کوئی شک نہیں کہ نریندر مودی گجرات میں سینکڑوں، ہزاروں مسلمانوں کا قتل عام کروانے والا ’’قصائی‘‘لاریب کہ نریندر مودی کا دور حکومت صرف مقبوضہ کشمیر کے ایک کروڑ مسلمانوں کے لئے ہی نہیں بلکہ بھارت میں بسنے والے اٹھائیس، تیس کروڑ مسلمانوں کے لئے بھی انتہائی خونخوار اور تکلیف دہ ثابت ہوا، صرف مسلمانوں پر ہی نہیں بلکہ عیسائیوں اور دلتوں پر بھی مودی گماشتوں نے بے پناہ مظالم ڈھائے، اور بھارت کی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ نے تو انڈین مظالم کے مخالف پاکستانی نوجوانوں کو ان کے گھروں میں گھس کے شہید کرنے سے بھی دریغ نہ کیا، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے مطابق لاہور میں عامر تابنا کے قتل میں بھارت کا نام آرہا ہے، جبکہ اس سے قبل حافظ شاہد لطیف سمیت چار پاکستانیوں کو بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ قتل کروا چکی ہے، مطلب یہ کہ بھارت کی سرزمین ہو، مقبوضہ کشمیر ہو یا پاکستان کی سرزمین، انسانوں کو قتل کروانے کا ٹھیکہ نریندر مودی نے آج بھی اپنے پاس رکھا ہوا ہے لیکن اس سب کے باوجود بھارت میں پارلیمانی انتخابات کے بعد دنیا نریندر مودی کو تیسری مدت کے لئے بھارت کا وزیراعظم بنتے دیکھ رہی ہے، تو اس کی کیا وجہ ہے؟
ان وجوہات پر مبنی رپورٹ کا ذکر آگے چل کر کرتے ہیں، یہاں کچھ سوالات اپنی اسٹیبلشمنٹ اور حکمرانوں کے سامنے اٹھانا بھی ضروری ہیں، سوال یہ ہے کہ آخر گزشتہ چھ سالوں سے پاکستان میں معاشی، معاشرتی، تعلیمی ترقی کا پہیہ کس نے روکا؟ پاکستان کو دیوالیہ ہونے کے خطرات سے دوچار ہونا پڑا تو اس کا ’’مجرم‘‘ کون ہے؟ پاکستان میں مہنگائی کے جن کو مسلط کرنے والے مکروہ چہروں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنا کس کی ذمہ داری ہے؟ وہ کون سے غلیظ مجرم ہیں کہ جو نہ صرف یہ کہ کروڑوں، اربوں روپے کی بجلی چوری کرتے ہیں بلکہ بجلی چوروں کی سرپرستی بھی کرتے ہیں؟ اگر دس سالوں میں نریندر مودی جیسا بدنام زمانہ قاتل مندرجہ ذیل رپورٹ میں بیان کردہ کارنامے سرانجام دے سکتا ہے تو ان دس سالوں میں پاکستان کے ’’امن پسند‘‘ اور محب وطن حکمرانوں کے ہاتھ کس نے باندھ رکھے تھے؟ رپورٹ کے مطابق ہندوستان پچھلی دہائی میں پانچویں بڑی معیشت بن گیا ، صرف دس سال پہلے، یہ اقتصادی طور پرگیارہویںویں نمبر پر تھا۔ ہندوستان نے ڈیجیٹلائزیشن کے ساتھ کیش لیس ملک بن کر دنیا کے کئی ممالک کو حیران کر دیا۔ ہندوستان کو سو سے زیادہ ممالک کو COVID-19 ویکسین فراہم کرنے پر فخر ہے۔ ملک میں پاسپورٹ کے صرف17 مراکز تھے لیکن آج ایسے مراکز کی تعداد 527 ہے۔ گزشتہ ایک دہائی میں تقریباً 25کروڑ کو غربت سے باہر نکالا ۔ مودی نے گڈ گورننس اور شفافیت کو ہر ادارے کی بنیاد بنایا، بڑی اقتصادی اصلاحات کیں۔مودینامکس ایک بھارت شریشٹھا بھارت سے جڑا ہے ، مودینامکس کے بنیادی حصے میں وہ پالیسیاں ہیں جو امرت کال میں وکِسِٹ بھارت کی ترقی کو شکل دیں گی۔