی آخر کار بادشاہ نے تنگ آکر اس شخص کو بلایا اور بادشاہی اس کے حوالے کردی جب وہ شخص بادشاہی کے تخت پر بیٹھا تو سب سے پہلا کام یہ کیا کہ تمام وزراء کو جیل میں ڈال دیا اور تمام بڑے بیورو کریٹس اورسیاست دان اور ججز اور اسٹیبلشمنٹ کو جیل میں بند کردیا اور ساتھ والے تمام ملکوں سے لین دین بند کردیا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا جب اس کی مدت پوری ہوئی اور پرانے بادشاہ کو دوبارہ بادشاہی سونپی تو ملک میں امن و امان تھا اور خزانہ بھی بھرا ہوا تھا تو اس نے پھانسی پر لگے کتے کا سبب بادشاہ کو بتایا کہ میں ایک آجڑی ہوں اور میرا بھیڑ بکریوں کا ریوڑ تھا اور یہ کتا ان کی حفاظت کے لئے تھا مگر میرے ریوڑ سے روزانہ ایک بکری غائب ہو جاتی تھی تو جب میں نے سبب معلوم کیا تو پتہ چلا کہ یہ کتا ہی حفاظت کرنے کی بجائے بکریوں کو خود بھی کھاتا تھا اور دوسرے کتوں کو بھی کھلاتا تھا تو میں نے اس کو بطور سزا اور عبرت کے پھانسی پر لٹکا دیا میرے کتے کی طرح ہی تیرے وزرا ء اور باقی لوگ خود بھی خزانہ لوٹتے تھے اور دوسروں کو بھی لٹاتے تھے جن کو میں نے بطور سزا جیل میں بند کردیا اور جب سے ان کو جیل میں بند کیا ملکی خزانہ بھرگیا اورملک خوشحال ہوگیا۔
خیال و خواب سے ماوراء بات ہے کہ پھر انہیں سے امیدیں جوڑ لی جائیں جنہو ں نے وقفے وقفے سے چالیس سالہ ادوار حکومت میں ہر شعبہ زندگی میں جوہڑ ہی جوہڑ تعمیر کئے جن میں خس وخاشاک نے روئیدگی پائی ، کوئی ایسی فصل نمو نہ پاسکی کہ جس سے ملک و ملت کی آسودگی یا نشاط و انبساط پھوٹ پڑتی ، یہی قوم کا مقدر رہا ،جانے کب تک اسی جادہ ناہموار پر کتنا سفر زندگی طے کرنا ہوگا۔
کتنے واہمے اور مخمصے ہیں جن کے دوش پر سر رکھے ایک نئے جمہوری سفر کا آغاز کیا ہے اور پہلے مرحلے پرہی سب راز ونیازطشت ازبام ہونے لگے ہیں ۔پھر وہی پرانے زخم ہیں جنہیں نئے نشتروں سے کریدا جارہا ہے ۔
قطعاً یہ جتلانا مقصود نہیں کہ کپتان کے جلو میں جو ٹیم میدان سیاست میں اتری وہ صالح کھلاڑیوں پر مشتمل تھی۔ریاست مدینہ کے چکمے کی آڑ میں اسی بدبودار ماحول کے متعفن لاشے تھے جن کا انتخاب طے پایا ‘یاجو منتخب کرکے حوالہ کپتان کئے گئے ،وہ سب بھی پاک پوتر یا دودھ کے دھلے اور آب زم زم سے نہائے ہوئے نہیں تھے۔ بدعنوانی کی گنگا میں انہوں نے بھی خوب ہاتھ رنگے ،بس اتنا فرق تھا جو رنگے ہاتھوں دھر لیا جاتا اسے کیفر کردار تک پہنچانے کا پروانہ جاری کردیا جاتاتھا، کپتان کی زندگی کی گاڑی کمیشن کے پٹرول سے نہیں چلتی تھی۔مگر یہ بات محل نظر ہے کہ کچھ لوگ جو کپتان کے اے ٹی ایم ہونے کی شہرت رکھتے تھے ان سے صرف نظر کیا جاتا تھا۔ انہیں میں سے دو بڑے نام تھے ایک جاگیردار تھا اور دوسرا تاجر ، سگما پراپرٹی منصوبے کا اورسما ٹی وی چینل کا مالک۔ان دونوں کو پی ٹی آئی دور میں ناکوں دانے چبوائے گئے یہاں تک کہ پارٹی سے الگ کردیا گیایا وہ خود پناہ کی تلاش میں نکلے اور آخر پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا۔ان میں سے ایک عوام کے ہاتھوں عبرت نگاہ بن کر سیاست سے دست بردار ہوا اور دوسرے کو لاڈلے کی چھتری نے اپنی پناہ میں لے لیااور وہ ایوان اقتدار تک پہنچ گیا۔ اسے اپنی لوٹ مار چھپانے اور پھر سے اس گنگا میں نہانے کا موقع مل گیا ہے جو اس کا مقصودتھی۔اس کی پارک ویو سوسائٹی کو راوی اربن ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (RUDA) میں گیارہ ہزار کنال اراضی مل گئی ہے ، جس کے ساتھ ہی وہ پنجاب میں ملک ریاض سے بڑا لینڈ ڈیویلپر بن کر راج کرے گا ۔
پنجاب کے اس سپوت علیم خان کی یہ آرزو پوری ہوئی اب اس ایک خواب شرمندہ تعبیر ہونا باقی ہے ، گورنر یا وزیر اعلیٰ پنجاب ، حالات یہی رہے تو اس کی یہ امید بھی بر آئے گی۔
(شکریہ ۔دانش خان بر تذکرہ حکایت)