Search
Close this search box.
اتوار ,14 جون ,2026ء

قادیانیت!متنازع فیصلے کو طول دینے کی کوشش؟

قادیانیوں کے متعلق سپریم کورٹ کے چھ فروری کے متنازع فیصلے کے خلاف دائر نظر ثانی پٹیشنز کی دوسری سماعت 28مارچ بروز جمعرات کو ہوئی۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس نعیم اختر افغان پر مشتمل سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے حکومت پنجاب، جمعیت علمائے اسلام،تحریک تحفظ ناموس رسالت ﷺ پاکستان،جماعت اسلامی اور دیگر کی جانب سے دائر نظرثانی پٹیشنز کی سماعت کی۔حکومت پنجاب کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب،جمعیت علمائے اسلام اور تحریک تحفظ ناموس رسالت ﷺ پاکستان کی جانب سے سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ سینیٹر کامران مرتضی جبکہ جماعت اسلامی کی جانب سے جسٹس(ر)شوکت عزیز صدیقی عدالت عظمیٰ کے روبرو پیش ہوئے۔سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ’’ہم وضاحت کرنا چاہتے ہیں کہ فوجداری مقدمات میں نظر ثانی کی پٹیشن صرف ریا ست،مدعی مقدمہ اور ملزم کی جانب سے دائر کی جا سکتی ہے۔ان کے علاوہ کوئی اور فوجداری مقدمات میں فریق نہیں بن سکتا۔اس مرحلے پر ہم مذکورہ کیس میں کسی کے بھی فریق بننے کی درخواست منظور نہیں کررہے۔ہم کسی کو بھی اس کیس میں فریق بنائے بغیر بھی رائے پیش کرنے کا موقع دیں گے۔ہم نے اسلامی نظریاتی کونسل سمیت دس دینی اداروں سے اپنے چھ فروری کے فیصلے کے متعلق رائے طلب کی تھی۔ان تمام کی رائے آچکی ہے۔المورد نے کہا ہے کہ ہم بطور ادارہ اس متعلق کوئی رائے نہیں دے سکتے۔جس بھی جماعت،تنظیم یا شخصیت نے مذکورہ کیس میں فریق بننے کی درخواست دی ہے،وہ تمام اپنے تحریری دلائل مقررہ مدت کے اندر جمع کرائیں۔ہم زبانی دلائل نہیں سنیں گے۔تحریری دلائل کی روشنی میں ہمارے کوئی سوالات ہوئے تو آئندہ تاریخ سماعت پر صرف ان کے جوابات سنیں گے۔تحریری دلائل کی روشنی میں ہم یہ بھی فیصلہ کریں گے کہ کسی کو اس کیس میں فریق بنانا ہے یا نہیں۔
چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیئے کہ ’’ہم شائد علمائے کرام اور مذہبی شخصیات سے زیادہ آئین و قانون کو سمجھتے ہیں۔لہذا ہمیں کوئی آئین و قانون نہ بتائے۔ہمیں قرآن و سنت اور شرعی احکام کے متعلق عبور حاصل نہیں ہے۔لہٰذا علمائے کرام اور مذہبی شخصیات اپنے دلائل کو صرف قرآن و سنت اور شرعی احکام تک محدود رکھتے ہوئے ہماری رہنمائی کریں‘‘۔دوران سماعت ایک درخواست گزار کی جانب سے مداخلت کئے جانے پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اظہار برہمی کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ’’ہمیں ہر موقع پر اخلاقیات کا خیال رکھنا چاہئیے۔سب سے بہتر اخلاق حضور ﷺ کے تھے۔ہم ان تک نہیں پہنچ سکتے۔ہم صرف ان کی نقل کر سکتے ہیں۔ہمیں چاہیے کہ ہر موقع پر جس حدتک بھی ممکن ہو،ان کی نقل کریں۔