کچھ عرصے سے پاک ایران پائپ لائن کی تعمیر و تکمیل کی شدید ضرورت کو بیان کر رہا ہوں اس حوالے سے جتنے بھی کالم لکھے ان میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو بطور خاص مخاطب کرتا رہا ہوں اور اماراتی شیخ محمد بن زاید الہیان کو بھی، قطری شیوخ حکمرانوں کو بھی خلیجی شیوخ کو بھی کہ وہ ازراہ نوازش پاکستانی عوام کی تیل و گیس و توانائی کی شدید ضرورتوں کی فراہمی میں اس گیس پائپ لائن کی تعمیر و تکمیل میں پاکستانی عوام کے لئے امریکہ و مغرب کے سامنے کچھ رکاوٹ پیدا کریں اور پاکستانی عوام کی ضرورتوں کو پورا کرنے میں مدگار و محسن، سہولت کار محسن بن جائیں جس طرح میں سعودیہ، امارات، البحرین، الکویت، عمان، قطر کا از خود رضاکارانہ، مددگار محسن، وکیل و ترجمان بنا ہوا ہوں، عربوں پر جو بھی اعتراض ہوتا رہا ہے بالعموم اور آل سعود، شاہ سلمان ولی عہد محمد بن سلمان، وزیر دفاع شہزادہ خالد اور وزارت دفاع سعودیہ کے لئے میرا قلم و فکر اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے خیر کثیر اور فضل عظیم بنا ہوا ہے۔ کیا اس عظیم مسلسل خدمت کے عوض اگر میں شاہ سلمان سے، وزیراعظم ولی عہد محمد سے، وزیر دفاع خالد سے، اماراتی صدر الشیخ محمد بن زاید النہیان سے، قطری روسا سے، عمان و الکویت کے شیوخ سے استدعا کرتا ہوں کہ وہ پاکستان کے ساتھ نہ صرف معاشی طور پر معاون بنیں تو میں عشروں سے ریاست پاکستان سے، حکومتوں سے بھی اپیل کرتا رہا ہوں کہ وہ سعودی عرب اور خلیجی شیوخ ریاستوں کی سیکورٹی، دفاع، عسکری ضروریات میں معاون بنیں۔ ایسا کرتے ہوئے میں نے کبھی ان عرب و شیوخ بادشاہتوں پر احسان نہیں کیا بلکہ ایک مسلمان ہونے کے ناطے اپنا مطلوبہ فرض اور ذمہ داری ادا کی ہوئی ہے کہ جناب رسولﷺ کا فرمان ہے کہ مسلمان ایک جسم کی طرح ہوتے ہیں جب ایک حصہ درد سے دوچار ہوتا ہے تو سارا بدن درد سے دوچار ہوتا ہے۔ میں اس عرب درد کو محسوس کرتا ہوں کہ عرب بادشاہتوں کی فوری عسکری ضروریات کو جہاں پاکستان پورا کر سکتا ہو وہ لازماً پورا کرے۔ میں تو شاہ عبداللہ کے عہد سے لکھتا رہا ہوں کہ سعودیہ نہ صرف عسکری طور پر مضبوط ہو بلکہ پاکستان اپنے پاس جو بھی عسکری صلاحیت ہے بے شک وہ ایٹمی ریسرچ کی بھی ہو وہ بھی سعودیہ کو دے دے۔ میرا مقصد مستقبل بعید میں سعودی عرب کو لاحق جغرافیائی خطرات کا استدراک و احساس ہوتا تھا۔ ایران و عرب کشمکش میں بھی، یہ خاکسار عشروں سے عرب بادشاہتوں بالخصوص سعودیہ کا حامی، معاون، مددگار بھی بنا رہا ہے اور ایران پر کافی تنقید اور مخالفت لکھتا رہا ہے۔
اب جبکہ غزہ جنگ کے سبب مسئلہ فلسطین بہت زیادہ الجھ گیا ہے اور سعودیہ نے فلسطینوں کے حوالے سے ہمیشہ تعمیری، مثبت کردار ادا کیا ہوا ہے۔ مالی سخاوتیں بھی بہت کی ہوئی ہیں مگر فلسطینی و غزہ و حماس و الفتح سیاست کی خود غرضیوں اور بدعنوانیوں کے سبب اگر شاہ سلمان یا ولی عہد محمد مایوس ہوتے رہے ہیں تو وہ ایسا کرنے میں ہمیشہ حق بجانب رہے ہیں تاہم اس کے باوجود سعودیہ اور خلیجی شیوخ کا سفارتی کردار ہمیشہ مسئلہ فلسطین کے حق میں رہا ہے۔ بات ذرا دور چلی گئی واپس گیس پائپ لائن کی طرف لوٹتے ہیں۔
