سوشل میڈیا بالخصوص فیس بک پر مقدس ہستیوں کی توہین پر مبنی گستاخانہ مواد کی تشہیری مہم میں ملوث اکائونٹس، پیجز کو بلاک کرنے کے لئے تحریک تحفظ ناموس رسالت ﷺ پاکستان نے پی ٹی اے کو باضابطہ طور پر درخواست دے دی۔ درخواست میں فیس بک کو اس وقت تک پاکستان میں بلاک کرنے کی بھی استدعا کی گئی ہے،جب تک فیس بک سے گستاخانہ مواد کو ہٹانے بلاک کرنے کے لئے کوئی نظام وضع نہیں ہو جاتا۔ گزشتہ دنوں چیئرمین پی ٹی اے کو دی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ’’گزشتہ کئی سالوں سے سوشل میڈیا بالخصوص فیس بک اور واٹس ایپ پر اللہ تعالیٰ،جناب رسول اللہ ﷺ،اہل بیت اطہارؓ،صحابہ کرامؓ،قرآن کریم و دیگر شعائر اسلام کی توہین پر مبنی بدترین گستاخانہ مواد کی تشہیری مہم جاری ہے۔ مذکورہ بدترین گستاخانہ مواد کی تشہیری مہم کے نتیجے میں درخواست گزار سمیت وطن عزیز پاکستان کے کروڑوں مسلمانوں کے نہ صرف مذہبی جذبات شدید مجروح ہورہے ہیں بلکہ مذکورہ بدترین گستاخانہ مواد کی تشہیری مہم کی وجہ سے مسلمان گھرانوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی بڑی تعداد میں گستاخ اور مرتد بن رہے ہیں۔وفاقی وزارت آئی ٹی اورپی ٹی اے کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس امر کو یقینی بنائیں کہ سوشل میڈیا کے ذریعے کسی بھی قسم کے گستاخانہ مواد کی تشہیر نہ ہو،کسی بھی قسم کا گستاخانہ مواد سوشل میڈیا پر اپلوڈ نہ ہو۔کوئی بھی ایسا اکائونٹ سوشل میڈیا پر ایکٹو نہ ہو،جس کے ذریعے گستاخانہ مواد کی تشہیر کی جارہی ہو مگر بدقسمتی سے اس وقت تک وفاقی وزارت آئی ٹی اور پی ٹی اے اس حوالے سے اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہیں،ایف آئی اے کا سائبر کرائم ونگ سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث تین سو سے زائد مجرمان کو اب تک گرفتار کرچکی ہے۔
مذکورہ گرفتار مجرمان میں اکثریت ایسے مجرمان کی ہے،جو واٹس ایپ کے ذریعے مقدس ہستیوں کی توہین پر مبنی بدترین گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث تھے۔ یہی وجہ ہے کہ واٹس ایپ کے ذریعے ایسے گستاخانہ مواد کی تشہیر میں کافی حدتک کمی آچکی ہے،لیکن بدقسمتی سے فیس بک پر گستاخانہ مواد کی تشہیری مہم بدستور جاری ہے۔فیس بک پر سینکڑوں اکائونٹس،پیجز،گروپس کے ذریعے مقدس ہستیوں کی توہین پر مبنی گستاخانہ مواد کی تشہیر کی جارہی ہے،جن میں سے تقریباً 105فیس بک اکائونٹس،پیجز اور گروپس کے لنک درخواست ہذا میں درج ہیں۔مذکورہ فیس بک اکائونٹس،پیجز اور گروپس کے علاوہ بھی کئی اکائونٹس،پیجز اور گروپس کے ذریعے فیس بک پر مقدس ہستیوں کی توہین پر مبنی بدترین گستاخانہ مواد کی تشہیر کی جارہی ہے۔آئینی و قانونی طور پر پی ٹی اے پر لازم ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر جاری مذکورہ بدترین گستاخانہ مواد کی تشہیری مہم کے خاتمے کو یقینی بنائے۔اس حوالے سے PECA 2016کی دفعہ37سمیت عدالتی فیصلے واضح ہیں۔اس کے باوجود بھی اگر پی ٹی اے سوشل میڈیا پر جاری مذکورہ بدترین گستاخانہ مواد کی تشہیری مہم کے سدباب کے لئے عملی اقدامات کرنے سے گریزاں ہے تو سوشل میڈیا پر جاری مذکورہ گستاخانہ مواد کی تشہیری مہم کے ذمہ دار پی ٹی اے کے اعلی حکام بھی ہیں اور اسلام آباد ہائیکورٹ اپنے فیصلے بعنوان سلمان شاہد بنام وفاق پاکستان میں یہ بھی قرار دے چکی ہے کہ اختیارات کے باوجود اگر کوئی سوشل میڈیا پر جاری گستاخانہ مہم کے خاتمے کے لئے اقدامات نہ کرے تو اختیارات رکھنے والا شخص/ادارہ بھی مجرم تصور ہوگا اور اس کے خلاف بھی قانون کے مطابق کاروائی ہونی چاہیے۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کے احکامات پر من و عن عملدرآمد کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر جاری مقدس ہستیوں کی توہین پر مبنی بدترین گستاخانہ مواد کی تشہیری مہم کے مکمل سدباب کے لئے بلاتاخیر عملی اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔بالخصوص فیس بک پر موجود مذکورہ اکائونٹس،پیجز اور گروپس سمیت دیگر تمام گستاخانہ اکائونٹس،پیجز اور گروپس کو فوری طور پر بلاک کیا جائے۔بصورت دیگر جب تک فیس بک پر موجود گستاخانہ مواد کو ہٹانے،بلاک کرنے کے حوالے سے کوئی نظام وضع نہیں ہوجاتا،اس وقت تک ڈائریکٹر جنرل پی ٹی اے کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ ملتان بینچ کے روبرو دیئے گئے بیان حلفی اور اس پر فاضل عدالت عالیہ کے فیصلے بعنوان محمد ایوب بنام وفاق پاکستان وغیرہ کی روشنی میں فیس بک کو فوری طور پر پاکستان میں عارضی طور پر بلاک کر دیا جائے۔
یاد رہے کہ پاکستان میں ایکس(ٹویٹر) گزشتہ دو ماہ سے صرف اس لئے بلاک ہے کہ ایکس (ٹویٹر)کے ذریعے ریاستی اداروں اور قومی سلامتی کے خلاف مہم چلائی جارہی تھی۔ریاستی ادارے اور قومی سلامتی مقدس ہستیوں بالخصوص حضور ﷺ کی عزت و ناموس سے قطعی طور پر مقدم نہیں۔لہٰذا مقدس ہستیوں بالخصوص حضور ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لئے فیس بک سمیت کسی بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم یا ایپلی کیشن کو بھی بلاک کرنا پڑے تو اس سے گریز نہیں کیا جانا چاہیے۔اگر درخواست ہذا پر بلاتاخیر کارروائی نہ کی گئی تو درخواست گزار دادرسی کے لئے ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ سے رجوع کرنے پر مجبور ہو گا۔مذکورہ درخواست کی کاپی وفاقی سیکرٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کام کو بھی ارسال کی گئی ہے ۔
سوال یہ ہے کہ آخر پی ٹی اے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے ذریعے ہونے والی گستاخیاں روکنے کے لئے تیار کیوں نہیں ہے؟ایکس ٹیوٹر کو بلاک کرنا ایک اچھا اقدام لیکن سوشل میڈیا کے جن پلیٹ فارم کے ذریعے مقدس ترین ہستیوں کی گستاخیاں کی جا تی ہیں۔انہیں پابندی سے استثنیٰ کیوں ؟کیا پی ٹی اے کے ذمہ داران یہ بات نہیں جانتے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے ہونے والی گستاخیوں میں لاکھوں لعنتی ملوث ہیں؟ان گستاخیوں کی وجہ سے پاکستان کے مسلمان سخت ذہنی کرب کا شکار ہیں،پاکستان کی بنیاد کلمہ طیبہ پر رکھی گئی تھی ،اگر ایک اسلامی نظریاتی ملک کی سرزمین مقدس ہستیوں کی گستاخوں کے لئے جنت بنی ہوئی ہے تواس کی ذمہ داری پی ٹی اے سمیت ہر اس ادارے پر عائد ہوتی ہے کہ قانون کی بالادستی قائم کرنا جن اداروں کی ذمہ داری ہوتی ہے،اس سے قبل کہ عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جائے حکومت کو چاہیے کہ وہ گستاخوں کو گرفتار کر کے انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرے۔