(گزشتہ سےپیوستہ)
جدید ترین حربی ٹیکنالوجی اور ہتھیاروں پر مغرب کی مکمل اجارہ داری ہے جسے اس نے اقوام متحدہ کے قوانین اور ضوابط کے ذریعے قانونی جواز اور تحفظ فراہم کر رکھا ہے۔ مسلم ممالک ایٹم بم تو کجا، ایک محدود رینج سے زیادہ دور تک مار کرنے والے میزائل نہیں بنا سکتے اور مخصوص جدید ہتھیاروں کی تیاری ان کے لیے شجر ممنوعہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ عراق کو اسی بہانے دوسری بار لشکر کشی اور تباہی کا نشانہ بنایا گیا کہ اس کے پاس ممنوعہ نوعیت کے ہتھیاروں کا ذخیرہ موجود تھا۔ اور ایران کو آج اسی ’’جرم‘‘ میں مسلسل دھمکیوں کا سامنا ہے کہ وہ ایٹمی صلاحیت کی طرف پیشرفت کر رہا ہے۔ گویا ایک ’’ریڈ لائن‘‘ عالمی طور پر طے شدہ ہے جسے حربی صلاحیت، ایٹمی ٹیکنالوجی اور جدید ہتھیاروں کی تیاری و استعمال کے حوالے سے عبور کرنا کسی مسلم ملک کے بس کی بات نہیں ہے۔ اس میں اگرچہ مغرب کے اجارہ دارانہ ذہن اور ہٹ دھرمی کا دخل سب سے زیادہ ہے، لیکن ہم اپنی نااہلی، بے توجہی اور باہمی عدم تعاون و عدم اعتماد کو اس کے اسباب سے یکسر خارج نہیں کر سکتے کہ مغرب کی اجارہ داری کا اصل باعث وہی ہے۔
ہمارا اس حوالے سے سب سے بڑا قصور یہ ہے کہ ہم نے موجودہ صورتحال پر قناعت کر لی ہے، سائنس اور ٹیکنالوجی پر مغرب کی اجارہ داری کو ذہنی طور پر تسلیم کر لیا ہے، اس محاذ پر پیشرفت کے لیے اجتماعی طور پر کچھ کرنے بلکہ سوچنے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں۔ حتیٰ کہ سائنس اور ٹیکنالوجی پر مغرب کی اجارہ داری کے ان ضوابط و قواعد کو چیلنج کرنے کے حوصلہ سے بھی محروم ہیں جو مغرب نے یکطرفہ طور پر مسلط کر دیے ہیں۔ اسی ذہنی پسپائی اور خود سپردگی کا نتیجہ ہے کہ ہم سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں ایک مخصوص اور متعین دائرے کے اندر محصور ہو کر رہ گئے ہیں اور اس سے ہٹ کر کسی پیشرفت کا تصور بھی نہیں کر پا رہے۔
رفاہی ریاست کے سسٹم کی طرف آ جائیے! آج بھی دنیا میں ویلفیئر اسٹیٹ اور رفاہی ریاست کے حوالے سے حضرت عمرؓ کے دور خلافت کو آئیڈیل تصور کیا جاتا ہے اور مغرب کے بہت سے دانشور اس کا اعتراف کرنے میں بخل سے کام نہیں لیتے۔ جبکہ ہم بھی خلافت راشدہ کے واقعات و حالات کا دنیا کے سامنے تذکرہ کرتے ہیں تو اس دور میں بیت المال کے ساتھ عام لوگوں کے وابستہ مفادات و حقوق کا مزے لے لے کر تذکرہ کرتے ہیں، لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ آج عالم اسلام کا کوئی ایک ملک بھی رفاہی ریاست یا ویلفیئر اسٹیٹ کا ماڈل پیش کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے اور نہ ہی نجی شعبے میں ایسا کوئی رفاہی ادارہ ہے جسے ہم عالمی سطح پر ریڈ کراس کی طرز پر ایک منظم اور فعال ادارے کے طور پر پیش کر سکیں۔ لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس (ر) افتخار احمد چیمہ کے بقول برطانیہ میں ویلفیئر اسٹیٹ کے طور پر بے روزگار، نادار اور ضرورت مند افراد کو ریاست کی طرف سے وظائف دینے کا جو سسٹم چل رہا ہے، اسے ترتیب دینے والے دانشور نے خود اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اس نے اس سسٹم کا بنیادی خاکہ حضرت عمرؓ کے حکومتی نظام سے لیا ہے اور پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر رفیق احمد کی روایت کے مطابق یورپ کے ملک ناروے میں بچوں کو جو وظیفہ دیا جاتا ہے، اسے آج بھی وہاں ’’عمر الاؤنس‘‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے لیکن کسی مسلمان ملک میں موجودہ حالات میں اس کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ میری طالب علمانہ رائے میں اس کے اسباب میں چار باتیں سب سے اہم ہیں:
(۱) ایک یہ کہ ہمارے ذہنوں میں قرآن و سنت کی تعلیمات اور خلافت راشدہ کے نظام کو آئیڈیل اور ماڈل کی حیثیت حاصل نہیں رہی۔ ہم تبرک اور ثواب کی نیت سے ان کا تذکرہ کرتے رہتے ہیں، لیکن ہمارے ذہنوں میں موجود ماڈل اور آئیڈیل کے فریموں میں دوسری تصویریں فٹ ہو چکی ہیں۔
