Search
Close this search box.
پیر ,08 جون ,2026ء

ہمارے اندر ہر ایک منظر بچشم تر ہے

جو ضمیر کی صدا کی سماعت سے عاری ہوتے ہیں وہ منقار زیر پر دفن ہوجاتے ہیں ۔جنہیں صدائوں کا ادراک ہوتا ہے وہ اپنے وجدان میں اٹھنے والی ذرا سی کسک پر تلملا اٹھتے ہیں ۔وہ استقلال کی رسی پر چلتے چلتے ہی زندگی کی مسافتیں طے کر لیتے ہیں اور جنہیں اس راستے میں اچھے ہسفر دستیاب ہوجائیں ان سے بڑھ کر خوش نصیب کون ہوگا ؟ ہم قبیلہ کلک کے رکن تو اپنے آپ کو ڈار سے بچھڑی ہوئی کونجیں تصور کرتے ہیں جو کہیں راہ نہیں پاتیں تو ایک روز کسی تپتے صحرا میں دم توڑ دیتی ہیں ۔
گو ہم پیرانہ سالی کی دہلیز پر ایستادہ ہیں مگرتاحال تن آسانی کو لازمہ ذات بننے نہیں دیا ۔یہ الگ بات کہ حالات حاضرہ ہر پل جینے کی رمق چھین لینے کے درپے رہتے ہیں ۔یہ ہمارے اجدائو کی برکات ہیں کہ ہاتھوں میں ارتعاش سہی قلم میں لرزش اور خیالات میں لغزش کی اثر پذیری راہ نہیں پاتی کہ خواہش لقمہ تر نے کبھی رگ جاں میں جا نہیں پائی وگرنہ تو کتنے ہیں جو تحت الثری سے اوج ثریا پر پہنچ چکے ہیں ۔کہ انہیں حکومتی نگارخانوں میں رقص کرنا خوب آتا ہے اور اسی کی ویلوں سے آسودہ حال رہتے ہیں کہ لفظ فروشی ہی ان کا کاروبار زیست ہے ۔وہ صحافی نہیں بساطی کی دوکانیں ہیں جن کا گزر اوقات فقط منفعت پر چلتا ہے وہ گھاٹے کے سودے اٹھاتے ہی نہیں ۔وہ حرص وآز ہی میں مبتلا رہتے ہیں ، حکومتی عہدوں یا کم از کم وظائف و تحائف ، تمغہ حسن کارکردگی اور بیرون ملک دوروں کی آس پر ہی زندہ رہتے ہیں ۔یہی وہ اصحاب شقاوت ہیں کہ جس رات نینوا کے چراغ بجھ گئے تھے تو ان کے آبا خیمے جلا کر اندھیرے میں گم ہو گئے تھے ۔ سیاسی اختلافات کو کب تک ہوا دی جاتی رہے گی ؟ کب تلک مادر وطن بے حرمتی کا شکار رہے گی اور حکمران بند آنکھوں سے کاروبار مملکت چلاتے رہیں گے ۔ادارے بے مغز افراد سے آباد رہیں گے اور جمہور بے کس اور ناشاد رہیں گے ۔کتنا اور پلنا اور پھلنا پھولنا ہے انائوں نے ، بھوک و افلاس کے کشٹ کب تلک کاٹنے کے موسم یونہی افتادگان خاک کے سروں پر تنے رہیں گے ؟ یہ لوگوں کی آنکھوں میں تیرتے سوالات ہیں جن کے جوابات نہ اسٹیبلشمنٹ کے پاس ہیں نہ عدلیہ اور نہ مقتدرہ کے پاس ۔تو پھر کون تختہ سیاہ پر کچھ تحریر کرنے کی ذمہ داری اٹھائے گا ؟ کوئی بندی خانے میں بیٹھا زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد ۔اور کوئی کاسہ لیسی کی قیمت پر دہاڑیاں لگا رہے ہیں ، کچھ سال جو گھر بیٹھ کر کھایا اسے برابر کر رہے ہیں ، جو ضد پر اڑا ہے ، اب پھر اوپر والوں کو آڑے ہاتھوں لے رہا ہے ، کبھی تو ملزمہ کو لب کشائی سے منع کرتا ہے اور کبھی خود دریدہ دہنی پر اتر آتا ہے ، اس کی تلون مزاجی بھی سمجھ سے ماورا ہے ۔ادھر پالیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں تہذیب کے بخیے ادھیڑے گئے اور اس پر مستزاد وہ چار کرسیاں جو خالی تھیں ان کی آئینی حیثیت زیر بحث ہے ۔یاران سرپل معنی کے در پہ در وا کرتے جارہے ہیں تعبیرات کا ازدہام ہے ۔نتیجہ کیا دریافت ہوتا ہے ۔واللہ عالم باالصواب۔
کچھ دعو1ئوں کے بازار گرم کئے ہیں کہ حکمرانوں کی فائلیں تیار ہونا شروع ہو چکیں ، اس پر ترس آتا ہے کہ جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے نہیں کہ اعمال نامے لکھے جانے کا آغاز بھی ہوگیا اور جو فرشتے لکھ رہے ہوں گے وہ الگ ، یہ بھی خطرے کی تلوار ہے جو سروں پر لٹکا دی گئی ہے ۔دلوں کی نیتیں کون پڑھ سکتا ہے ، کہنے والے تو عزیز ہم وطنو! کی صد ا کا سندیسہ بھی دے رہے ہیں ۔
کسے خبر ہے کہ لحظہ لحظہ لرزتے ر ہتے ہیں سب گھروندے
ہمارے اندر ہر ایک منظر بچشم تر ہے کسے خبر ہے!
صیہونی قوتیں پھر بپھرے گدھوں کی طرح امہ پر جھپٹ رہی ہیں اور نصاریٰ سے دوستی کا دم بھرنے والے چپ ہیں انہیں اپنے اندر کے خدشات سے فرصت نہیں ۔یہی عالم رہا تو فتنہ دجال کی بربادیوں کو کیوں کر کوئی روک سکتا ہے ؟
یہ عقدہ تو صحیفہ آخر نے کشا فرما دیا تھا کہ جو قومیں خود اپنی حالت کو بدلنے کی جستجو نہیں کرتیں خدا ان کی حالت بدلنے کا ذمہ دار نہیں ہوتا اور وہ اپنے ہاتھوں مٹ جاتی ہیں اور تاریخ ایسی اقوام کا ذکر تک کرنا گوارہ نہیں کرتی ۔ہم تاریخ میں مٹ جانے کے عمل سے گزر رہے ہیں ۔ہماری قبروں پر رونے والا بھی کوئی نہیں ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں