72 وفاقی اداروں، اور ایپک فورم سے منسلک 28 اداروں کے تقریباً چار لاکھ سے زیادہ متاثرہ‘برطرف ملازمین کی تنظیم(ایپک فورم) کے چیئرمین محمد جاوید اعوان کے مسلسل رابطوں کی وجہ سے اس خاکسار کو بھی مظلوم مزدور ملازمین کی جاری اس تحریک کی طرف متوجہ ہونا پڑا، 15 اپریل کی سہ پہر کراچی پریس کلب کے سامنے ہزاروں ایفیکٹڈ ملازمین بھر پور احتجاجی مظاہرے کے بعد اسلام آباد پہنچے‘جہاں 17 اپریل سے لے کر آج تک، اپنے جائز حقوق کے حصول کے لئے سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں‘ محمد جنید اعوان کے مطابق ’’برسوں سے کام کرنے والے ملازمین کو تمام اداروں کی انتظامیہ نے جبری طور پر برطرف کر دیا تھا،اورکنٹریکٹ‘ڈیلی ویجزتھرڈ پارٹی وفاقی ملازمین کو مستقل کرنے کے سلسلے میں ہم نے اپنے سرپرست قادر خان مندوخیل کی قیادت میں بلاول بھٹو زرداری‘وزیراعظم شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمن ‘ مولانا اسد سے ملاقاتیں کیں ،جنہوں نے ہمارے مطالبات کے حل سے متعلق وعدے کیے‘ جو پورے نہیں کیے گئے۔
انہوں نے بتایا کہ وفاقی 72 اداروں اور ایپک فورم سے جڑے 28 اداروں کے تمام متاثرہ ملازمین جس میں برطرف,متاثرہ، ٹی ایل اے، ڈی جی فنڈ ٹیچرز، انویلڈ کنٹریکٹ، تھرڈ پارٹی, ڈیلی ویجز ملازمین ہیں، جو وفاقی ادارے پاکستان ریلویز، نیشنل بینک، سوئی سدرن گیس کمپنی، سوئی نادرن گیس کمپنی‘پی آئی اے‘سول ایوی ایشن اتھارٹی‘ نیشنل سیکورٹی پرنٹنگ کمپنی،ایرا ‘ وزیراعظم آفس، نادرا ڈیپارٹمنٹ، پاکستان اسٹیل ملز، پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی‘ منسٹری آف نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسریچ، سی ڈی اے اسلام آباد، فیڈرل گورنمنٹ ایجوکیشن انسٹیٹیوٹ کینٹ گرینز‘ایف جی اِی آئی سی/جی، ایسوسی اینڈ پریس آف پاکستان، پی ٹی ڈی سی، فیڈرل سول ڈیفنس، ای او بی آئی، قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد، سنٹرل ڈائریکٹوریٹ آف نیشنل سیونگ, پاور ڈویژن میپکو، فیسکو، پیسکو، آئسیکو، گیپکو، این ایچ اے، او جی ڈی سی ایل، اوور سیز پاکستان فائونڈیشن، پی آئی ڈی سی سمیت وفاق کے دیگر ادارے شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اکثر وفاقی اداروں کے ملازمین ٹھیکیداری نظام کے تحت کنٹریکٹ‘ڈیلی ویجز‘ تھرڈ پارٹی ورکرز کی سطح پر کام کررہے ہیں، جس کے باعث ان کا معاشی قتل عام ہورہاہے، اسی نظام کو ملک بھر کی ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ تک نے فراڈ اورغیر قانونی قرار دے رکھا ہے۔
مذکورہ وفاقی اداروں میں متعدد ملازمین ایسے بھی ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کے قیمتی 25 سے 30 سال ادارے کو دیئے، جبکہ کنٹریکٹ ‘ ڈیلی ویجز‘ پراجیکٹ ورکرز ملازمین کی مستقلی سے متعلق اسٹیبلشمنٹ ڈویژن، حکومت پاکستان کی جانب سے 11 مئی، 2017 کو ایک حکم نامہ جاری کیا گیا تھا کہ وہ تمام ملازمین جنہیں ایک سال سے زائد کا عرصہ ہو چکاہے وہ مستقلی کے حقدار ہیں اور 2013 ء میں خورشید شاہ کی جو کیبنٹ کمیٹی تھی ان کے احکامات پر بھی عمل درآمد نہیں ہوا ۔ چار لاکھ سے زیادہ خاندانوں کی کفالت کرنے والے متاثرہ ملازمین کی فریاد اور پرزور مطالبے پر انکے مسائل کے حل کیلئے پاکستان پیپلزپارٹی کی کوشش کے نتیجے میں قومی اسمبلی میں اکتوبر 2022 کے دوران پارلیمنٹری بل کے ذریعے ایک خصوصی پارلیمانی کمیٹی برائے متاثرہ ملازمین تشکیل دی گئی تھی۔ پارلیمانی کمیٹی کے حکم کو بجا لاتے ہوئے کچھ اداروں نے اپنے بیشمار ملازمین کو ان کے حق سے نوازا اور اسی طرح کچھ ادارے پارلیمانی کمیٹی کی ڈائریکشن /ریکمنڈیشن پر عمل درآمد کرنے سے گریزاں ہیں۔
ایپک چیئرمین نے مزید کہا کہ PCCC منسٹری آف نیشنل فوڈ سیکورٹی کے متاثرہ ملازمین کا سکرنڈ نوابشاہ میں زبردست احتجاج 355 روز سے جاری ہے، جنہیں ابھی تک انصاف نہ مل سکا، جبکہ پارلیمانی کمیٹی برائے متاثرہ ملازمین نے واضح احکامات جاری کئے تھے کہ ان کو ریگولر کریں، منسٹری نیشنل فوڈ اور PCCC انتظامیہ کی طرف سے پارلیمانی کمیٹی کو گمراہ کر کے جھوٹی تسلی دی گئی کہ تمام جبری برطرف ملازمین کو بحال کرکے ریگولر کر دیا گیا ہے، PCCC انتظامیہ کی حقیقت یہ ہے کہ ریگولر کرنے کے بجائے جبری اور غیر قانونی طور پر برطرف کیے گئے ملازمین، ادارے کے گیٹ کے سامنے کیمپ میں پچھلی عید اور یہ عید بھی منانے پر مجبور ہوئے۔ حکومت ملک کے کچھ اہم ادارے جیسا کہ PIA ‘اسٹیل ملز اور دیگر اداروں کی نجکاری کا ارادہ رکھتی ہے، اسے فل فور ترک کرکے ان اداروں کے انتظامی اور مالی معاملات کو ٹھیک کرکے انہیں سود مند بنانے کی کوشش کی جائے، نہ کہ اِسے بیچ کر پاکستان کے تشخص کو نقصان پہنچایا جائے، سابقہ حکومت میں PIA سے جڑے بھت سے ملازمین کو ’’جعلی ڈگری‘‘ کے جھوٹے مقدمات میں الجھا کر زبان بندی کی کوشش کی گئی، جسے خصوصی پارلیمانی کمیٹی اور پبلک اکائونٹ کمیٹی نے بھی غیر قانونی قرار دیا اور فوری ایف آئی آر ختم کرنے کا حکم صادر کیا، جس پر FIA نے کچھ عرصہ عمل کیا، لیکن ایک بار پھر اس معاملے کو اجاگر کرکے ملازمین کو ناجائز تنگ کیا جارہا ہے اس عمل کو روکا جائے۔ ایپک چیئرمین اور صدرِ نے مزید کہا کہ کچھ وفاقی ادارے مندوخیل کمیٹی کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ چلے گئے۔ پروفیسر ڈاکٹر قادر خان مندوخیل کی جانب سے بحیثیت خود تمام متاثرہ ملازمین کے ایڈووکیٹ بن کر رٹ پٹیشن نمبر: 4657/2022 انٹرا کورٹ میں اپیل داخل کروائی اور یہ پٹیشن ڈبل بینچ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس ارباب طاہر کی عدالت میں زیر سماعت ہے، ایپک کے سرپرست اعلیٰ قادر خان مندوخیل سپریم کورٹ آف پاکستان میں بھی پارٹی بن چکے ہیں، ایپک کے چیئرمین محمد جنید اعوان نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ‘ صدر پاکستان آصف علی زرداری سے مطالبہ کیا ہے کہ 4 لاکھ سے زائد وفاقی ملازمین کو فی الفور بحال اور مستقل کیا جائے، اور تمام متاثرہ ملازمین کے مسئلے مسائل جلد سے جلد حل کئے جائیں کیونکہ پارلیمنٹ اور پارلیمانی کمیٹیز میں کوئی بھی ادارہ مداخلت نہیں کرسکتا۔