Search
Close this search box.
اتوار ,14 جون ,2026ء

اُدھر مودی اک واری فیر، اِدھر تیر بلا شیر

ایک سال میں 94ہزار کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں، پچھلے ایک سال میں یہ تعداد بڑھ کر ایک لاکھ ساٹھ ہزار ہو گئی۔ دسمبر 2017ء میں 98 لاکھ لوگ جی ایس ٹی ادا کرتے تھے، آج یہ تعداد 1کروڑ 40لاکھ سے زیادہ ہے۔ 2014ء سے پہلے کے 10 سالوں میں تقریباً 13کروڑ گاڑیاں فروخت ہوئی تھیں۔ صرف پچھلے 10 سالوں میں ہندوستانیوں نے 21 کروڑ سے زیادہ گاڑیاں خریدی ۔ 2014-15 ء میں تقریباً 2000 الیکٹرک گاڑیاں فروخت ہوئیں۔ جبکہ سال 2023-24 ء کے لیے دسمبر تک تقریباً 12لاکھ الیکٹرک گاڑیاں فروخت ہو چکی۔ بڑی اقتصادی اصلاحات دیکھی دیوالیہ پن کوڈ نافذ کیا گیا ۔ اب جی ایس ٹی کی شکل میں ایک ملک ایک ٹیکس ہے۔ پچھلے 10 سالوں میں CapEx پانچ گنا بڑھ کر 10لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گیا ۔ دو بلیک سوان واقعات، یعنی کووڈاور یوکرین روس تنازع کے باوجود مالیاتی خسارہ بھی قابو میں رہا۔غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 617ارب ڈالر سے زیادہ ہیں، جو عالمی سطح پر چوتھے نمبر پر ہے۔ پچھلے سال ایک بھی ادارہ منہدم نہیں ہوا۔ دوسری طرف چین نے ایورگرینڈ کو گرتے دیکھا، یورپ نے کریڈٹ سوئس کو بند ہوتے دیکھا، جب کہ امریکہ نے سگنیچر بینک اور سیلیکون ویلی بینک کو گرتے دیکھا۔ کانگریس کے دور حکومت میں بینکوں کے نان پرفارمنگ ایسٹس جو 12فیصد سے زیادہ تھے آج صرف 4 فیصد یا اس سے کم ہیں۔میک ان انڈیا اور اتمنیر بھر بھارت مہم طاقت بن گئی۔ آج، ہندوستان موبائل فون بنانے والا دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے۔ پچھلی دہائی کے دوران، مودی کی پروڈکشن لنکڈ انسینٹیو (PLI)اسکیم کی بدولت، موبائل فون کی تیاری میں پانچ گنا اضافہ ہوا۔ کچھ سال پہلے بھارت کھلونے درآمد کرتا تھا لیکن آج بھارت میڈ ان انڈیا کھلونے برآمد کر رہا ہے۔ ہندوستان کی دفاعی پیداوار ایک لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی۔ کاروبار کرنے میں آسانی کی درجہ بندی میں مسلسل بہتری آئی ہے۔کچھ سالوں میں 40ہزار سے زیادہ رکاوٹوں کو آسان کیا گیا۔مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری سیکٹر نے اصلاحات سے ایک کروڑ60لاکھ انٹرپرائززفائدہ اٹھا رہا ہے۔ساڑھے تین کروڑ انٹرپرائزز پورٹل پر رجسٹرڈ ہیں۔ ان کے لیے کریڈٹ گارنٹی اسکیم کے تحت، پچھلے کچھ سالوں میں تقریبا 5 لاکھ کروڑ روپے کی منظوری دی گئی،یہ 2014 سے پہلے کی رقم سے چھ گنا زیادہ ہے۔ اہم اصلاحات ڈیجیٹل انڈیا کی تشکیل ہے۔ آج، پوری دنیا ہندوستان کی ڈیجیٹل صلاحیت کو تسلیم کرتی ہے، اوسطا ہر مہینے میں 18 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کالین دین ہوتا ہے۔ دیہاتوں میں بھی ڈیجیٹل طریقے سے خرید و فروخت کا معمول ہے۔ آج، دنیا کی کل حقیقی وقتی ڈیجیٹل لین دین کا 46 فیصد ہندوستان میں ہوتا ہے۔فوری ادائیگی کا نظام یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس(یو پی آئی) کے ذریعے ہر ماہ ریکارڈ 1200کروڑ ڈیجیٹل لین دین ہوتے ہیں۔مودی حکومت نے اب تک براہ راست بینیفٹ ٹرانسفر(ڈی بی ٹی) کے ذریعے 34 لاکھ کروڑ روپے منتقل کیے ہیں۔ 10 کروڑ فرضی فائدہ اٹھانے والوں کو سسٹم سے نکال دیا گیا۔
آیوشمان بھارت ہیلتھ اکائونٹ کے تحت تقریباً 53کروڑ لوگوں کے ڈیجیٹل ہیلتھ آئی ڈی بنائے گئے ۔ 10 سالوں میں، مودی حکومت نے گاوں میں پونے چار لاکھ کلومیٹر نئی سڑکیں بنائیں۔ قومی شاہراہوں کی لمبائی 90ہزارکلومیٹر سے بڑھ کرایک لاکھ46 ہزار کلومیٹر ہو گئی ۔ 4لین والی قومی شاہراہوں کی لمبائی ڈھائی گنا بڑھ گئی۔ ہائی اسپیڈ کوریڈور کی لمبائی پہلے 500 کلومیٹر تھی اور اب 4000 کلومیٹر ہے۔ ہوائی اڈوں کی تعداد 74 سے بڑھ کر 149 ہو گئی ہے۔ ملک کی بڑی بندرگاہوں پر کارگو ہینڈلنگ کی صلاحیت دوگنی ہو گئی۔ ملک کی تقریبا 2 لاکھ گاوں پنچایتوں کو آپٹیکل فائبر سے جوڑا گیا ۔ دیہاتوں میں 4 لاکھ سے زیادہ کامن سروس سینٹر کھولے گئے ۔ون نیشن ون گرڈ ون فریکوئنسی نے ملک میں بجلی کی ترسیل کو بہتر کیا۔میٹرو کی سہولت، صرف 5 شہروں تک محدود تھی، اب 20 شہروں میں ہے۔25 ہزار کلومیٹر سے زائد ریلوے ٹریک بچھایا گیا۔ یہ بہت سے ترقی یافتہ ممالک میں ریلوے پٹریوں کی کل لمبائی سے زیادہ ہے۔ ہندوستان ریلوے کی 100فیصد بجلی کاری کے بہت قریب ہے۔ اس عرصے کے دوران بھارت میں پہلی بار سیمی ہائی سپیڈ ٹرینیں چلائی گئیں۔ آج39روٹس پر وندے بھارت ٹرینیں چل رہی ہیں۔ امرت بھارت اسٹیشن اسکیم کے تحت 1300سے زیادہ ریلوے اسٹیشنوں کو تبدیل کیا گیا۔ مودی چار مضبوط ستونوں یعنی نوجوان، خواتین، کسان اور غریبوں کی طاقت پر وکشت بھارت کی عمارت کھڑی کر رہے ہیں۔چار کروڑ دس لاکھ سے زیادہ غریب خاندانوں کو اپنے پکے مکان ملے ،اس سے پہلے 6لاکھ کروڑ روپے خرچ ہو چکے ہیں۔ پہلی بار پائپ سے پانی 11کروڑ سے زیادہ دیہی خاندانوں تک پہنچا ، اس پر تقریباً 4 لاکھ کروڑ روپے خرچ ہو رہے ہیں۔ اب تک 10 کروڑ سے زیادہ گیس کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔ مودی حکومت نے اس اسکیم پر ڈھائی لاکھ کروڑ روپے خرچ کیے ۔کووڈ کے پھیلنے کے بعد سے اب تک 80 کروڑ کو مفت راشن دیا جا چکا۔ اس سہولت کو اب مزید 5 سال کے لیے بڑھا دیا گیا، اس پر مزید 11 لاکھ کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔
گزشتہ دہائی میں مہنگائی کی اوسط شرح 5 فیصد پر برقرار ہے۔ 2014 ء سے پہلے کے 10 سالوں میں مہنگائی کی اوسط شرح 8 عشاریہ6 فیصد سے زیادہ تھی۔ اس سے قبل ہندوستان میں 2 لاکھ روپے اور اس سے زیادہ کی آمدنی پر انکم ٹیکس لگایا جاتا تھا۔ آج ہندوستان میں 7 لاکھ روپے تک کی آمدنی پر کوئی ٹیکس نہیں ۔ ٹیکس میں چھوٹ اور اصلاحات کی وجہ سے، ہندوستانی ٹیکس دہندگان نے گزشتہ 10 سالوں میں تقریبا ڈھائی لاکھ کروڑ روپے بچائے ۔ آیوشمان بھارت اسکیم کے علاوہ مرکزی حکومت مختلف ہسپتالوں میں مفت علاج بھی کر رہی ہے۔ اس سے شہریوں کوساڑھے تین لاکھ کروڑ روپے بچانے میں مدد ملی ہے۔ غریبوں کو ادویات کی خریداری پر 28ہزار کروڑ روپے بچانے میں مدد دی۔ کورونری اسٹینٹس، گھٹنے کے امپلانٹس اور کینسر کی ادویات کی قیمتوں میں بھی کمی کی گئی، مریضوں کو مفت ڈائیلاسز فراہم کرنے کا پروگرام بھی چلا یا جارہا ہے۔ ہر سال 21 لاکھ سے زیادہ مریض اس سہولت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ ریلوے کے ہر مسافر کو 50 فیصد رعایت دی جاتی ہے اس سے غریب اور متوسط طبقے کے مسافروں کو ہر سال ساٹھ ہزار کروڑ روپے کی بچت ہوتی ہے۔ غریب اور متوسط طبقے کو ہوائی ٹکٹ کم قیمت پر مل رہے ہیں۔ اسکیم کے تحت غریب اور متوسط طبقے نے ہوائی ٹکٹ پر 3000 کروڑ روپے سے زیادہ کی بچت کی۔ ایل ای ڈی بلب اسکیم کی بدولت بجلی کے بلوں میں 20ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کی بچت ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں