Search
Close this search box.
پیر ,08 جون ,2026ء

بھٹو زندہ ہے ، بھٹو پائندہ ہے

سپرنٹنڈنٹ پکارتا ہے۔ وقت ختم ہو چکا۔ میں سلاخوں کو پکڑتے ہوئے اسے کہتی ہوں۔ برائے مہربانی کوٹھڑی کا دروازہ کھول دو۔ میں اپنے پاپا کو چھو کر الوداع کہنا چاہتی ہوں۔
سپرنٹنڈنٹ انکار کر دیتا ہے۔
پھر میں سلاخوں کے درمیان سے اپنے والد کے جسم کو چھونے کی کوشش کرتی ہوں۔ وہ کافی نحیف و ناتواں ہو چکے ہیں لیکن سیدھا اٹھ بیٹھتے ہیں اور میرے ہاتھ کو پکڑ کر کہتے ہیں کہ آج شب میں دنیا سے آزاد ہو جائوں گا میں والد کی طرف دیکھ کر پکار اٹھتی ہوں، ’’الوداع پاپا‘‘۔ اس دوران میری امی بھی انہیں سلاخوں سے پکڑ لیتی ہیں اور اس طرح یہ ہماری آخری ملاقات ختم ہو جاتی ہے۔
ہم پھر ملیں گے، اس وقت تک کے لیے خدا حافظ، مجھے ان کی آواز سنائی دیتی ہے۔ میں جاتے وقت مڑ کر دیکھنا نہیں چاہتی کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ میں ضبط نہیں کر سکوں گی۔
4 اپریل 1979ء کو راولپنڈی سینٹرل جیل میں انہوں نے میرے والد کو قتل کر دیا۔
شہید بی بی کی کتاب ’’دختر مشرق‘‘ سے اقتباس۔
پھر اس نے بھی اسی راستے پر جان دے دی جس راستے پر اس کاعظیم باپ چل کر امر ہوا ، وہ بھی تاریخ میں زندہ رہنے کے لئے کسی سمجھوتے پر آمادہ نہ ہوا اوراس کی بیٹی نے بھی میثاق جمہوریت کرنے کے باوجود جمہور کی آزادی کے لئے جادہ شہادت کو حرز جاں بنا لیا اور اس کے شوہر نامدار اور بچوں نے اسے کسی دربار پر پڑے آہنی صندوق کی شکل دے دی اور ہر الیکشن پر اس صندوق سے اس کی میت نکال کر اس کے لہو رنگ کفن کے نام پرگلیوں گلیوں اپنی کامیابیوں کی بھیک مانگتے ہیں اور جب اس کے نام کو کیش کرالیتے ہیں تو اس کے قاتلوں کے ساتھ معاہدوں کے نتیجے میں وزارتوں اور صدارتوں پر متمکن ہو کر ملک لوٹنے والوں سے اپنا پورا پورا حصہ وصول کرنے کے لئے شرم و حیا کے سارے تقاضے پس پشت ڈال دیتے ہیں۔
میثاق جمہوریت کے نام پر جمہوریت کی جتنی عفت دری ہو چکی بہت ہے جمہور کا اور کتنا لہو اس راہ پر بہانا ہے ، مفادات و مراعات کے کتنے اور سنگ میل ہیں جنہیں عبور کرکے اس ملک اور ٹکڑے کرنے ہیں ۔
بھٹو شہید نے آمریت کو سجدہ گاہ نہ بنا کر یہ درس نہیں دیا تھا کہ اس کی پارٹی اس کا نظریہ بیچ کر اقتدارکے ایوانوں میں پہنچے اور پھر برسر اقتدار ہونے کے لئے غیر نظریاتی قوتوں سے بھی الحاق کرلے ۔اصولوں کے بدلے سر دینے والے بھٹو کے نواسے نواسیاں دودھو ں نہائیں پوتوں پھلیں ۔ جمہوریت کے نام پر سیاسی انتشار کا کاروبار کرنے والوں کے دیئے خوش رنگ کھلونوں سے کب تک شہید ماں کا بیٹا بہلتا رہے گا ، باپ کی ڈگ ڈگی پر کب تک ناچتا رہے گا ؟
مفادات مراعات کی سیاسی بساط کا پیادہ بن کر مقتدرہ سے شہہ مات کھانے کی ہزیمت سے کب تک نانا، ماموں اور ما ں کے کفن کی قیمت وصول کرتا ر ہے گا ۔باپ کے دیئے وزارت عظمی کے لولی پاپ پر چھائے جانے کی آس پر کب تک جئے گا ؟ جیالوں کی الفت کو زندہ ہے بھٹو کے نعرے پر لوٹ کر ضیا باقیات کی جھولیاں بھرتا رہے گا۔؟ پنجاب اور سرحد پختونخواہ تو بھٹو کا تھا ، جنوبی پنجاب شہید بے نظیر بھٹو کا تھا سب لٹا دیئے ، سندھ کا بھی اندرون باقی رہ گیا جو پی پی پی کی کامیابی کی ضمانت ہے۔مگر کب تک کوئی مجاور بن کر زرداری اور بلاول زرداری کے پیچھے بھاگتا رہے گا کہ ا نہوں نے اپنے کندھوں پر بے نظیر شہید کا خالی تابوت اٹھایا ہوا ہے ۔کون اس نعرے کی لاج کی خاطر پابجولاں رہے گا کہ زندہ ہے بھٹو ‘بھٹو کو آمر نہیں مار سکا تھا ، نہ آمریت اس کی پارٹی کو بیخ و بن سے اکھیڑ سکی ۔یہ زرداری اور اس کی اولاد ہے جو شہید اور شہید کی بیٹی کو کوڑیوں کے بھائو بیچتے پھرتے ہیں ، ان سیاسی سٹے بازوں کا کاروبار جلد یا کچھ دیر بعد مندی کا شکار ہونے والا ہے ۔بھٹو تاریخ میں زندہ ہے اور تاقیامت زندہ رہے گا کہ اس نے میرے نبی آخرالزماں ﷺ کی ناموس کی پہرے داری کی تھی ،قادیانیت کو اپنے پائوں تلے دفن کردیا تھا ۔بھٹو زندہ باد، بھٹو پائندہ باد۔

یہ بھی پڑھیں