شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سلیم اعجاز دامت برکاتہم العالیہ جامعہ انوار العلوم دھیر کوٹ کے مہتمم اور آزاد جموں و کشمیر اور پاکستان کی انتہائی متبحر علمی شخصیت ہیں،خطہ کشمیر کے ممتاز اور جئید عالم دین شیخ الحدیث مولانا سلیم اعجاز کا ایک خط گزشتہ روز اس خاکسار کو کراچی میں موصول ہوا ،دردمندی سے لکھی گئی اس تحریر کو ’’مینارہ نور‘‘ کی زینت اس لئے بنا رہا ہوں کہ شائد کسی کے دل میں اتر جائیں خیر کی یہ باتیں ،مولانا لکھتے ہیں کہ الٰہی تعلیمات کا تحفظ امت مسلمہ کا وہ اعزاز ہے جو ایک طرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دائمی معجزوں کا تسلسل اور دوسری طرف دین اسلام کے آخری اور دائمی دین ہونے کی علامت بھی ہے، مدارس دینیہ ہر دور میں عالمی اور علاقائی سازشوں کے باجود اس اعزاز کی حفاظت کرتے آرہے ہیں۔ غار حرا کی تنہائیوں سے پڑھنے پڑھانے کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا وہ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ مختلف ادوار میں مختلف انداز کے ساتھ دار ارقم اور صفہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کے بعد امت مسلمہ کی چودہ سو سالہ تاریخ میں دنیا بھر میں مدارس اسلامیہ عربیہ کی صورت میں اور آج عالم اسلام کے ہر گوشے میں پھیلے ہوئے دینی مدارس اور مکاتب کی صورت میں جاری ہے ،اس وقت دنیا بھر میں کسی فرد یا طبقے میں دین کی کوئی روشنی یا رمق پائی جاتی ہے اس کے پیچھے انہی مدارس کا کردار کام کررہا ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ برصغیر میں 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد سلطنت برطانیہ نے جس منظم انداز سے مسلمانوں کو دین اسلام اور اس کی تعلیمات سے لاتعلق کرنے کے لئے اسلامی تعلیمات کے خاتمے کے اقدامات کئے تھے۔ ان ناپاک اقدامات کے پیش نظر دوربین نگاہ رکھنے والے علما امت نے جس سادگی اور خلوص کے ساتھ 30 مئی 1866 ء کو دیوبند کے قصبے میں انار کے درخت تلے ایک استاد اور ایک شاگرد کے ساتھ مدرسہ کی بنیاد رکھی تھی، کسے معلوم تھا کہ وہ ادارہ آنے والے دور میں عالمی مغربی استعمار اور باطل تہذیب کے راستے کا وہ کوہ گراں ثابت ہوگا جسے ہٹانے کے لئے پوری دنیا کا استعمار اور باطل طاقتیں بے بس ہوکر رہ جائیں گی، ’’فللہ الحمد‘‘ لاالہ الا اللہ کی عملداری دینے والے ملک پاکستان میں امید تھی کہ ان ’’الٰہی تعلیمات‘‘کے تحفظ اور نفاذ کو قومی تعلیمی پالیسی کا اہم ترین حصہ بنایا جائے گا اور نظام تعلیم انہی الٰہی تعلیمات کی روشنی میں وضع کیا جائے گا،لیکن اس مملکت کے جغرافیہ کی آزادی کے باوجود اس کے مناصب جلیلہ پر اسے افراد کو بٹھایا گیاجو فکروسوچ اعتقاد و اعمال میں اب بھی انگریز اور اس کے نظام تعلیم کے غلام تھیاور ہیں، لہٰذا ایسے افراد و طبقات کے ہاتھ میں ملک کی زمام اقتدار آنے سے انگریزی فکروسوچ کو تحفظ دینے، دین سے بیزاری، بغاوت اور مولوی کو دیس نکالا دینے کی سوچ کو بڑھایا جارہا ہے۔
