Search
Close this search box.
پیر ,08 جون ,2026ء

کاسہ گدائی لئے پھرتے ہو

جس قوم کے حکمرانوں کی آنکھوں کا پانی مرجائے اس قوم کا مرناجینا ایک ہو جاتا ہے۔ حکمرانوں کی سفاکیت اور بے مروتی کی انتہا کیا ہوگی کہ ننگی پشت لئے سرزمین حجاز پہنچ گئے ۔قوم بھوک افلاس اور غربت کے نچلے درجے پر کھڑی ہچکیاں لے رہی ہے ، معیشت کی بدحالی کا یہ عالم ہے کہ مالیاتی اداروں کے سربراہ چہرے چھپانے پر مجبور ہیں کہ ملازمین کی تنخواہوں کے لئے سرمایہ کہاں سے لائیں ، محکموں کو کیا منہ دکھائیں ، پنشنرز کرب و الم میں ڈوبے سرکار کی جان کو رورہے ہیں اور حکمران ان کے دکھ کے مداوے کے لئے کشکول اٹھائے پہنچے بھی ہیں تو گدھوں کا ایک غول بیابانی ساتھ لئے ۔کیا سوالیوں کا اتنابڑا ہجوم اس لئے سا تھ لے کر گئے ہیں وزیر اعظم کہ زیادہ لوگوں کے کشکول دیکھ کر سعودی عرب کے حکمران ترس کھانے پر مجبور ہو جائیں ؟ اسی کو ہی تو ظلم کہتے ہیں کہ کوئی کام نکالنے کے لئے غلط راستہ اختیار کیا جائے ۔اب یہاں یہ کہنا بھی دروغ کے مترادف ہے کہ قوم نے انہیں یہ مینڈیٹ دیا ہے جبکہ ساری دنیا آگاہ ہے کہ رات کے اندھیرے میں مینڈیٹ چرایاگیا اور اب شاید سزا کے طور پر قوم کو باور کرانے کے لئے تباہ شدہ معیشت کے دنوں یہ بوجھ بلوں کی صورت قوم کے کندھوں پر ڈالاجائے گا۔اتنا بڑا وفد تو کسی خوشحال قوم کا سربراہ بھی اپنے جلو میں نہ لے جاتا ہوگا جتنا خادم قوم شہباز شریف اپنے ہمراہ لے گئے ہیں ۔ کیاحکومت نے گزشتہ دو ماہ کے دوران ملکی بنکوں سے 700ارب روپے اضافی قرضہ انہی اللوں تللوں کے لئے لیا۔؟کس کو معلوم نہیں لگ بھگ ایک سال سے بھان متی کا یہی ٹولہ اقتدار کے سنگھاسن پر متمکن ہے ۔جولائی 2023ء تا مارچ 2024 ء چھیالیس کھرب 90 ارب روپے کے قرضے لئے گئے اور ابھی گنتی کے چند دن گزرے ہیں کہ ایک کھرب روپے کا مزید قرضہ لیا گیا یوں قرضوں کاحجم 47 کھرب روپے ہوگیا۔یہ سارے قرضے حکومتی اخراجات کی مد میں لئے گئے ہیں ،نوکر شاہی اور وزیروں ، مشیروں کے عشرت کدے آباد رکھنے کے لئے وصول کئے گئے ہیں۔قوم کی غربت و افلاس کو دور کرنے کے لئے ، مہنگائی کو کم کرنے کے لئے اور اقتصادی بدحالی کی درستگی کے لئے نہیں لئے گئے۔
مالی سال 2022 ء اور 2023 ء میں اسی عیاش حکومتی ٹولے نے بنکوں سے 34 کھرب، 48 ارب اور 37 کھرب 16ارب روپے کے قرضے اینٹھے ، اس پرمستزاد توانائی کے نرخ بڑھا کر قوم کا لہو نچوڑا ۔جبکہ سود کی شرح بڑھا کر جو لوٹ مار کی گئی وہ سوا۔سال رواں کے چھٹے ماہ یعنی جون 2024 ء کی 30 تاریخ تک دس ارب ڈالر کی ادائیگی کرنی ہے جبکہ لمحہ موجود تک اسٹیٹ بنک کے زر مبادلہ کی مد میں فقط 8 ارب ڈالر کا زخیرہ رکھا ہے تبھی تو وزیر اعظم ایک بڑا وفدلے کر سعودی عرب گئے ہیں کہ اس کی معیشت سے اپنے جینے کا سامان کر سکیں۔
پوری قوم کا کھانا پینا اور مرناجینا حرام کرکے اپنے مینڈیٹ سے محروم ہونے کابدلہ لینے کا یہ شاخسانہ اگلے انتخاب میں قوم چکا دے گی ۔ انشااللہ اور تمہیں ہزیمت اٹھانے کاخوف نہیں تو مخلوق کے منہ سے لقمہ چھینتے ہوئے اس خالق ہی سے ڈر جائو جس نے تمہیں تپتی ہوئی بھٹیوں کے ماحول سے نکال کر اس مقام تک پہنچایا ، تمہارے ننگے سروں پر تاج شاہی سجایا ورنہ تم کیاتھے فقط لوہا کوٹنے والے !حکام عرب کے سامنے دست سوال درازکرنے کے بعد پورے عالم کے رب کے حضور پیش تو ہوئے ہوگئے کیا تمہارے ضمیر نے اس پل بھی چٹکی نہیں بھر ی ، اس لمحے بھی تمہاری رگ جاں سے یہ احساس مفقود ہی رہا کہ اپنے وطن کے بے خا نما افتادگان خاک کے لوٹے ہوئے حقوق انہیں لوٹا دینے کا عہد ہی باندھ لیتے۔ان کی فاقہ مستی کے علاج کی توفیق ہی مانگ لیتے۔
تم جو حکمران خاندان کہلاتے ہو، یہی توکبر ہے ، یہی تو فخر ہے تمہاراجس پر تم پھولے نہیں سماتے ۔ زمام اقتدار تمہارے ہاتھ میں ہے اور اسی پر تم نازکرتے ہو ۔حکومت پر۔۔جس کے بارے شورش نے کیا خوب کہا تھا اس نازنین نے کبھی وفا نہیں کی یہ قلو پطرہ کا مزاج رکھتی ہے ، باالفظ دیگر ڈھلتی پھرتی چھائوں ، جس سے اس نے عقد کیا عموماً اسی کے ہاتھ سے مارا گیا اور جو عمر طبعی گزار کر واصل بحق ہو گئے ان کا دبدبہ موت کھا گئی۔ بادشاہوں کی قبروں کو دیکھ لیجئے ویرانے ہوچکی ہیں اور جب لوگ ان کے مقبروں میں داخل ہوتے ہیں تو صرف تایخ کا چسکایاادب کا مذاق ساتھ ہوتا ہے۔اس کے برعکس فقیروں کے مزار صدیوں کی گردش کے باوجود زندہ ہیں اور عقیدتوں کا ہجوم ہر آن موجود ہے اور تم تو اپنے ہاتھوں اپنی تاریخ کے صفحات سیاہ کر رہے ہوکہ تمہاری پہچان ہی نہ رہے۔

یہ بھی پڑھیں