یہ 1975-76ء کی بات ہے۔ میں گورنمنٹ ولایت حسین اسلامیہ کالج ملتان میں سال اول (سائنس) میں پڑھتا تھا ۔منیرچوہدری سال چہارم کے طالب علم تھے ۔ہم پر دانشورانہ رعب و دبدبہ ڈالنے کے لئے ان کی محدب عدسوں والی عینک ہی کافی تھی ، نحیف ونزار، نفیس طبع اور پروقار شخصیت ، ہم سوچتے تھے آئن سٹائن بھی ایسا ہوتا ہوگا ،پھر ان کے دھان پان سراپا کو دیکھ کر یہ تصور ابھرتا ان میں لڑائی یا زور آزمائی کی صلاحیت مطلق نہیں ہوگی مگر کالج یونین کے ایک الیکشن لڑنے کے نتائج دیکھ کر ہمیں اپنی رائے پر نظر ثانی کرنا پڑی تب ان کی شخصیت کے اور جوہر بھی عیاں ہوگئے۔بہر حال ان دنوں کالجز اور جامعات میں بین الکلیاتی اور بین الکلیاتی مقابلہ جات ہواکرتے تھے ۔اپنے کالج کی طرف سے ان میں حصہ لینے کے لئے ہم انہی کی قیادت میں جایا کرتے ۔تقریری مقابلہ ہو یا پنجابی اردو مباحثہ اس میں ہمیشہ وہ سرفہرست ہوتے تھے ۔جو نیئرگروپ میں میں اور عادل مباحثے میں اول دوم آیا کرتے(کبھی وہ اول میں دوئم اور کبھی میں اول وہ دوئم)،مقابلہ حسن قرآت اور حسن نعت میں مجھے ہمیشہ فضیلت حاصل ہوتی ۔
پھر یوں ہوا کہ منیر چوہدری گریجویشن کرکے یونیورسٹی چلے گئے ، مذکورہ تقریبات میں کبھی کبھار ملاقات ہوجاتی ۔ہم ابھی کالج ہی میں تھے کہ ماسٹر کرنے کے بعد وہ ہماری خوبصورت یادوں کا حصہ ہی رہ گئے ۔بہت عرصہ بعد معلوم ہوا سی ایس ایس کرکے نوکر شاہی کا اٹوٹ انگ بن گئے ہیں ۔ایک بار یہ جنکاری بھی ہوئی کہ کسی وزارت میں عہدیدار ہیں مگر جیالے سیاسی کارکنوں سے کسے ملنے کا حوصلہ ہوتا ہے ، ہمیں تو جیل میں بھی ابا کے سوا کوئی ملنے نہیں آتا تھا حالانکہ ان دنوں ایجنسیز کے پرورہ اتنے بااختیار نہیں ہوتے تھے۔منیر چوہدری ہماری یادوں کی بھیڑ میں گم ہوگئے اور اب کہ ہم بھی پیش پاافتادہ ہوئے اور وہ بھی ، دو روز قبل ان کاایک نامہ پروفیسر ڈاکٹر سید علمدار بخاری کی وساطت سے موصول ہو ، اس میں جو کرب ہے وہ میں اکیلا نہیں سہار سکا ، آپ کے ساتھ بانٹ رہا ہوں کہ آپ پڑھنے والے ہی ایک لکھنے والے کی آخری امید ہوتے ہیں ۔یہ خط یوں تو انہوں نے ایک حلال خور شہری کی طرف سے لکھا ہے مگر نیچے اپنانام نامی اسم گرامی لکھنا نہیں بھولے ان کی جرات کا اندازہ آپ کو ہوجائے گا۔ وزیراعظم پاکستان کے نام ایک کھلا خط ۔
محترم المقام جناب شہباز شریف صاحب وزیراعظم پاکستان تسلیمات وآداب۔
حضور میرا نام ’’گاموں حلال خور‘‘ ہے اور چونکہ میں پڑھا لکھا نہیں ہوں اس لئے یہ خط ایک نامہ نویس سے تحریر کروا رہا ہوں۔ آپ یقینا میرا نام سن کر چونک گئے ہوں گے کیونکہ مملکت خداداد پاکستان جس کا سرکاری مذہب اسلام ہے اور جسے مسلمانان ہند نے پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ کا نعرہ بلند کرکے رمضان المبارک کی 27ویں شب مبارک میں حاصل کیا تھا ، اورجس کے آئین میں اللہ کی حاکمیت کو عوامی نمائندے اپنے پورے ایمان سے نافذ کرنے کے پابند ہیں اور جہاں عدالتوں، مدرسوں، مسجدوں، ریڈیو، ٹی وی، پریس کانفرنسوں، سیاسی بیانوں میں حتی کہ آپ جناب کے ارشادات عالیہ میں بھی دن رات ایمانداری کا درس دیا جاتا ہے، اورجہاں روز اول سے کرپشن کے خاتمے کے لئے پاکستان پینل کوڈ کی متعلقہ دفعات کے علاوہ پریوینشن آف کرپشن ایکٹ 1947، پریوینشن آف کرپشن ایکٹ 1950، پریوینشن آف کرپشن ایکٹ 1958، پاکستان اینٹی کرپشن آرڈی نینس 1961، احتساب ایکٹ 1997 اور نیشنل اکائونٹیبیلٹی بیورو آرڈی نینس 1999 جیسے خصوصی قوانین نافذ کئے گئے ہیں، اورجہاں پولیس کے علاوہ قومی اور صوبائی سطح پر پبلک اکائونٹس کمیٹیز، اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹس، ایف آئی اے، احتساب بیورو، اور نیشنل اکائونٹیبیلٹی بیورو (نیب) جیسے ادارے قائم کئے گئے ہیں اور جہاں کم از کم چھ وزرائے اعظم کرپشن کے الزام میں برطرف کئے گئے ہیںوہاں میرے نام کے ساتھ حلال خور کا لاحقہ پڑھ کر آپ کا چونک اٹھنا کچھ زیادہ تعجب کا باعث نہیں ہے آپ سوچتے ہوں گے کہ ایک ایسے معاشرے میں جہاں حرام خوری لوگوں کے رگ وپے میں سرایت کر گئی ہے وہاں گاموں نے ’’ حلال خور‘‘ ہونے کا دعویٰ کیونکر کر دیا۔
(جاری ہے)