آج کے اس کالم میں میں جنرل راحیل شریف کا تذکرہ لکھ رہا ہوں۔ وہ جب آرمی چیف تھے وہ سعودی عقیدے، نظرئیے، جغرافیے کے حق میں کھل کر بیانات دیتے تھے اور انہی بیانات کی تائید کے لئے میں اکثر کالم لکھتا تھا۔
پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ یہ جو مسلمان متحدہ فوج بنی ہے جس کے کمانڈر اب جنرل راحیل شریف ہیں، اس مسلمان متحدہ فوج کا تصور، خیال، خاکہ، وژن اس خاکسار نے جنوری 2003ء میں ریاض میں پندرہ دن گزار کر واپس آکر لکھا تھا، اس وقت 9/11 ہوچکا تھا۔ شاہ عبداللہ (کرائون پرنس) نے دنیا بھر سے اسکالرز، اہل قلم، اہل علم کو جمع کیا تھا ان میں یہ خاکسار بھی شامل تھا، جب ولی عہد محمد اسلام آباد میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے بار بار ملتے تھے اور نواز شریف وزیراعظم تھے، تو یہ خاکسار اس سعودی و پاک عسکری قرب، محبت، تعاون پر بہت مسرور ہوتا تھا تاآنکہ محمد بن سلمان نے جنرل راحیل شریف کا کمانڈر کے طور پر انتخاب کرکے مسلمان متحدہ فوج کے میرے لکھے ہوئے خیال، تصور، خاکے، وژن کو حقیقت بنا دیا تھا۔ الحمدللہ علی ذلک۔
ماشاء اللہ جنرل راحیل شریف کافی سالوں سے ریاض میں سعودی فوج کی تعلیم و تربیت کا مشکل فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔ انشاء اللہ وہ مستقبل قریب میں بھی یہ ذمہ داری، فریضہ احسن انداز میں سرانجام دیتے رہیں گے۔ جنرل راحیل ہی کی طرح جنرل عاصم منیر بھی سعودیہ اور خلیجی ریاستوں سے بے پناہ محبت کرتے ہیں اور عسکری معاملات میں آج وہ سب کچھ کر رہے ہیں جس کی ضرورت سعودیہ اور خلیجی ریاستوں کو ہے اور یہ عرب بادشاہتیں بھی ماشاء اللہ پاکستانی معیشت کو مستحکم کرنے کے لئے بھرپور تعاون کر رہے ہیں اور سرمایہ کاری پاکستان میں کرنے جارہی ہیں۔ اس عمل کی بہت تحسین کرتا ہوں اور اگلے تین سال کے لئے جو توسیع ملی ہے جنرل راحیل شریف کو اس پر ماشاء اللہ اور الحمدللہ کہتا ہوں۔
جنرل راحیل شریف سے ذاتی استدعا ہے کہ وہ ولی عہد محمد بن سلمان کے بہت قریب ہیں وہ اپنے اس قرب کی بناء پر ولی عہد محمد اور ان کے ذریعے شاہ سلمان کی حکومت کو محبت سے آمادہ کریں کہ سعودی عرب پاک ایران پائپ لائن کی تعمیر و تکمیل کے لئے مالی، سیاسی، اسٹریٹجک مددگار بنے اور امریکی بلیک میلنگ کو روکنے میں سعودی عرب اور اس کی وساطت سے خلیجی ریاستیں اور ان کے شیوخ پاکستانی عوام کے دوست، ہمدرد، مددگار کا کردار ادا کریں۔ بہت نوازش ہوگی، پاک سعودیہ، پاک خلیجی دوستی و عسکری ا تحاد زندہ باد۔
سعودیہ کا شکریہ، سعودی ترقیاتی فنڈ کے ایک وفد نے ماحول دوست توانائی مہم کے تحت آزاد جموں و کشمیر کا دورہ کیا اور علاقے میں دوپن منصوبوں کے لئے معاہدے پر دستخط کئے۔ سعودی وفد کی قیادت چیف ایگزیکٹو آفیسر سلمان بن عبدالرحمان المرشد نے کی۔