Search
Close this search box.
اتوار ,14 جون ,2026ء

خواتین کی عظمت و کردار

دربار نبوتﷺ کی ضیا پاش کرنوں سے مستفید ہونے والوں میں مرد ‘عورت اور بچے سب ہی شامل تھے لیکن اس واضح حقیقت سے انکار کرنے کی جرات کون کر سکتا ہے کہ سیرت نبویﷺ کے زیر اثر جو پاکیزہ اور روح پرور اسلامی معاشرہ قائم ہوا‘ اس میں خواتین کا حصہ اور کردار اوروں سے کہیں بڑھ کر ہے‘ رحمت دوعالمﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے والی آپ کے جمال جہاں آرا سے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈک بخشنے والی‘ آپ کی مبارک اور مقدس آواز سے اپنی سماعتوں کو تروتازہ کرنے والی اور آپ کے اشارہ ابروپر اپنی جان و مال شوہر اور اولاد ہر چیز نچھاور کرنے والی صحابیات ہی درحقیقت مسلمان قوم کی وہ مائیں ہیں جن کے احسان سے قیامت تک کوئی مسلمان عہدہ برآ نہیں ہو سکتا۔
آئیے ! انہی میں سے کچھ پاکیزہ مائوں کا تذکرہ کرتے ہیں، حضرت ام شریک قریش کی عورتوں میں خفیہ طریقہ سے اسلام کی تبلیغ کا کام کرتی تھیں جب قریش کو پتہ چلا تو ان ہی کے خاندان کے کافر ان کو دھوپ میں کھڑا کر دیتے تھے‘ دھوپ کی گرمی اور پیاس کی شدت سے بے ہوش ہو جایا کرتیں‘ پھر ان کو مکہ سے نکال دیا گیا‘ انہوں نے تنہا مدینہ کا سفر کیا راستہ میں شدید پیاس کی حالت میںایک قافلہ سے پانی مانگا انہوں نے کہا اگراپنا مذہب بدل لو تو پانی مل سکتا ہے لیکن اس عظیم عورت نے یہ گوارہ نہ کیا اور پانی نہ ملنے پرصبر کر کے ایک طرف اپنا آخری وقت سمجھ کر لیٹ گئیں اس وقت حق تعالیٰ نے آسمان سے ایک ڈول پانی کا اتارا جس کو انہوں نے پیا پھر اس کے بعد تمام عمر ان کو پیاس کی تکلیف نہیں ہوئی‘ مدینہ پاک پہنچ کر حضورﷺ کی خدمت میں آنے والے وفود اور مہمانوں کا کھانا پکایا کرتی تھیں۔
حضرت عفرا انصاریہ بنی نجار سے تھیں ان کے سات بیٹے سب غزوہ بدر میں شریک ہوئے ‘ ابوجہل فرعون امت کو ان ہی کے صاحبزادے معاذ بن عفر ا اور معوذبن عفراء نے قتل کیا‘ معوذ اور عوف شہید ہوئے‘ بقیہ کے نام یہ ہے‘ ایاس‘ عاقل‘ خالد‘عامر‘ ام سلیم مدین کے خزری قبیلہ کے شاخ بنو نجار سے تھیں جو حضور ﷺ کے دادا کی ننھیال ہونے کے سبب رشتہ دار تھیں‘ انہوں نے ابو طلحہ انصاری سے نکاح کی شرط اور اپنا مہر اسلام کالانا مقرر کیا تھا اورا پنے صاحبزادے حضرت انس کو حضورعلیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت گزاری کیلئے دے دیا تھا‘ حضورﷺ کی رشتہ کی خالہ بھی تھیں اس تعلق کی بناپر حضورﷺ سے ان کے یہاں تشریف لے جا کر آرام فرمایا کرتے تھے اور فرمایا کہ جنت میں معراج کے موقع پر میں نے ان کی آہٹ محسوس کی تھی‘ حنین کی لڑائی میں جو مسلمان جمے رہے تھے ان میں ام سلیم بنت عثمان ‘ ام عمارہ‘ ام سلیط اور ام حارث یہ چاروں عورتیں بھی کمال بہادری سے جمی رہی تھیں۔
شفا بنت عبداللہ صحابیہ ایسی صاحب الرائے تھیں کہ ان سے حضرت عمر مشورے لیا کرتے تھے۔ ام عطیہ صحابیہ سات غزوات میں شریک ہوئیں‘فوج کا کھانا پکاتی تھیں‘ حضرت طلیب بن عمر جب اسلام لائے تو اپنی ماں اروی بنت عبدالمطلب کو اس کی خبر کی تو وہ بولیں تم نے جس شخص کی نصرت کی وہ اس کا سب سے زیادہ مستحق تھا اور مردوں کی طرح مجھ میں بھی طاقت ہوتی تو میں آپ کی حفاظت کرتی اور آپ کی طرف سے لڑتی‘ اڈورڈ گبن نے اپنی تاریخ میں مسلمان عورتوں کے جنگی کارناموں کی تفصیل دیتے ہوئے لکھا ہے کہ شمشیر زنی‘ نیزہ بازی اور تیراندازی کی خوب ماہر تھیں یہی وجہ ہے کہ نازک ترین مواقع پر بھی اپنے دامن عفت کو محفوظ رکھنے میں کامیاب ہوتی تھیں۔
