Search
Close this search box.
اتوار ,21 جون ,2026ء

مغربی فلسفہ و تہذیب اور مسلم امہ کا رد عمل

(گزشتہ سےپیوستہ)
آج مغرب اور عالم اسلام میں مکالمہ کی جو ضرورت محسوس ہو رہی ہے اور جس ڈائیلاگ کی اہمیت پر زور دیا جا رہا ہے، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم نے ایک دوسرے کو سمجھنے میں کہیں نہ کہیں غلطی ضرور کھائی ہے۔ مغرب ہمیں سمجھنے میں مغالطوں کا شکار ہوا ہے اور ہم نے مغرب کو سمجھنے میں فریب کھائے ہیں۔ اگر یہ مکالمہ اور ڈائیلاگ ان غلطیوں کی نشاندہی کے لیے ہوں اور فریب کے دائروں سے نکلنے کے لیے ہوں تو اس کی ضرورت، اہمیت اور افادیت سے انکار کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چند ماہ قبل جب مختلف مذاہب کے راہنماؤں کے درمیان مکالمہ کی بات چلی اور اسلام آباد میں اس سلسلے میں ایک کانفرنس ہوئی تو اس مرحلے پر مجھ سے بھی رابطہ کیا گیا اور میری رائے دریافت کی گئی۔ میں نے گزارش کی کہ:
میں اس مکالمہ اور ڈائیلاگ کی ضرورت محسوس کرتا ہوں اور اس کی افادیت و اہمیت سے مجھے انکار نہیں ہے، لیکن میرے نزدیک یہ افادیت صرف اس صورت میں ہو سکتی ہے کہ یہ مذاکرات حکومتی سطح پر یا حکومتوں کے ذریعے نہ ہوں۔ یہ مکالمہ اہل علم کا کام ہے اور اس موضوع سے دلچسپی اور مناسبت رکھنے والے ارباب فہم و دانش کا مسئلہ ہے۔ حکومتوں کی مداخلت یا دلچسپی ایسے معاملات کو بگاڑ دیا کرتی ہے۔
اور دوسری بات یہ کہ ایجنڈا یکطرفہ نہ ہو بلکہ باہمی مشورہ سے ایجنڈا طے کیا جائے۔ مثلاً اس وقت بین المذاہب مکالمہ کے لیے سب سے بڑا ایجنڈا ’’دہشت گردی کے لیے مذہب کا استعمال اور اس کی روک تھام‘‘ بیان کیا جاتا ہے۔ مجھے اس کی ضرورت سے انکار نہیں، لیکن یہ یکطرفہ ایجنڈا ہے اور اگر مغرب اور عالم اسلام کے درمیان مکالمہ کے لیے ایجنڈا طے کرنے میں مجھ سے رائے طلب کی جائے تو میں اس کے لیے تین نکاتی ایجنڈا تجویز کروں گا:
(۱) انسانی سوسائٹی کے اجتماعی معاملات سے مذہب کی بے دخلی کے اثرات کا جائزہ
(۲) دہشت گردی، انتہا پسندی اور مذہبی جبر کی تعریف اور حدود کا تعین
(۳) دہشت گردی کے لیے مذہب کا استعمال اور اس کی روک تھام
مجھے یقین ہے کہ اسلام اور مسیحیت کے سنجیدہ ارباب علم و دانش اگر مل بیٹھ کر اس ایجنڈے پر گفتگو کریں اور ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ ان امور کا جائزہ لیں تو وہ نہ صرف بہت سی باہمی غلط فہمیوں کا ازالہ کر سکتے ہیں بلکہ عالم اسلام اور مغرب کے درمیان دن بدن بڑھتے چلے جانے والی کشیدگی میں کمی کے راستے بھی تلاش کر سکتے ہیں۔ لیکن اس کے لیے سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ مسلمان ارباب علم و دانش اپنے طرز عمل کا ازسرنو جائزہ لیں جس کے لیے ساری گفتگو کے خلاصے کے طور پر آخر میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ:
ہمیں مغرب کے فکر و فلسفہ اور تہذیب و ثقافت کا، اس کے تاریخی پس منظر اور انسانی سوسائٹی پر اس کے اثرات کے حوالے سے تفصیلی جائزہ لینا چاہیے اور علمی اداروں کو اس پر مذاکرات، مقالات اور بحث و تمحیص کے وسیع تر سلسلے کا اہتمام کرنا چاہیے۔
قرآن کریم، سنت نبوی اور خلافت راشدہ کو بنیاد بنا کر اس کی روشنی میں ہمیں اپنی اجتماعی کوتاہیوں اور معاشرتی خرابیوں کی نشاندہی کرنی چاہیے اور ان کے ازالہ کے لیے عملی لائحہ عمل تجویز کر کے اس کے لیے عوامی تحریک منظم کرنی چاہیے۔
اسلام کی تعبیر و تشریح کے لیے روایتی علمی ڈھانچے کو توڑنے کے شوق میں مزید وقت اور صلاحیتیں ضائع کرنے اور فکری خلفشار میں اضافہ کرتے چلے جانے کے بجائے اپنے علمی ماضی پر اعتماد کرتے ہوئے اس کی راہ نمائی میں اپنے مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے۔
خلافت راشدہ کے دور میں عام شہریوں کو اظہار رائے، جان و مال کے تحفظ، بیت المال سے وابستہ حقوق اور دیگر سہولتوں کی جو قانونی ضمانت حاصل تھی، انہیں عالمی سطح پر اجاگر کرے کی کوئی صورت نکالنی چاہیے، اس لیے کہ اسلام کا اصل تعارف وہ نہیں جو اس وقت ہمارے اجتماعی طرز عمل کی صورت میں دنیا کے سامنے ہے، بلکہ اسلام کا صحیح تعارف جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء راشدین کا سنہری دور ہے جسے آئیڈیل قرار دے کر ہی ہم مغربی تہذیب کا عملاً سامنا کر سکتے ہیں۔
اور بھی بہت سی باتیں اس ضمن میں عرض کی جا سکتی ہیں، مگر بہت زیادہ طوالت کے خوف سے گفتگو کا دائرہ سمیٹتے ہوئے اس طویل سمع خراشی پر آپ سب ارباب علم و دانش سے معذرت خواہ ہوں اور دعا کا خواستگار ہوں کہ اللہ رب العزت ہمیں اس نازک ترین مرحلہ میں امت مسلمہ کو صحیح راستہ دکھانے کی توفیق دیں اور عالم اسلام کو موجودہ بحران میں ایمان، عزت اور وقار کے ساتھ سرخ روئی عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔

یہ بھی پڑھیں