Search
Close this search box.
اتوار ,21 جون ,2026ء

مغربی فلسفہ و تہذیب اور مسلم امہ کا رد عمل

(گزشتہ سےپیوستہ)
میں ان ارباب دانش کی مساعی کی نفی نہیں کرنا چاہتا جنہوں نے درمیان کا راستہ تلاش کرنے کی کوشش کی ہے اور مغربی تہذیب و ثقافت کو اپنے افکار و خیالات کی چھلنی میں چھاننے کے لیے بے پناہ صلاحیتیں صرف کی ہیں۔ ان کی مساعی یقینا قابل قدر ہیں، لیکن ایک تو یہ کوششیں انفرادی سطح پر ہوئی ہیں اور ہر دانشور نے مغربی تہذیب و ثقافت کو چھاننے کے لیے اپنی چھلنی الگ بنائی ہے جس کا نتیجہ فکری انتشار میں اضافہ کے سوا کچھ برآمد نہیں ہوا۔ ہمارے بیشتر دانشوروں نے مغربی تہذیب و ثقافت کا جائزہ لینے سے قبل یہ ضروری سمجھا ہے کہ اسلام کی تعبیر و تشریح کے روایتی ڈھانچے کو توڑ کر نیا ڈھانچہ تشکیل دیا جائے یا کم از کم روایتی دینی ڈھانچے سے لاتعلقی کا ضرور اعلان کیا جائے۔ ہم نے دیکھا کہ مغرب نے قرون مظلمہ سے نکلنے کے لیے اپنے علوم کی نشاۃ ثانیہ کی ہے اور علوم و افکار کے پرانے ڈھانچے توڑ کر نئے سانچے تشکیل دیے ہیں۔ یہ دیکھ کر ہمیں بھی شوق ہوا کہ علوم کی نشاۃ ثانیہ میں ہم مغرب سے پیچھے نہ رہیں اور پرانے سانچے توڑ کر نئے سانچے تشکیل دینے کا شرف ہم بھی ضرور حاصل کریں۔ مگر ہم یہ نہ دیکھ سکے کہ مغرب کو تو علوم کی نشاۃ ثانیہ کی ضرورت اس لیے تھی کہ ان کے قدیمی علوم میں عقل و دانش کا کوئی دخل باقی نہ رہا تھا، ان کے مذہبی علوم جمود کا شکار تھے اور ان کی کوکھ سے ہٹ دھرمی کے سوا کوئی چیز پیدا نہیں ہو رہی تھی۔ جبکہ ہمارے ہاں صورتحال یہ نہیں تھی اور علوم فطری ارتقا کے ساتھ مسلسل آگے بڑھ رہے تھے۔ مسلمان علماء، دانشوروں اور سائنس دانوں کو کہیں بھی اس وجہ سے بریک نہیں لگی کہ ان کے مذہبی اصول اور دینی کی تعبیر و تشریح کا روایتی ڈھانچہ زمانے کے تقاضوں کو پورا کرنے میں رکاوٹ ہے اور وقت کے ساتھ چلنے سے مسلمانوں کو روک رہا ہے۔ لیکن چونکہ مغرب نے علوم و افکار کے پرانے سانچوں سے چھٹکارا حاصل کر لیا تھا، اس لیے ہم نے بھی ضروری سمجھا کہ ترقی کے لیے علوم کے قدیمی ڈھانچے اور اسلام کی تعبیر و تشریح کے روایتی سانچے کو مسترد کیا جائے، اور دانشوروں کی ایک پوری کھیپ نے اپنا پورا زور روایتی ڈھانچے کو توڑنے پر لگا دیا اور ’’علوم کی نشاۃ ثانیہ‘‘ کا شوق پورا کرنے کو ہی ترقی اور تہذیب میں پیشرفت کا معیار قرار دے لیا۔
مغرب نے بھی ہمارے ساتھ یہی ظلم کیا کہ نئے تہذیبی سفر میں اس نے اپنے تاریخی پس منظر کے ساتھ ہمیں بھی نتھی کر دیا، حالانکہ صورتحال بالکل مختلف تھی۔ مثلاً یورپ میں بادشاہت اور پاپائیت کے جس پس منظر نے وہاں کے عوام کو مذہب کے خلاف بغاوت پر مجبور کیا، وہ یورپ کے ساتھ مخصوص ہے اور عالم اسلام میں یہ صورتحال نہیں تھی۔ یورپ کے چرچ اور پادری نے بادشاہ اور جاگیردار کا یقیناً ساتھ دیا ہوگا اور ان کے مظالم کی پشت پناہی کی ہوگی مگر مسلم ممالک میں علماء نے ایسا نہیں کیا۔ وہ ہمیشہ عوام کے ساتھ رہے ہیں، مظلوم کے ساتھ رہے ہیں اور حکمرانوں کے مظالم کے خلاف کلمہ حق بلند کرتے رہے ہیں، مگر یورپ کا تقاضا ہے کہ ہم بھی اپنے ماضی کو یورپ کے ماضی پر قیاس کر کے مذہب سے لازماً دستبرداری اختیار کریں اور مذہبی پیشوائیت سے بیزاری اور لاتعلقی کا اعلان کریں۔
اسی طرح امریکہ میں انسانی حقوق کی جو صورتحال ایک صدی پہلے تک تھی اور غلاموں کی خرید و فروخت اور ان سے جانوروں کی طرح کام لینے کا جو رویہ موجود تھا، امریکہ نے اس کے رد عمل میں انسانی حقوق کا چارٹر مرتب کیا اور غلامی اور جبر کے خاتمہ کی راہ اختیار کی۔ جبکہ ہمارے ہاں یہ صورتحال قطعاً نہیں تھی اور مسلمانوں نے کبھی امریکہ کی طرح افریقہ سے جہاز بھر بھر کر غلامی کے لیے انسانوں کو جمع نہیں کیا تھا اور اگر کہیں غلامی کی کوئی شکل موجود تھی تو بھی وہ محض مالک کے رحم و کرم پر نہیں تھے اور باڑے کے جانور شمار نہیں ہوتے تھے، بلکہ ان کے حقوق تھے، قوانین احکام کا تحفظ انہیں حاصل تھا اور آزادی کے کئی راستے ان کے لیے کھلے تھے۔ مگر امریکہ بہادر کا تقاضا ہے کہ اس نے انسانی حقوق کا جو ڈھانچہ اپنے مخصوص پس منظر میں تشکیل دیا ہے، ہم بھی اپنے ماضی کو اس کے ماضی پر قیاس کرتے ہوئے انسانی حقوق کے اس ڈھانچے کو من و عن قبول کر لیں۔
( جاری ہے )

یہ بھی پڑھیں