Search
Close this search box.
اتوار ,14 جون ,2026ء

ذٰلِکَ الْکِتابُ لَارَیْبَ فِیْہ

(گزشتہ سے پیوستہ)
سورۃ البقرہ میں ارشادہے:
ذلک الکتاب لاریب فیہ
’’یہ (اﷲ تعالیٰ کی) کتاب ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔‘‘
ایمان کا ایک تقاضہ یہ ہے کہ اﷲ کی پوری کتاب پر ایمان لانے اور بلاتفریق اس کے تمام احکام پر عمل کرے۔ ایسا نہ ہو کہ ان تعلیمات کو تو مان لیا جائے جو دل پسند اور مرضی کے مطابق ہوں اور ان تعلیمات کوچھوڑ دیا جائے جو اپنی مرضی کے خلاف اور ناپسند ہوں یا خاندانی روایات یا قومی دستور سے ٹکراتی ہوں۔ جو لوگ کتاب الہٰی کی تعلیمات اور احکامات میں اس طرح کی تفریق روا رکھتے ہیں ان لوگوں کودنیا میں ذلت و رسوائی اور آخرت میں شدید ترین عذاب ہو گا۔
قرآن مجیدکا دوسرا حق انسانوں پر یہ ہے کہ اس کی تلاوت کریں، سورۃ البقرہ میں فرمایا:جن لوگوں کوہم نے کتاب دی ہے ، وہ اس کی تلاوت اس طرح کرتے ہیں جیسا کہ تلاوت کرنے کا حق ہے۔‘‘
حضرت ام المؤمنین عائشہ صدیقہؓ سے کسی نے پوچھا: کہ حضور اکرمﷺ کلام شریف کس طرح پڑھتے تھے؟انہوں نے کہا:’’سب حرکتوں(یعنی زبر زیر وغیرہ) کو پورا نکالتے تھے اور ایک ایک حرف الگ الگ ظاہر ہوتا تھا۔‘‘ اسی کوترتیل کہتے ہیں۔ ترتیل سے تلاوت مستحب ہے اگرچہ معنی نہ سمجھتا ہو۔
حضرت عبداﷲ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:’’جو شخص قرآن پاک کا ایک حرف پڑھے اس کے لئے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔‘‘ پھر حضورﷺنے سمجھانے کے لئے مثال ارشاد فرمائی: میرا یہ مقصد نہیں کہ الم ایک حرف ہے بلکہ اس میں الف ایک الگ حرف، لام علیحدہ حرف اور میم علیحدہ حرف ہے۔‘‘ یعنی لفظ کو حرف نہ سمجھا جائے۔تو جس نے لفظ الم کہا اس کے لئے تیس نیکیاں لکھی گئیں۔
قرآن مجید کا انسانوں پر تیسرا حق یہ ہے کہ وہ اس کو سمجھیں اور اس کی آیات میں غور وفکر کریں۔ اس لئے کہ یہ کتاب ہدایت ہے اور وہی لوگ اس سے ہدایت حاصل کرسکتے ہیں جو اس کو سمجھ کر پڑھیں اور اس کے معنی میں غور فکر کریں۔ پھر یہی نہیں بلکہ اﷲ تعالیٰ نے فہم القرآن کے ساتھ ساتھ’’تدبر قرآن‘‘ کی بھی تاکید فرمائی ہے۔ چنانچہ سورہ ص میں ارشاد ہے:
’’یہ (قرآن) ایک مبارک کتاب ہے جو ہم نے تمہاری طرف نازل کی ہے تاکہ لوگ اس کی آیات میں غوروفکر کریں اور سمجھدار لوگ نصیحت حاصل کریں۔‘‘
حضور اکرمﷺ نے بھی فہم قرآن اور تدبر قرآن کی تاکید فرمائی ہے۔ آپ ؐ نے ارشادفرمایا:
’’قرآن مجید کو دلچسپی سے اور مزے لے لے کر پڑھو اور اس میں تدبر کرو۔‘‘
آپﷺ نے اس بات کو ناپسند فرمایا ہے کہ کوئی شخص تین دن سے کم مدت میں پورا قرآن مجید پڑھے اوراس کی وجہ یہ بتائی کہ (عام آدمی) اتنی تھوڑی مدت میں قرآن پاک کوسمجھ کر نہیں پڑھ سکتا۔
قرآن مجید کا چوتھا حق بندوں پر یہ ہے کہ اس کی تعلمیات پر عمل کیا جائے۔ قرآن مجید صرف کتاب تلاوت علم ہی نہیں ہے کتاب عمل بھی ہے۔ سورۃ الانعام میں ارشاد باری ہے:
’’ ا س کتاب کو ہم نے نازل کیا ہے جو بڑی برکت والی ہے، اس کی تعلیمات پر چلو اورتقویٰ اپناؤ تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔‘‘
حضورﷺ نے نہایت واضح الفاظ میں یہ بتلایا ہے کہ اگر قرآن مجید کی تعلیمات پر عمل نہ کیا جائے تو اس کی تلاوت اور اس میں غور وفکر کے کچھ مفید ہونے کا کیا سوال؟خود ایمان ہی خطرہ میں پڑ جاتاہے۔ آپﷺ کا ارشاد ہے:
’’تم میں سے کوئی شخص مسلمان نہیں ہو سکتا جب تک اس کی خواہشات میری لائی ہوئی ہدایت کے تابع نہ ہوجائیں۔‘‘
اور فرمایا’’ اور جو شخص قرآن کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حلال کرے وہ قرآن پر ایمان نہیں رکھتا۔‘‘
حضرت علی کرم اﷲ وجہؓ سے مروی ہے کہ رسول اکرمﷺ کا ارشاد ہے:’’جس نے قرآن پڑھا، پھر اسے یاد کیا اور اس کی تعلیمات پر عمل کیا یعنی حلال کو حلال سمجھا اور حرام کو حرام سمجھا تو اﷲ تعالیٰ اسے جنت میں داخل فرمائے گا اور اس کے گھر والوں میں سے دس اشخاص کے حق میں اس کی شفاعت قبول فرمائے گا، ایسے دس اشخاص جن پر دوزخ واجب ہو چکی ہوگی۔‘‘
قرآن کا پانچواں حق یہ ہے کہ اس کا پیغام لوگوں تک پہنچایا جائے اور اس کو نافذ کرنے کیلئے جدوجہدکی جائے، سورۃ المائدہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے’’ اے رسول! تبلیغ کیجئے اس چیز کی جو آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل کی گئی ہے۔ اگریہ کام آپ نے نہ کیا تو گویا فریضہ رسالت ہی ادا نہ کیا۔‘‘
( جاری ہے )

یہ بھی پڑھیں