ایسے حالات میں 30 مئی 1866 ء کی فکروسو چ کے امین علما نے پاکستان کو ان الہی تعلیمات کے تحفظ کا سب سے بڑا مرکز بنانے کے لئے 1960ء میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی بنیاد رکھی اور الحمدللہ آج 25000 سے زائد مدارس دینیہ میں کم و بیش 35 لاکھ کے لگ بھگ طلبا و طالبات ’’الٰہی تعلیمات‘‘ کے حصول میں کوشاں ہیں،تا کہ ان الہی تعلیمات کے امین بن کر اگلی نسلوں تک اس امانت کو پہنچانے کا اہم ترین فریضہ سرانجام دے سکیں ، اور اس وقت پاکستان میں آئینی اور دستوری حوالے سے ان الٰہی تعلیمات کو جو تحفظ حاصل ہے انفرادی اور اجتماعی زندگی میں جو دین کی بہاریں نظر آرہی ہیں اس میں ایک بہت بڑا حصہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان اور اس سے ملحقہ مدارس کا ہے اور آج شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ جیسی عالمی علمی قدآور شخصیت کی سرپرستی نے ’’وفاق‘‘کو ’’آفاق‘‘ تک پہنچادیا ہے، وفاق اور اس کا یہ کردار عالم مغرب کے لئے سب سے بڑا خوف ہے کہ تمام دینی خدمات کے ہر شعبے دعوت و تبلیغ، اصلاح و تصوف عالمی سیاسی حالات پر نگاہ رکھ کر مسلمانوں کو ان سازشوں سے آگاہ کرنا ہو،یا عالم کفر کے بڑھتے ہوئے قدموں کو جہادی میدانوں میں شکست دینا، ہر محاذ پر وفاق المدارس کا کردار اس کی روح اور اس کے فرزندان کام کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
وفاق المدارس کے اس اجلے کردار پر انگلی اٹھانے اور نقب زنی کے لئے ایسے حالات میں کہ جب امریکہ اورعالم کفر کی پشت پناہی میں اسرائیلی دہشت گرد، فلسطین میں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیل رہے ہیں۔ اس عالمی دہشت گردی کے خلاف جو منظم اور طاقتور آواز صدر وفاق شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی مدظلہ نے اٹھائی ہے۔ غالباً انہی عالمی دہشت گردوں نے کچھ سادہ لوح اور بزعم خود اہل علم کہلانے والوں کو حضرت شیخ الاسلام کے اس عالمی کردار کو دھندلانے کا ٹاسک دے رکھا ہے جس کا اظہار کچھ دنوں سے تسلسل کے ساتھ مختلف ناموں سے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم پر گاہے بگاہے نظر آرہا ہے،وفاق المدارس العربیہ پاکستان اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا تعلیمی بورڈ ہے اس کا ایک حصہ نصاب کمیٹی بھی ہے، جو وقتاً فوقتاً حالات کے تقاضوں کے پیش نظر نصاب میں تبدیلی کا فریضہ انجام دیتی ہے اور یقینا ایسے افراد پر مشتمل ہے جو علمی حوالے سے چنیدہ ہیں اور علمی حلقوں میں ایک متفقہ حیثیت رکھتے ہیں جن کا انتخاب کسی طمع لالچ اور بقول ’’سوشل میڈیائی مفتیان‘‘ کے یہ مشکوک نظریات کے حامل ہیں ایسا ہرگز نہیں،سوشل میڈیا پر اس وقت اس کمیٹی کے فیصلوں کے حوالے سے جو طبع آزمائی ہورہی ہے،یقینا کسی عالمی سازش کا حصہ ہے جس کا مقصد جہاں محض وفاق المدارس کے کردار کو آلودہ کرنا اور اس کے ثمرات کو روکنا ہے وہاں خصوصاً شیخ الاسلام مفتی تقی مدظلہ کی صورت میں جو ایک مضبوط دیوار کھڑی ہے اس کو گرانا بھی ہے, اس لئے کہ مفکر اسلام مولانا ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللہ کی ایک متعلقہ کتاب ’’مسلم ممالک میں اسلامیت اور مغربیت کی کشمکش میں موجود مضمون بار بار پڑھنے کے باوجود کوئی ایسی چیز نہیں مل رہی جس کو بنیاد بناکر ایک طوفان بدتمیزی برپا کیا گیا ہے‘‘ تعصب اور سازش کی عینک اتار کر اگر مطالعہ کیا جائے تو مضمون اور تحریر قابل اعتراض نہیں ہے۔لہٰذا اس کے پیچھے اصل سازش تک پہنچنا اور اسے بھانپنا اور امت کے اس سائیباں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے،کیا نوید مسعود ہاشمی صاحب اس سازش کا پتہ لگا کر امت اور اسلامیان پاکستان پر احسان فرمائیں گے؟