یہ سال آئین کو اپنانے کا 75 واں سال بھی ہے،میری ماں، میرا دیش مہم کے تحت ملک کے ہر گائوں سے مٹی پر مشتمل امرت کالاش کو دہلی لایا گیا۔2 لاکھ سے زائد تختیاں لگائی گئیں۔تاریخی لال قلعہ کی فصیل سے مودی نے کہا کہ آنے والے 25 سالوں کے لیے، ہمیں اپنی طاقت، عزم اور صلاحیت کو پنچ پران پر مرکوز کرنا ہوگا۔ 3 کروڑ سے زیادہ لوگوں نے پنچ پران کا حلف لیا۔ 2 کروڑ سے زائد درخت لگائے گئے۔ 16 کروڑ سے زیادہ لوگوں نے ترنگے کے ساتھ اپنی سیلفیز اپ لوڈ کیں۔ رام للا کو ایودھیا میں مندر میں رکھا گیا،نیتاجی سبھاش چندر بوس کا مجسمہ کارتویہ پاتھ پر نصب کیا گیا۔ دہلی میں تمام وزرائے اعظم کے لیے وقف میوزیم کا افتتاح کیا گیا،کئی مندروں کو عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا گیا۔ سنگین عالمی بحرانوں کے درمیان، ترقی کرنے والی بڑی معیشت کے طور پر ابھرا، جس نے مسلسل 3 سال تک مسلسل 7 فیصد سے زیادہ کی شرح نمو برقرار رکھی اور مالی سال 22 میں 9عشاریہ1فیصد کی شرح سے ترقی کی۔
ہندوستان پہلا ملک بن گیا جس نے چاند کے جنوبی قطب پر اپنا جھنڈا لہرایا اور آدتیہ مشن کو کامیابی کے ساتھ شروع کیا۔ سیٹلائٹ زمین سے 15 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے پر پہنچ گیا۔تاریخی G20 چوٹی کانفرنس کی کامیابی نے ہندوستان کی عالمی حیثیت کو مضبوط کیا۔ ایشیائی کھیلوں میں پہلی بار 100سے زیادہ اور پیرا ایشین گیمز میں بھی 100سے زیادہ تمغے جیتے۔ ہندوستان کو اپنا سب سے بڑا سمندری پل اٹل سیٹو، پہلی نمو بھارت ٹرین اور پہلی امرت بھارت ٹرین مل گئی۔ ہندوستان دنیا میں سب سے تیز فائیو جی رول آوٹ والا ملک بن گیا۔ ہندوستانی فضائی کمپنی نے دنیا کے سب سے بڑے طیاروں کے معاہدے پر عمل درآمد کیا۔ اہم قانون سازی ہوئی جو وکِسِٹ بھارت کے وژن کو عملی جامہ پہنایا گیا، ناری شکتی وندن ادھنیم حقیقت بن گیا۔ اس سے لوک سبھا اور قانون ساز اسمبلیوں میں خواتین کی زیادہ سے زیادہ شرکت کو یقینی بنانے کی راہ ہموار ہوئی۔ ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ سیڈیجیٹل اسپیس کو محفوظ ،جموں و کشمیر ریزرویشن ایکٹ سیقبائلیوں کو نمائندگی دی گئی۔ انوسندھن نیشنل ریسرچ فاونڈیشن ایکٹ ملک میں تحقیق اور اختراع کو مضبوط کرے گا۔ سنٹرل یونیورسٹی ایکٹ میں ترمیم جس سے تلنگانہ میں سمکا ساراکا سنٹرل ٹرائبل یونیورسٹی کے قیام کی راہ ہموار ہوئی۔ صرف گزشتہ سال 76 پرانے قوانین کو منسوخ کیا گیا۔جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370 کی منسوخی ہوئی۔ تین طلاق کے خلاف سخت قانون نافذ کیا،ہمسایہ ممالک کی اقلیتوں کو شہریت دینے کا قانون نافذ کیا۔ ون رینک ون پنشن نافذ کیا،جس کے بعد، سابق فوجیوں کو تقریباً 1لاکھ کروڑ روپے اور اس سے زیادہ کی رقم مل چکی۔
(جاری ہے)