آج جو حالات ہیں اور ان میں بھری تلخیاں ، ان کو مٹانے کے لئے صدیاں درکار ہوں گی اور ہمیں تو آزاد ہوئے ابھی ایک صدی نہیں ہوئی،ہم نے اپنے گرد مجبوریوں اور مقہوریوں کے ایک جال بن دیئے ہیں جن سے نجات کے لئے ہی اتنا وقت درکار ہے کہ ہماری اگلی کئی نسلیں اس راہ میں قربانیاں دیتے دیتے نڈھال ہوجائیں گی ، تھک جائیں گی ۔
حکمران تو قوم کے روبرو گتھیاں کھولنے سے عاجز ہیں کہ مرگ انبوہ کا ڈھیر لگ جائے ، گلیاں ا ور بازار لہو لہوجائیں گے ۔کن شرائط پر سعودی عرب نے ہمیں قرضہ دیا ہے یہ بھی تو ایک راز ہی ہے جسے افشا کریں تو کمر ننگی ہوتی ہے اور اسے چکاتے چکاتے کبھی سر ننگا ہوجائے گا، کبھی پائوں ۔آئی ایم ایف کی آنکھیں تو کبھی نہیں کھلیں گی کہ وہ ہمیشہ ہمیں دریوزہ گر ہی دیکھنا چاہتی ہے ، مگر عرب امارات ہوں ۔کویت ، بحرین یا کوئی اور مسلمان خیر خواہ ملک وہ تو ہمیں قرضہ دیتے ہوئے یا امداد دیتے ہوئے کم از کم یہ شرط عائد کردیں کہ ان کی دی ہوئی خیرات حکمرانوں ان کے چاپلوسوں،دسیسہ کاروں اور قصیدے پڑھنے والوں پر خرچ کرنے کی بجائے عوام پر خرچ کی جائے گی۔وہ قرضہ یا امداد اسٹیبلشمنٹ اور اراکین ایوان کے اللوں تللوں پر نہیں اڑایا جائے گا۔قومی ترقی کے امور اور جمہور کے مفادات پر صرف کیا جائے گا۔مہنگائی ، بے روزگاری اور غربت و افلاس کے خاتمے پر لگایا جائے گا۔
اس ملک کے حکمران جس بھی ملک کے سرکاری دورے پرجانے لگیں ان پر محدود اور متعلقہ افراد کے علاوہ کسی ایک فرد یا دورے پر جانے والوں کے بیوی بچوں کو ساتھ لانے پر یکسر پابندی لگا دی جائے۔یہ کیا کہ ایک نگران وزیر اعظم بیرون ملک جاتے ہوئے پورے خاندان کو ساتھ لے جاتا تھا ۔اس بارے چیف جسٹس فائز عیسی عدالت میں کاکڑ صاحب کو بلاکر حساب لیں اور یہ واضح کریں کہ ایک نگران وزیر اعظم کو آئین اور قانون یہ اجازت مرحمت فرماتا ہے کہ وہ لائو لشکر کے ساتھ بیرونی دورے کرے ۔بڑی شرم کی بات ہے ۔مراعات کی حرص و ہوس کے ایسے دلداد ہ افراد کو ریاستی امور کے قریب نہیں پھٹکنے دیا جانا جاہیے جو مسند اقتدار پر فروکش ہوتے ہی شکم کی آگ بجھانے کے سب در وا کر لیتے ہیں ،اقتدار کے ایوان دیکھ کر ان کی آنکھ کا پانی مرجاتا ہے ۔
حکمرانوں کی خیرہ چشمی کارونا روئیں ۔ عدلیہ کی ، مقتدرہ کی کہ اسٹیبلشمنٹ کی ،سب نے مل کر ملک کو ایک حیرت کدہ ہی تو بنایا ہوا ہے ، جہاں حسرت تعمیر کے سوا کچھ نہیں رہا۔پنجاب کی قیادت کو کھینچ تان کر قدآور کرنے کی سعی ناتمام کا سلسلہ جاری ہے ۔کہیں چھ سے آٹھ سو روپے تک کا لباس زیب تن فرماکر سادگی کی مثال قائم کرنے کا ذکر تو کہیں صوبے کے عوام کو بیس کی بجائے سولہ روپے کی روٹی کی دستیابی کے دعوے ۔بجلی مہنگی ۔گیس مہنگی اور روٹی سستی۔ طرفہ تماشہ ہی ہوگیا ، یہ سب کوتاہ قامتوں کا کھیل ہے جس سے ایک ناتجربہ کار بی بی کو تلخ تجربات کروائے جا رہے ہیں اور دوسر ی جانب مزاحتی سیاست کا بازار لگا ہے ۔
ضمنی انتخابات کے نام پر پھر قومی خزانے کی زیاں کاری کا عمل جاری ہے ، لوٹ کھسوٹ کا یہ طوفان نہ جانے کب تھمے گا ؟ خاندانی سیاست کے بت کب تک پوجے جاتے رہیں ۔ہم اس تعفن سے بے زار ہیں کہ ملتان کے جس بڑے چوک سے گزریں بیسیوں گز طول و عرض کے رنگین بورڈ منہ چڑا رہے ہیں جن پر جلی الفاظ میں تحریر ہے ملتان کا سلطان گیلانی خاندان اور دائیں بائیں پوت اور بیچ ان کے پتا جو سینٹ کے چیئر مین ٹھہرے تو ان کی نشست این اے 148 پر ان کا فرزند ارجمند چوری کے مینڈیٹ سے جیتی ہوئی صوبائی اسمبلی کی نشست چھوڑ کر اوپر جانے کی دھن میں سراپاسر شار ہے اور اب تو اور بھی سہل ہوگا کہ کامیابی پکے پھل کی طرح اس کی جھولی میں ڈال جائے گی ۔ حکومت ان کی سرکاری وسائل پر پورا اختیار ، شرم و حیا کے سب تقاضے بالائے طاق رکھ کر کامیابی کے ہار اس کے گلے میں سجا دیئے جائیں گے۔اس ہار کے اصل معنی شکست کے ہوتے ہیں یہ الگ بات کہ اس میں خوشبو ہوتی ہے۔
گیلانی خاندان کی نئی پود کو پیشگی مبارک ہو کہ وہ جادہ رسوائی کا مطلب سمجھنے سے عاری ہے اور سیاست کا سفرچوری کے مینڈیٹ کی کہکشاں پر چل کر طے کر رہی ہے ان کے رستے کے سارے پتھر اسٹیبلشمٹ نے آئندہ الیکشن کے لئے اپنے سر کے لئے رکھ لئے ہیں۔ بہر حال ماہ رواں کی 21 تاریخ کو پھر میدان سجے گا اور جو ہوگا وہ تم بھی دیکھو گے اور ہم بھی دیکھیں گے ۔تاہم آخر کو راج کرے گی خلق خدا۔ان شااللہ