Search
Close this search box.
پیر ,08 جون ,2026ء

تاریخ ان کا ذکر کن الفاظ میں کرے گی؟

آغاشورش کاشمیری نے کہا تھاعیاش قومیں چراغ سحری ہوتی ہیں ۔جب ان کی رگوں میں لہب ولعب رچ جاتا ہے تو پھر ان کی ہڈیاں ٹوٹنے لگتی ہیں ، خون نچڑنے لگتا اور روح قفس عنصری سے پرواز کرجاتی ہے ۔وہ ملت نہیں رہتی ایک گلہ رہ جاتی ہے ۔اجزائے منتشر کا شیرازہ۔اس کی تہذیب رفتہ رفتہ کٹنے لگتی ہے ۔ اس کا تمدن دھیرے دھیرے مرنے لگتا ہے اور اس کی ثقافت طاق نسیاں کا گلدستہ رہ جاتی ہے ۔کچھ دنوں اس کا چرچا تاریخ کے اوراق میں رہتا ہے پھر یہ سرمایہ بھی مصلحت کے پیوند کھا جاتے ہیں ، حتی کہ جس تاریخ پر کبھی فخر کیا جاتا تھا وہ ندامت کی دستاویزرہ جاتی ہے ۔ہمیں اس میں بادشاہوں کی کہانیاں ، سرداروں کی سازشیں اور قصرودربار کی عیاشیوں کے سوا کچھ نظر نہیں آتا، آخر اس مواد کو لے کر سخن ساز افسانہ تراشتے اور گفتگو طراڑ ناول لکھتے ہیں۔
بنظر غائر دیکھا جائے تو افسانے تراشنے والوں اور ناولنگاروں کے موضعات کے تانے بانے یہیں سے اٹھتے ہیں یہ سب نہ ہو تو وہ تنگئی داماں کا شکار رہیں اور مثالی کرداروں کی بجائے فقط خیالی بتوں ہی سے خود بہلتے رہیں اور ایک عالم کو نا آسودہ خوابوں کے بہلاوے میں لگے رہیں ۔یہ تخلیق کار ہی ہوتے ہیں جو اپنے ہنر سے کبھی کبھی راکھ میں دفن ننھی چنگاریوں کو بھی شعلہ مستعجل بنادیتے ہیں ۔لیکن اس کے لئے بقول اقبال ہزاروں سال نرگس کورونا پڑتا ہے۔
آج ہم ہی نہیں پورا عالم تہذیب کے نازک موڑ پر کھڑا خود پر محو استہزا ہے ۔نظام ہائے زندگی اپنے ہاتھوں مشکل تر کرتا جارہاہے کوئی مہاجن و سہوکار بنا کھڑا ہے تو کوئی مرقع غربت و افلاس، بیچ والا کوئی نہیں جسے زمانہ ماضی میں متوسط طبقے سے تعبیر کیا جاتا تھا یا وائٹ کالر کہلاتا تھا۔معاشرتی احوال یہ ہے کہ عید سعید کا تہوار سر پر ہے مگر کسی چہرے پر مسرت کے آثار دکھائی نہیں دیتے ، حکمران اپنے اور اپنے بہی خواہوں کے پڑوپے بھرنے میں مگن یا پھرمخالف سیاسی دھڑوں کی بیخ و بن میں مصروف یا پھر عید سے پہلے پہلے ان کی شکست و ریخت کا سامان کر لینے کی دھن میں ۔عوام کون ہیں ؟ بھیڑ بکریوں سے بدتر دوپائے جن کے ووٹ کو وہ عزت دی گئی کہ زمانہ حیران ششدر رہ گیا اور ابھی تو لوگ باور نہیں کرپارہے کہ ایسا بھی ہوتا ہے اس مشینی دور میں کہ آنکھوں میں دھول ایسے جھونکی جاتی ہے کہ کسی کو آنکھوں آنکھ خبر ہی نہیں ہوتی ۔
عوام کی اور عوام کے ووٹ کی عزت کا توذکر ہی چھوڑیں یہ فقط اناج کے تھیلوں اورخدمت کارڈ پر تصویر کے حوالے تک بات رہ گئی ہے وگرنہ انہیں عوام سے کیا غرض جو بڑوں کی افطار پارٹی کا اہتمام کرتے ہیں اور وہی بڑے کھانے میں تبدیل ہوجاتی ہے جس میں بڑے میاں صاحب کا اپنا گھرانہ یعنی مریم نواز، ان کی بیٹی بیٹا ، حسین اور حسن نواز ،میاں صاحب کی ایک بہو شامل ہوتی ہیں اور وزیر اعظم یا ان کے گھر کے کسی فرد کی شمولیت نہیں اور اس پر جو ہولناک بات ہے وہ یہ میاں نواز شریف چڑی والے صاحب کو بلاتے ہیں ، ان کے ساتھ جو کفتگو ہوتی ہے اس میں زمانہ طالب علمی سے لے کر حکومتی ادوار پر جو بات چیت ہوتی ہے اس میں سوائے مرغن غذائوں ، نان چنوں، سری پائے اور حریثے وغیرہ کے اور کوئی بات نہیں ہوتی ، چڑی والے جن کے پاس زمانے بھر کے دکھیاروں کے دکھ درد بھرے افسانے ہوتے ہیں ۔ان سے کچھ دریافت نہیں کیا جاتا کہ اس ملک کے افتادگان خاک کس حالت میں انہیں دووقت کی روڑی بھی مہیا ہے یا نان جویں کوترستے ہیں ۔وزیر اعلیٰ پنجاب نے عوام بار ے کوئی صائب مشورہ نہیں مانگا۔ لذت کام و دہن کے علاوہ کوئی موضوع زیر بحث نہیں آیا ۔مجھے ایک معروف صحافی کا جناب مجیب شامی سے کیا گیا ایک سوال یاد آیاکہ جس زمانے میں ٹیلی فون ڈائریکٹری چھپتی تھی اس زمانے میں میاں برادران کے ڈرائنگ روم میں فون ڈائریکٹری کے سوا کسی نے کوئی کتاب نہیں دیکھی ؟
شامی صاحب نے قہقہہ لگاتے ہوئے فرمایا میں نے بھی کچھ ایسا ہی سنا ہے ۔
جن حکمرانوں کا vision یہ ہو وہ قوم کو کیا دے سکتے ہیں ، سوائے محرومیوں اور مایوسیوں کے۔انہوں نے تاریخ کو کیا دیا ہے اور تاریخ دان جب ان کے فلسفہ حیات اور سیاسی نظریات کے بارے کچھ لکھنا چاہے گا تو کیا لکھے گا ؟ کیا وہ بھی جید صحافی کی طرح قہقہے میں بات اڑادے گا؟

یہ بھی پڑھیں