لوگوں نے ایسا خدا دریافت کررکھا ہے جس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ لوگوں کو ایسا رسول ہاتھ آگیا ہے جو صرف اس لئے آیا تھا کہ ان کی ساری بداعمالیوں کے باوجود خدا کے یہاں ان کا یقینی سفارشی بن جائے۔ لوگوں کو ایسی آخرت مل گئی ہے جہاں جنت صرف اپنے لئے ہے اور جہنم دوسروں کے لئے۔ لوگوں کو ایسی نمازیں حاصل ہوگئی ہیں جن کے ساتھ کبر اور حسد جمع ہوسکتا ہے۔ لوگوں کو ایسے روزے معلوم ہوگئے ہیں جو جھوٹ اور ظلم سے فاسد نہیں ہوتے۔ لوگوں کو ایسا دین ہاتھ آگیا ہے جو صرف بحث و مباحثہ کرنے کے لئے ہے نہ کہ عمل کرنے کے لئے۔
مگر جھوٹا سونا اسی وقت تک سونا ہے جب تک وہ کسوٹی پر پرکھا نہ گیا ہو۔ اسی طرح فریب کا یہ کاروبار بھی صرف اسی وقت تک ہے جب تک خدا ظاہر ہوکر اپنے انصاف کا ترازو کھڑا نہ کردے۔
صاحب علم کی باتیں حرف حرف سچ ہوتی ہیں ،گو سچ کے آئینے دیکھنے والا کوئی نہیں رہا ، سچ کو زندہ رہنا ہے ، اس کے لئے ضروری ہے کہ سچ بولنے والے بھی زندہ رہیں ، اس کے لئے رب نے ذمہ داری لے رکھی اور رب کو کوئی خطرہ نہیں اس لئے سچ کے سرپر منڈلاتے خطرات ہمیشہ ٹل جاتے ہیں ۔ہم ایسے ہی زریں دور سے گزر رہے ہیں ۔ہم خطرات کی زد میں ہیں ، ہمارے چاروں اور لغویات کے حصار بنے جارہے ہیں لیکن ان حصاروں کو توڑنے والے سلامت ۔
ہمارا عدالتی ڈھانچہ مضبوط ہوتا تو ہمیں یہ جنگ نہ لڑنا پڑتی مگر ہرگام پر یہ ہوتا ہے کہ ہمارانظام عدل ہمیں پچھاڑ دیتا ہے ، تاہم اب اس نظام کے تار وپود فیصلے لکھنے والوں کے ہاتھوں سے پھسلتے جارہے ہیں، گو معاملات کو الجھانے کے سودے بھی جاری ہیں اور ایک کوٹ سے دوسرے کورٹ میں گیند ڈالنے کا عمل بھی آزمایا جا رہا ہے،نہ جانے کس کے ایما پر، چیف جسٹس اور وزیر اعظم کی ملاقات کا ڈول ڈالا گیاہے اور کون سے عزائم ہیں جو اس رستے پورے ہونے کے امکان کااندازہ لگایا گیا ہے ، یوں لگتا ہے عدلیہ کو پھر کسی آزمائش میں ڈالنے کی کتھا گت ہونے جارہی ہے حالانکہ قانون دانوں کے آپس کے اس معاملے کو ان کے درمیان رہنے دیا جائے تو اچھا ہو کہ اس رستے کوئی سراغ پا بھی لیا گیا تو یاران سر پل چوری کے مینڈیٹ سے ترتیب پانے والی حکومت کی مداخلت کوطعن و تشنیع کا نشانہ بنائیں گے اس سے بہتر ہوتاریاستی اداروں کے سربراہوں کے ساتھ مل بیٹھنے کی سبیل نکالی جاتی کہ وہی ہیں جو بے نوائوں کو بناعبادتوں اور ریاضتوں کے جنتوں کے خواب دکھاتے ہیں اب ان خوابوں کے حصار سے نکلنا ہوگا ، اتنی اجرت لینا ہوگی جتنی محنت کی۔دراصل اس راستے پر زمین کے خدائوں نے ہمیں ڈالا ہے وہ قوم سے ایک کے بدلے کئی ہزار لینے کی روش پر جاوداں ہر دم رواں ہیں کہ کسی مد میں چار پیسے کی رعایت دیتے ہیں تو کسی اور مد میں حصولی کا پہاز کھڑا کردیتے ہیں ۔
پہلے آٹا ، چینی ،گھی اور چاول کے رستے لوٹ مار کرتے تھے اب پٹرول ، گیس اور بجلی کے بوجھ تلے دبا کرقوم کا بھرکس نکال رہے ہیں ۔لوگوں کی توجہ کو دین و مذہب ، فرقہ و مسلک میں الجھا کر دہشت گردی کا خود ساختہ ماحول گرم کرکے ریاستی نظام ہی کو نہیں لوگوں کے ایمان کو کمزور کرنے کی سعی کررہے ہیں ۔جھوٹے سونے پرسچ کے ملمعے چڑھائے جارہے ہیں ۔روزگار کے مواقع مہیا کرنے کی بجائے نئی نسل کو سودوربا پر اشیا کی دستیابی کے منصوبے باندھے جارہے ہیں۔
آپ کو حیرانی تو ہوئی ہوگی کہ کس لمحے کون سے مسائل چھیڑ دیئے ، یہی توبات ہے ، کہ انعام کے وقت کام کرنے والوں کوزیست کی پچھلی صف میں کھڑا کردیا جاتا ہے ،مگر یاد رہے بیدل حیدری نے کہا تھا کہ
تم نے پھینکا ہے جسے زیست کی پچھلی صف میں
سب سے اونچا تو اسی شخص کا سر لگتا ہے
اس سے اگلا شعر بھی حالات کے تناظر سے جڑا لگتا ہے کہ
ایک پتا سا جو خون میں تر لگتا ہے
ڈار سے بچھڑی ہوئی کونج کا پر لگتا ہے
مجھے صاحب علم(مولانا وحید الدین خان) کے اقتباس سے یہی محسوس ہوا ہے ، باتوں کی بھیڑ میں عمدہ بات۔
تموج کی لہرعبارت کے رستے میں حائل ہو جائے تو ایساہی ہوتاہے ، مبادا کوئی نہ سوچے کہ حالات کی دیوار ٹیڑھی کر دی گئی ہے اور معاملات کی گتھیاں سلجھانےکی کوئی تجویز پیش نہیں کی گئی ردعمل کے طوفان میں ناگہانی کو گہانی کہنے میں جودقت ہوتی ہے ، وہی درپیش ہے۔ دیوار کے نقص سے زیادہ حالات کی نزاکت کو مقدم گردانیں تو سب سمجھ آجائے گا۔