Search
Close this search box.
پیر ,08 جون ,2026ء

عالم عرب اور تہذیبی اقدا ر

ایک مرتبہ مولانا ابوالکلام آزاد نے فرمایا تھا اور آج دلگرفتگی کے عالم میں مجھے وہی الفاظ دہرانے پڑ رہے ہیں کہ چند دل کے ٹکڑے ہیں جن کو صفحات پر بچھاناچاہتا ہوں،کیوں کر بچھائوں ؟ چند آنسو ہیں ، جن کوکاغذ پر پھیلانا چاہتا ہوں، کیوں کر پھیلائوں ؟ آہ ! ان لفظوں کو کہاں سے لائوں ؟ جودلوں میں ناسور پیدا کردیں ؟ آہ !اپنے دل کے زخموں کو کیوں کر دکھائوں ، کہ اوروں کے دل بھی زخمی ہوجائیں ؟ پھر میں سوراخ ہوجاتا ہے ، مگر جب دل پتھر کے بن جاتے ہیں تو ان کا پگھلنا محال ہے اور کائناتِ انسانیت میں جتنی زندگی ہے ، دل کے ناسوروں اور جگر کے زخموں ہی کے دم سے ہے ، جب تک دل زخمی ہیں ، روح تندرست ہے ، لیکن جس دن دلوں کے زخم بھر گئے اس دن یقین کیجئے کہ آپ زندگی سے بھی خالی ہوگئے۔
مولانا نے یہ الفاظ نامورانِ غزوہ طرابلس کے حضور پیش کئے تھے ، جب السیدہ فاطمہ بنتِ عبداللہ اپنا اونچا کرتا پہنے ہوئے اور پھٹی ہوئی خمار کمر کے گرد لپٹے ہوئے اس طرح دوڑ رہی تھی کہ معلوم ہوتا تھا مظلوم و محتاج زخمیوں کی خبر گیری کے لئے کوئی فرشتہ ربانی آسمان سے اتر آیا ہے اوروہ فاطمہ بنت عبداللہ عرب تھی جواطالوی ترک جنگ میں میدان جنگ ہی میں غازیوں کو پانی پلاتی ہوئی شہیدہوگئی ۔یہ 1912ء کی بات ہے اور اب 2024 ء ہے غزہ میں عرب اسرائیل جنگ میں کئی دخترانِ عرب اپنی عزتیں، عفتیں اور جانیں لٹا رہی ہیں اور حجاز مقدس میں شراب خانے قائم کرکے عرب مسلمانوں کو سرعام شراب کی فروختگی کے اجازت نامے جاری کر رہے ہیں ، وہ حجاز جس کی پاک سرزمین پر جب شراب کی ممانعت کا حکم آیا تو حجاز کی گلیوں میں مسلمانانِ عرب کی لنڈھائی ہوئی شراب کسی بپھرے ہوئے بحر کی طرح بہے جارہی تھی ، حکم کی تعمیل میں ،اور آج وہی حجاز ہے جس میں حکم ربانی کو توڑدیا گیا ، نبی آخرالزماںﷺ کی اطاعت کا چغہ اتار دیا گیا ہے ، یہودو نصاری کی تعمیل کا طوق گلے میں سجا لیا گیا ہے ۔بہت ساری آنکھیں ہی نہیں دل نوحہ کناں ہوں گے ۔مگر ان آنکھوں میں جھانکنے والا کوئی نہیں جو دل زخمی ہوئے ان پر پھاہے ر کھنے والا کوئی نہیں ۔
عالم کفر کا دجالی میڈیا مسرت و انبساط کے شادیانے بجا رہا ہے ، کسی عرب ملک سے ، کسی مسلمان ملک سے اس پر احتجاجی بیان جاری نہیں ہوا۔مسلمانانِ عرب و عجم غفلت کی نیند سوئے ہوئے ہیں ۔غم و غصے کی کسی لہر کا ارتعاش دکھائی نہیں دیا ۔سب نے بے حمیتی کی بکل ماری ہوئی ہے۔ کوئی شیخ عبداللہ ہے نہ اس کی غیرت مند بیٹی ! رقص و سرود کی محافل سجتی ہیں ۔سب سرور صہبا میں مصروف ہیں ۔کیف و مستی میں ڈبے ہوئے ہیں۔ اب ان پر کوئی جنگ مسلط ہوئی تو زخمیوں کو پانی پلانے والی کوئی فاطمہ بھی نہیں ہوگی ؟ اور خدا کی مدد کا وعدہ ، اس کے محبوبﷺ کی اطاعت کا معاہدہ تو ہم پہلے ہی توڑ چکے ہیں۔
اب نہ مولانا آزاد ہیں ، نہ الہلال کہ جو عالم اسلام کی بے حسی اور مست روی کا مرثیہ لکھے۔غزہ میں لاشیں گر رہی ہیں مگر کسی گرنے والی لاش سے کسی مسلم حکمران پر خوف طاری نہیں ہوتا نہ اس کی روح کوئی کچوکا محسوس کرتی ہے۔کتنی فاطمائیں ہوں گی جو بے اختیاری کے عالم میں ہوں گی ۔جو عزم ہونے کے باجود ہمت باندھنے سے یکسر محروم ہوں گی۔ہائے، ہائے فاطمہ بنت عبداللہ ماں باپ کی اکلوتی بیٹی تھی مگر اس کے ماں باپ ہی اس کا حوصلہ بن گئے تھے ۔اب کوئی ایسی بختاور بیٹی ہوگی بھی تو اس کا باپ ایسا نہیں ہو گا جو اس کی پشتیبانی کرے اسے یہ اذن دے کہ وہ شراب کے خمار میں غرق عالم عرب ، عالم اسلام کی بیٹیوں میں فاطمہ کے جذبوں جیسی روح پیدا کرے۔ یا کوئی ایسا بیٹا ہو جو حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مثل طاغوت کے خلاف آواز اٹھائے کہ غزہ و کشمیر میں کتنے فرندانِ توحید دم توڑ رہے ہیں اور تم چپ ہو ۔
طرابلس کے معرکے میں اگر اطالوی بارہ سولاشیں چھوڑ کر میدان جنگ سے بھاگ سکتے ہیں تو آج بھی کچھ بعید نہیں ، کچھ بھی ؟ میں ، اس آس پر جیتا ہوں کہ ہم پاکستان میں اپنی اقدار و روایات کو پھر سے زندہ کریں جو ایک طویل عرصہ برصغیر پر سامراجی تسلط کے عہد اقتدار میں مرکھپ گئیں گو ہمارے اجداد نے اپنی تہذیب ثقافت کے تحفظ کے بہت جان لڑائی مگر مغربی تہذیب و ثقافت کے اثرات سے محفوظ و مامون نہ رہ سکے ۔آج عالم عرب مغربی تہذیب و ثقافت ومعاشرت کے چنگل میں اس طور پھنسا ہے کہ اس نے شباب و شراب تک کو اپنی تہذیب و ثقافت کا حصہ بنا لیا ہے۔الامان الحفیظ

یہ بھی پڑھیں