(۲) دوسری بات یہ کہ ہمارے معاشی وسائل پر ہمارا اپنا کنٹرول نہیں ہے، بلکہ عالمی اداروں اور پیچیدہ بین الاقوامی سسٹم کے ہاتھوں ہم اپنے وسائل میں آزادانہ تصرف کے حق سے محروم ہو چکے ہیں۔
(۳) تیسری بات یہ کہ جو تھوڑے بہت وسائل ہماری دسترس میں ہیں، ان کی تقسیم کا نظام ایسا ہے کہ مراعات یافتہ طبقات، حکمران گروہ اور موقع پرست عناصر ہی ان سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ مغرب میں بھی معاشی نظام سرمایہ دارانہ ہے، لیکن دولت کی گردش کے دائرے میں کسی نہ کسی حد تک عام آبادی بھی شامل رہتی ہے، لیکن ہمارے ہاں دولت اور سہولیات کی گردش کی سطح اس قدر بلند ہے کہ عام آدمی وہاں تک رسائی کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ ہم اگر کراچی کی ڈیفنس سوسائٹی کے باشندوں اور سمندر کے کنارے مچھیروں کی بستیوں کے معیار زندگی میں تفاوت کا مشاہدہ کر سکیں اور اسلام آباد میں پانچویں گریڈ تک کے ملازمین اور بائیسویں گریڈ کے افسروں کے رہن سہن میں فرق پر ایک نظر ڈالنے کی زحمت گوارا کر لیں تو ملک کی مجموعی صورتحال کا اس حوالے سے اندازہ کرنا کوئی زیادہ مشکل کام نہیں ہے۔ اور ستم ظریفی کی انتہا یہ ہے کہ اس فرق اور تفاوت کو کم کرنے کا کوئی تصور نہ ملک کی سیاسی جماعتوں کے ایجنڈے میں موجود ہے اور نہ ہی دینی جماعتوں کے پروگرام میں یہ بات کسی درجہ میں قابل توجہ سمجھی جا رہی ہے۔
(۴) جبکہ چوتھی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں حکومتیں عوام کے سامنے جوابدہ نہیں ہیں۔ جہاں بادشاہتیں اور آمریتیں ہیں، وہاں تو ظاہر بات ہے کہ عوام کے سامنے جوابدہی کا کوئی سوال نہیں، لیکن جن ممالک میں کسی درجہ میں ووٹ کا نظام موجود ہے، وہاں بھی حکومتوں کی تشکیل، تبدیلی اور جوابدہی کے اصل مراکز ان ملکوں کے اندر نہیں ہیں اور عوام کے پاس وقتاً فوقتاً ووٹ ڈالتے رہنے کے سوا کوئی اختیار نہیں ہے۔
ہمارے ہاں یہ خوف عام طور پر پایا جاتا ہے جو دن بدن بڑھتا جا رہا ہے کہ مغرب نے عالم اسلام کے وسائل پر قبضہ کرنے، اس کی سیاست کو کنٹرول میں لینے اور اس کی معیشت کو اپنے مفادات میں جکڑنے کے بعد اب اس کی تہذیب و ثقافت کو فتح کرنے کے لیے یلغار کر دی ہے۔ یہ یلغار سب کو دکھائی دے رہی ہے اور اس کے وجود اور شدت سے کوئی باشعور شخص انکار نہیں کر سکتا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس یلغار کا راستہ روکنے یا اس کی زد سے اپنی تہذیب و ثقافت کو بچانے کے لیے عالم اسلام میں کیا ہو رہا ہے؟ ہمارے دینی و علمی حلقوں میں اس یلغار کا جو رد عمل سامنے آ رہا ہے، اس کا وہ رخ تو یقیناً خطرناک ہے جس میں مغرب کے سامنے سپر اندازی اور اس کے فلسفہ و نظام کو مکمل طور پر قبول کرنے کی تلقین کی جا رہی ہے۔ لیکن وہ دوسرا رخ بھی اس سے کم خطرناک نہیں ہے جس میں مغرب کی ہر بات کو رد کر دینے پر زور دیا جا رہا ہے اور جس طرح مغرب نے بادشاہت، جاگیرداری اور مذہبی پیشوائیت کے مظالم اور جبر کے رد عمل میں ان کی ہر بات کو مسترد کر دینے کی حماقت کی تھی۔ اسی طرح ہم بھی مغرب کی دھاندلی، استحصال، جبر اور فریب کاری پر غضبناک ہو کر رد عمل میں اس کی تمام باتوں کو مسترد کر دینا چاہتے ہیں۔ ان میں وہ باتیں بھی ہیں جو مغرب نے غلط طور پر اختیار کی ہیں اور وہ باتیں بھی شامل ہیں جو مغرب نے ہم سے لی ہیں، مگر ہم انہیں اپنی گم شدہ میراث سمجھنے کے بجائے مغرب کے کھاتے میں ڈال دینے میں ہی عافیت محسوس کر رہے ہیں۔
ان گزارشات کے ساتھ میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ مغرب کی لادینی جمہوریت ہو، مطلق جمہوریت ہو یا اس کی مجموعی تہذیب و ترقی ہو، اس پر مسلم امہ کا مجموعی رد عمل حقیقت پسندانہ نہیں ہے اور حالات کے معروضی تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ہمارا رد عمل دو انتہاؤں کے درمیان پنڈولم (pendulum) بنا ہوا ہے۔ ایک طرف اسے مکمل طور پر قبول کر لینے کی بات ہے اور دوسری طرف اسے مکمل طور پر مسترد کر دینے کا جذبہ ہے۔ ہمارے رد عمل کے اس پنڈولم کو درمیان میں قرار کی کوئی جگہ نہیں مل رہی اور یہی ہمارا اصل المیہ ہے۔
(جاری ہے)