آئین پاکستان نے کسی بھی عدالتی فیصلے کے خلاف نظر ثانی کا جو حق دیا ہے،یہ بہت خوبصورت حق ہے۔اس حق کو استعمال کرتے ہوئے کسی بھی فیصلے میں کی گئی غلطی کی اصلاح کی جاسکتی ہے۔اگر ہم سے فیصلے میں کوئی غلطی ہوئی ہے تو ہم اس کی اصلاح کریں گے۔ڈنڈے اٹھا کر فساد کرنے سے بہتر ہے کہ مناسب راستہ اختیار کیا جائے۔‘‘ جماعت اسلامی کے وکیل جسٹس(ر)شوکت عزیز صدیقی نے موقف اختیار کیا کہ’’مذکورہ کیس میں فوجداری مقدمے کے متعلق جس حدتک تعلق ریاست، مدعی مقدمہ اور ملزم کا ہے،ہم اس متعلق کوئی بحث نہیں کریں گے۔ہمارا اعتراض چھ فروری کے فیصلے کے پیرا نمبر چھ سے دس تک ہے۔اسی حدتک میں دلائل دوں گا۔‘‘ اس موقع پر چیف جسٹس آف پاکستان نے جے یو آئی اور تحریک تحفظ ناموس رسالت ﷺ پاکستان کے وکیل کامران مرتضی کو روسٹرم پر طلب کرکے استفسار کیا کہ آئین پاکستان میں دوسری ترمیم کب ہوئی تھی اور کیا ہوئی تھی؟کامران مرتضی ایڈووکیٹ نے جواب دیا کہ آئین پاکستان میں دوسری ترمیم سات ستمبر 1974ء کو ہوئی تھی۔
اس ترمیم کے ذریعے آئین پاکستان کے آرٹیکل 260 میں ترمیم کرتے ہوئے مسلم اور غیر مسلم کی تعریف کرتے ہوئے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا تھا۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کامران مرتضی ایڈووکیٹ کو آئین پاکستان کا آرٹیکل 260 پڑھنے کی ہدایت کی۔کامران مرتضی ایڈووکیٹ نے مذکورہ آرٹیکل پڑھا تو چیف جسٹس آف پاکستان نے ان سے مزید استفسار کیا کہ آئین پاکستان میں جو مسلم اور غیر مسلم کی تعریف کی گئی ہے،وہ قرآن کریم کی کس آیت سے اخذ کی گئی؟اس پر کامران مرتضی ایڈووکیٹ نے جواب دیا کہ اس متعلق علمائے کرام ہی بہتر بتا سکتے ہیں۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ ہم نے آئین کی پاسداری کا حلف اٹھا رکھا ہے۔آئین پاکستان میں دوسری ترمیم کے حوالے سے مفتی محمود ؒ اور پروفیسر عبدالغفور ؒ کا اہم کردار تھا۔مسلم اور غیر مسلم کی جو تعریف آئین پاکستان نے کر دی ہے،وہ ہمارے لئے حتمی ہے۔اگر کسی کو اس حوالے سے کوئی اعتراض ہے تو وہ ساتھ والی عمارت پارلیمنٹ میں جاکر آئین میں ترمیم کروا لے۔جب آئین پاکستان نے ایک معاملہ طے کر دیا ہے تو بات ختم۔لہٰذا اس متعلق بحث کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی نے فاضل عدالت عظمیٰ سے استدعا کی کہ عدالت علمائے کرام اور دینی اداروں سے رائے طلب کرے کہ کیا بلاسفیمی یا تحریف قرآن اعلانیہ کرنا اگر جرم ہے تو کیا چار دیواری کے اندر یا پرائیویٹلی بلاسفیمی یا تحریف قرآن کرنے کی اجازت ہے؟ اس سوال کا اہم تعلق مذکورہ کیس سے ہے۔اس پر چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ ہمیں دوسری طرف نہ لے کر جائیں۔ہم نے دنیا کے سارے مسائل اس کیس میں نہیں حل کرنے۔نظر ثانی کی پٹیشنر میں ہم اپنے چھ فروری کے فیصلے میں اگر کوئی غلطی ہے تو صرف اسے ریویو کریں گے۔(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں