آئین کاغذ کاایک ٹکڑا جسے آمر ضیاء الحق کی ذریت کے پائوں تلے سے ابھی تک نکالا نہیں جاسکا۔اس کے چھوڑے ہوئے دانت اتنے مضبوط ہیں آج تک وطن کا جسد پاک ان سے آزاد ہی نہیں کرایا جاسکا ، مرنے والے کی اپنی اولاد ہار گئی مگر معنوی اولاد کو ازلی ابدی دائو پیچ سکھانے کے ساتھ ساتھ آب حیات بھی پلا گیا کہ نہ جانے وہ کس کس کے حصے کا جیون جیئے گی۔
لگتا ہے وہ سامری نسل سے تھا کہ جسے اپنے جیتے جی حوالہ موت کرگیا اس کی اولاد کے سر پر بھی حاکمیت کا تاج رکھ گیا کہ شہید کی اولاد داعی اجل ہوئی مگر مقدس بچھڑا یعنی داماد اور اس کی اولاد کو حکومتی خرچے پر مزے اڑانے کا راستہ بتا گیا۔ اسے جادو نہیں تو کیا کہیں گے؟
ان جادو گروں نے پوری قوم کو ہیپناٹائز کیا ہوا ہے ۔ان کو ہٹانے بھگانے والے سارے راستے اسٹیبلشمنٹ اور مقتدرہ کی راہداریوں سے آتے ہیں اور ان کے ورود کے آگے پیچھے بھی وہی آنکھیں بچھاتے ہیں ۔ یہ بونے دوست اور قدآور دشمن ہیں ان پر وہی قابو پاسکتا ہے جو اعمالیوں اور بد عنوانیوں کے سب گر جانتاہو ۔مگر سامری کی ان الادوں کے پاس وہ منتر ہیں جو ا ن کے گرد بنے سارے جال چوہوں کی سی تیزی سے کتر ڈالتے ہیں ۔ ان میں ایک ہی وقت میں ہاتھی دانت رکھنے کی صلاحیت بھی ہے کہ یہ دکھانے کے اور کھانے کے اور بن جاتے ہیں ۔میرے قارئین اکثر کہتے ہیں آپ کے اظہاریئے بعض اوقات علامتی افسانے کا روپ لگتے ہیں ۔انہیں خبر نہیں کہ میں بنیادی طور پر کہانی کار ہی ہوں اور میرے تازہ افسانوی مجموعے کے پچھلے سروق پر ملک کے بین الاقوامی شہرت یافتہ مصور اور مجسمہ ساز ڈاکٹر خلیق (میل ان فرٹیلی ٹی کے معروف ماہر)لکھتے ہیں ادیب کی کہانی ہمارے سامنے ہی کسی بات کی صورت میں پیدا ہوتی ہے اور بڑے ہوکر کہانی بن جاتی ہے ایسی کہانی جو بنا سہمے ہر بات سہولت سے کہتی ہے جیسے کہانی کا مقصد راہ کا پتھر ہٹانا ہو۔
ہر لکھنے والا ایسے ہی کربناک لمحات سے گزر کر اپنی بات لکھ پاتا ہے مگر اس سے بڑھ کر المیہ یہ وقوع پذیر ہوتا ہے کہ لوگ اسے سرسری لے لیتے ۔سب کا سب لکھا اکارت ہوجاتا ہے ۔ایسے ہی کسی اذیت بھرے لمحے ڈاکٹر اظہر علی مرحوم نے کہاتھا:
بحث بھری ملاقات کے بعد
وہ آخر بستی چھوڑ گیا
سب تاویلیں خاک ہوئیں
مرے سارے ذکر فضول گئے
جو حرف و صوت کوبھی بیوپار گرداتے ہیں وہ اس کمال ہنر کو بھی ان کی مداح پر لٹاتے اور نچھاور کرتے ہیں جو کسی انقلاب کی سان پر چڑھے تو کچی پنسل کے لکھے سے بھی کم وقت میں مٹ جائیں گے اور جو ان کی بے بضاعتی پر اپنا ہنر وارتے ہیں حشر ان کا بھی کچھ کم المناک نہیں ہوگا۔
لقمہ تر پر ہی ایمان و ایقان رکھنے والے آئین کے پاسبان بنتے ہیں اور جب کوئی آئین کی دھجیاں بکھیرتا ہے تو ان کا ضمیر جاگنا تو دور کی بات ان کو کچوکے تک نہیں لگاتا۔
سینٹ آئینی ادارہ نہیں ہے ؟ ہر بار اسے اوپر والوں کی منشا پر چھوڑ دیتے ہیں ، بھلے کچھ لوگ دہائی دیتے رہیں کہ یہ پرائے دیسوں کی شہریت رکھنے ہیں انہیں 128 ووٹ دلاکر سینٹ کا رکن بنوادیا جاتا ہے اس سے صوبے کے حقوق پر آنچ نہیں آتی کہ ہر اکائی مساوی ہونے کا تصور ہربار دیدہ دلیری یا بے شرمی کے ساتھ پامال کردیا جاتا ہے اور وہ جو لفظوں کی قیمت کی حصولی کا مشاہرہ سینٹ رکنیت کی صورت لیتے ہیں وہ اپنے اصولوں کی مقدس گائے آل شریف کی چوکھٹ پر ذبح کرکے سرخرو ہوتے ہیں ۔نجی چینلز پر شام سمے سے رات گئے تک جو چوپال سجتے ہیں ان میں حیا کے سب تکلفات ورا جھوٹ کی ٹیکسال سے ڈھلے کیسے کیسے سکے چلانے کی سعی کی جاتی ہے ، مگر کسی کے ضمیر کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔
جب خیر کی خبریں آنا بند ہوجائے تو ایک ایک کرکے خیر کے راستے بھی بند ہوجاتے ہیں۔اسی ماہ مقدس کو دوش پر اٹھائے یہ ملک بنا تھا اس کی تقدیس بھی خاطر میں لائی گئی۔سینٹ جس کا سالانہ بجٹ کروڑوں نہیں اربوں پر مشتمل ہوتا ہے ۔اس کے سابق چیئرمینوں کی مراعات ہی اربوں سے بڑھ کر ہوتی ہیں ، سٹینڈنگ چیئرمین کی توبات ہی اور ہے۔ اب کی بار ایک دربار کے سجادہ نشیں، غریب مسکین کو سینٹ کی کرسی پیش کرنے پر پی پی پی تلی ہے اور ہائی بریڈ نظام کا خاصہ یہی ہے کہ دبائو برداشت کرنے میں کمال ہے ۔وہ پی پی پی کا ہو اسٹیبلشمنٹ کا یامقتدرہ کا۔