Search
Close this search box.
پیر ,08 جون ,2026ء

وزیر اعظم شہباز شریف کے نام کھلا خط

(گزشتہ سے پیوستہ)
حضور والامیں دراصل گٹر وغیرہ کی صفائی کرنے پر مامور ہوں، مجھے جاہل لوگ عرف عام میں چوڑا چمار، کمی کمین یا صفائی والا کہہ کر پکارتے ہیں لیکن اہل لکھنو نے اسلام کی عظیم روایات اور اعلیٰ اخلاقی اور تہذیبی اقدار کے پیش نظر ان گندے اور گھٹیا القابات کی جگہ ہمیں ’’حلال خور‘‘ کے خطاب سے نوازا تھا۔ چنانچہ پڑھے لکھے شرفا کی اولاد ہمیں آج بھی اسی نام سے پکارتی ہے آمد برسر مطلب، آج شیخ عبدالکریم کے ہوٹل کے باہر دیوار مہربانی (یہ فٹ پاٹھ کے ساتھ وہ جگہ ہے جہاں غریبوں کو چٹائیاں بچھا کر افطاری کروائی جاتی ہے اس طرح بھوکوں کو راہ للہ افطاری کروانے سے صاحب ثروت لوگوں کی جنت کا سامان ہوجاتا ہے اور ہم جیسے غربا و مساکین کا دوزخ شکم بھی بھر جاتا ہے، یوں پیٹ بھر کے سب آپ کی عوام نواز حکومت کو دعائیں دیتے اپنی اپنی پناہ گاہوں کی راہ لیتے ہیں) کے سائے میں کھانا کھانے کے دوران جب سامنے ہوٹل میں چلنے والے ٹی وی پہ نظر پڑی تو پتہ چلا کہ آپ کی دیالو حکومت نے یوم جمہوریہ مناتے ہوئے جہاں مختلف شعبوں میں اعلیٰ خدمات کے اعتراف میں اعزازات تقسیم کئے ہیں وہاں نوکر شاہی کے کچھ جغادریوں کو بھی ان نوازشوں سے مالا مال کردیا ہے۔
منگو حلال خور جو میرے ساتھ ایک ہی پلیٹ میں کھانا کھا رہا تھا ربڑ جیسی بوٹی پر دانت گاڑتے ہوئے بولا گاموں یہ کس کارکردگی کا انعام ہے؟گاموں یار یہ سرکاری افسر تو اپنے کام کی تنخواہ لیتے ہیں، خصوصی الائونسز، سرکاری گاڑیاں،کوٹھیاں، نوکر چاکر، بیرون ملک دورے اور پلاٹوں کے مزے بھی لوٹتے ہیں، پھر انہیں کون سی کارکردگی کی بنا پر یہ تغمات عطا ہوئے ہیں- منگو چھوڑ یار یہ بڑے لوگوں کی باتیں ہیں تو پیٹ کی آگ بجھالیکن گاموں اگر یہ ساری کارکردگی پولیس اور پاس گروپ کے لوگ ہی کرتے ہیں تو باقی بیوروکریسی کیا گھاس کھودتی ہے؟گاموں مجھے تو لگتا ہے یہ الیکشن کی خدمات کا صلہ ہے۔
اور کونسی کارکردگی ہے ان کی؟مجھ سے کیا پوچھتے ہو؟ میں ان پڑھ اور کیا بتائوں گا، بھائی اپنے شریف زادہ صاحب سے پوچھو نا!پوچھا تھا ان سے بھی۔ وہ تو فرماتے ہیں کہ اس ملک میں تباہی کے ذمہ دار ہی یہ افسران ہیں۔
بھلا ان کی مرضی کے بغیر سیاستدان کرپشن کر ہی کیسے سکتے ہیں؟اگر یہ بھلے ہوتے تو ہماری آنے والی نسلیں کیسے مقروض ہوجاتیں آج ہمارا پیارا وطن 194.81 کھرب کا مقروض ہوچکا ہے، حکومتی اداروں کا خسارا 1.395 کھرب سے بڑھ چکا ہے -پی آئی اے 713 ارب، 6 پاکستان اسٹیل مل 226 ارب اور پاکستان ریلوے 55 ارب کے گھاٹے میں ہے 5.73 ارب کے گردشی قرضے اس ملک پہ لاد دئیے گئے ہیں لیکن ملک ہے کہ پھر بھی توانائی کے بحران سے دوچار ہے۔ دریا سوکھ رہے ہیں ۔ پرانے ڈیم سیلانی مٹی سے بھر چلے ہیں۔ نئے ڈیم بنائے نہیں جارہے۔ سیلابوں کی روک تھام کے لئے نہ پانی سٹوریج کا بندوبست ہے نہ دریائوں کے حفاظتی بندوں کی از سر نو مرمت کی گئی ہے ۔متاثرین کھلے آسمان تلے پڑے ہیں۔ گندگی سے بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ہسپتالوں کی حالت دگرگوں ہے‘ مریض راہداریوں میں پڑے ہیں۔ ادویات میسر نہیں ہیں۔ تعلیمی اداروں میں ڈھور ڈنگر بندھے ہیں ۔
بجلی، گیس، پٹرول ہر ماہ مہنگائی کے ریکارڈ توڑے جاتے ہیں اشیائے خوردنی اور اجناس ضرورت کی قیمتیں آسمانوں سے باتیں کر رہی ہیں۔ عوام کی قیمت خرید دم توڑ چکی ہے۔ بے روزگاری، بھوک اور بیماری نے سماج میں پنجے گاڑ دیے ہیں۔ ساڑھے پانچ کروڑ لوگ خط غربت سے نیچے دھکیل دیے گئے ہیں۔ کچے میں ڈاکو راج اور پکے میں پولیس راج قائم ہوگیا ہے اور اس عالی شان کارکردگی پہ بھی نوکر شاہی میں اعزازات تقسیم کئے جا رہے ہیں ۔
لیکن میرے محبوب خادم اعلیٰ،
آپ منگو کی باتوں کا ہرگز برا نہ منائیں اور ملک کے ان محسنوں کے سر پہ اپنا دست شفقت برابر رکھے رہیں۔ منگو تو پاگل ہے کہتا ہے کہ اس معاشرے کو ان ساری بیان کردہ غلاظتوں میں دھکیلنے والی نوکرشاہی کو اگر حسن کارکردگی کے اعزاز عطا کرنے ہیں تو پھر ہمارا کیا قصور ہے؟ہم تو گندگی صاف کرنے والے ہیں پھر بھی ہم چوڑے اور چمار سمجھے جاتے ہیں۔ ہمارے ہردلعزیز وزیراعظم ہمارے اپنے خادم اعلیٰ اے غریبوں کے عظیم ہمدرد‘ آپ بس صاحب لوگوں کا خیال رکھیں – منگو کو میں خود ہی سمجھا لوں گا۔ ہم تو گند صاف کرتے ہیں، اور مہذب لوگ ہمیں ’’حلال خور‘‘ کہتے ہیں۔
بھلا حلال خور کو اعزاز کیسے دیا جا سکتا ہے؟
احمق کہیں کا!
فقط آپ کا خیراندیش‘ گاموں حلال خور

یہ بھی پڑھیں