ام عمارہ انصاریہ سابقین عورتوں میں سے ہیں جنہوں ے حجاج کے ایک قافلہ کے ساتھ سب سے پہلے حضورﷺ کی زیارت و دعوت کا شرف پایا ‘ عقبہ اولیٰ منیٰ کی ایک گھاٹی میں چھپ کر اس قافلے کے ساتھ بیعت ہو ئیں‘ ہجرت مدینہ کے بعد حضور ﷺ کی معیت میں احد’ حدیبیہ’ خیبر اور حنین کی جنگوں اور عمر القضا میں شریک ہوئیں۔ احد کا واقعہ سنایا کرتی تھیں کہ میں پانی کا مشکیزہ بھر کر احد کو گئی کہ دیکھوں مسلمانوں پر کیا گزری‘ کوئی زخمی ملا تو اس کو پانی پلادوں گی‘ اس وقت ان کی عمر 34 سال کی تھی ان کے شوہر اور دو بیٹے بھی شریک تھے‘ مسلمانوں کو غلبہ ہو رہا تھا اچانک کافروں کا غلبہ ظاہر ہونے لگا تو فرماتی ہیں کہ حضورﷺ کے نزدیک پہنچ گئی اور میرے پاس ڈھال تھی اور کمر میں ایک کپڑا باندھ رکھا تھا جس میں کچھ گودڑ رکھ لیا تھا‘ جب کوئی زخمی دیکھتی تو کپڑا جلا کر زخم بھر دیتی‘ جو کافر حضورﷺ پر حملہ کرتا اس کا حملہ اپنے اوپر روکتی چنانچہ خود بھی زخمی ہوتی رہیں۔
ابن تمیم کافر ‘ حضورﷺ کو تلاش کرتا ہوا آیا ‘مصعب بن عمیر اور چند حضرات کے ساتھ میں بھی اس کے مقابلے میں آئی اور اس پر کئی وار کئے جو وہ دوہری زرہ سبب خالی گئے اس نے میرے مونڈھے پر وار کیا جس کا زخم کافی دنوں بعد اچھا ہوا اور اس میں ایک گڑھا سا ہو گیا‘ اسی حالت زخم میں حضورﷺ کے ساتھ قریش کا تعاقب کرنے کیلئے حرا الاسد تک جانے کا ارادہ کیا مگر زخموں کی زیادتی اور ہرے ہونے کے سبب نہ جا سکیں۔ فرماتی تھیں دشمن گھوڑوں پر سوار حملہ آور ہوتے تھے اور ہم پیدل تھے اگر وہ پیدل ہوتے تو ان کا مقابلہ کا پتہ چلتا جب کوئی سوار دوسری طرف کا رخ کرتا تو اس کے گھوڑے کی ٹانگ پر حملہ کرتی جس سے گھوڑا اور سوار دونوں گرپڑتے اس وقت حضور ﷺ میرے بیٹے عبداللہ کو میری مدد کیلئے بھیجتے اور ہم دونوں مل کر اسے نمٹا دیتے‘ عبداللہ کے بازو میں ایک سخت زخم آیا جس سے خون نہیں رکتا تھا‘ حضورﷺ کی محافظت میں جن چھ خوش نصیب انسانوں کو اسی اسی زخم کھانے پڑے ان میں ام عمارہ بھی تھیں‘ حضورﷺ نے فرمایا آج ہر بہادر نے اپنے جوہر دکھائے مگر ام عمارہ جیسی بہادری کہاں‘ یہ سب سے بازی لے گئیں۔ بیعت عقبہ اولیٰ بیعت رضوان دونوں میں شریک تھیں۔ حضرت سمیہ اور ان کے شوہر یاسر اور بیٹے عمار تینوں سابقین میں ہیں‘ ابو جہل اور مکہ کے کافران پر مظالم ڈھاتے اور دھوپ میں جلاتے تھے جس کے سبب یہ کر اہتے تو حضورﷺ آ کر ان کو فرماتے ’’ اے آل یاسر تم کو خوشخبری ہو مغفرت کی اور جنت کی‘‘۔
حضرت زنیرہ صحابیہ اسلام لانے کے بعد نابینا ہو گئیں تھیں‘مشرکین مکہ نے کہا کہ لات وعزی کے بتوں نے تجھے اندھا کر دیا ہے تو حضرت زنیرہ نے فرمایا یہ تو خدا کی طرف سے ہے‘ بتوں کو کیا خبر کہ کون ان کو پوجتا ہے‘ حضورﷺ نے دعا فرمائی اللہ تعالیٰ نے دوبارہ بصارت عطا فرما دی۔ کفار مکہ ان کو مارتے مارتے لہو لہان کر دیا کرتے تھے حتی کہ آنکھوں پر بھی مار کا اثر تھا اس وقت فرمایا کرتی تھیں چاہے جان چلی جائے مگر اسلام نہیں چھوڑ سکتی‘ عرب کی مشہور شاعرہ حضرت خنساء نے زمانہ جاہلیت میں اپنے ایک بھائی صحر کی موت پر مرثیہ کہا تھا جس نے عربوں کو خوب رلایا تھا‘ جوانی بھر بھائی کاماتم کرتی رہیں۔ بڑھاپے میں خدا نے ہدایت نصیب فرمائی چنانچہ جنگ قادسیہ میں مع اپنے چار جوان بیٹوں کے شریک ہوئیں‘ مورچہ سخت تھا بیٹوں کو ترغیب دی’’اے میرے بیٹو تم ایک ہی ماں باپ کی اولاد ہو میں نے نہ تمہارے باپ سے بددیانتی کی نہ تمہارے ماموئوں کو رسوا کیا نہ تمہارے حسب و نسب کو داغ لگایا‘جہاد کا ثواب تم جانتے ہو‘ آخرت میں بہتر ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھیں