کمال غمزہ و عشوہ تھا جس کی سحرناکی کے سائے تلے کامل نخوت کے ساتھ میاں نواز شریف وطن واپس آئے، ان کی پہلی یقین دہانی یعنی ان کے مقدمات سے انہیں پلک جھپکتے میں بریت مل گئی ، جلسے جلوسوں پر ان کا اختیار نہیں تھا کہ کامیاب کراسکیں کہ ان کے اپنے اندر بھی اختلاف تھے سو ادارے کی ساکھ پر آنچ کا خطرہ مول نہیں لیا جاسکتا تھا،ہاں یہ ضرور ہوا کہ پی ٹی آئی کا شیرازہ بکھیرنے کی سعی ضرور کی گئی ، اس کے اہم ستونوں کو کمزور تو کیا توڑ دینے میں بھی کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا گیا مگر جب کپتان کو کسی صورت زیر نہ کیا جسکاتو میاں صاحب کے جذبات و احساسات پر اوس پڑ گئی ۔انہیں نوے جمع پندرہ کی کرائی گئی یقین دہانی بھی پوری ہوتی دکھائی نہیں دی گئی تو فیصلہ بدل دیا گیا بڑے میاں کی بجائے چھوٹے میاں کو وزارت عظمیٰ کی باگ تھما دی گئی ۔ بڑے میاں صاحب نے تو الیکشن سے پہلے حکومت بنانے اور چوتھی بار وزیر اعظم بننے کا عندیہ واشگاف الفاظ میں دے دیا تھا مگر وقت آنے پر، نہیں بلکہ منہ کی کھانے پر بڑے میاں صاحب کو چپ لگ گئی اور چھوٹے میاں کو وزارت عظمیٰ کے سنگھاسن پر متمکن کردیا گیا۔کہانی یہیں پر ختم ہوجاتی تو کچھ مضائقہ نہ تھا ۔
جاوید لطیف اور رانا ثناء اللہ نے کہانی بگاڑ دی ۔ خواجہ سعد صبر کا کڑوہ گھونٹ پینے پر اکتفا کر گئے اور رانا ثناء اللہ اپنی آنکھوں میں چھپی شعلگی اور دل میں خفتہ حسد پر قابو ہی نہ پاسکے کہ ان کی پشت پر میاں نواز شریف کا دست الفت موجود تھا ،رانا صاحب نے تو یہ در فنطنی بھی چھوڑ دی کہ میاں صاحب تو عمران خان سے ملنے کے لئے تیار ہیں مگر کچھ لوگ آڑے ہیں ۔وزیر اعظم شہبازشریف چپ کا سوانگ رچائے برادر بزرگ کو کچھ کہہ نہیں سکتے کہ سگ بے اطمینان کو لگام ڈال دیں اور وہ تو یہ جانتے بوجھتے کہ محسن نقوی مقتدر کا نمائندہ خاص ہے اس پر تنقید برسانے لگا ہے۔عطاء تارڑ بس اس قدر جرات کر سکے کہ میڈیا کے روبرو بات کرنے پرمعترض ہونے کے سوا کچھ نہ کرسکے ۔جاویدلطیف گوجرانوالہ میں نوے کروڑ کے سودے کی بات کئے بغیر نہیں رہ سکے اور خواجہ آصف اپنی زبان بے لگام کھولنے سے خائف کہ کہیں عدلیہ کی پٹاری سے کوئی ناروا فیصلہ نہ نکل آئے۔خرم دستگیر متذبذب لگتے ہیں ۔تو گویا اندر ہی اندر لاوہ پک رہا ہے ۔اس پر معروف بزنس مین عارف حبیب نے جلتی پر تیل چھڑک دیا کہ وزیر اعظم شہبازشریف کے روبرو یہ کہہ دیا کہ حالات کو معمول پر لانا ہے تو اڈیالہ کے باسی سے بات کرناہوگی اور یہی بات آرمی چیف کے حضور بھی پیش کردی ، جنہوں نے انتہائی غیر منطقی جواب دیا ۔ چیف جسٹس صاحب کو مدت ملازمت کی فکر کھائے جاتی ہے ۔کس موڑ پر کن کن مداووں کے د ر وا ہو رہے ہیں ، سب کو اپنی فکر لاحق ہے ملک جس سیاسی جمود کا شکار ہے اس پر کسی کی نظر نہیں پس سیاسی ضرورتیں اور مصلحتین اور ذاتی خواہشات ہیں جوملک کی ترقی کے راستے کی رکاوٹ ہیں ۔طرفہ تماشا تو یہ بھی ہے کہ ملک کے سب سے بڑے صوبے کی وزیر اعلیٰ ماڈلنگ کے جوش میں ہیں کہ کل چوری کے مینڈیٹ کی اخیر ہو تو کوئی حسرت دل میں نہ رہ جائے ۔
مسلم لیگ (ن) اپنی پیدائش سے انہی کرتبوں پر مائل رہی ہے ، ثبوت چاہیے ہو تو مختار مسعود کی کتاب آواز دوست کا مطالعہ فرمالیں ، جو کہنہ مشق بیورکریٹ تھے انہوں نے تاریخ کے بہت سارے حقائق پر سے پردہ اٹھایا خصوصا ًمسلم لیگ کے اس دعوے سے کہ وہ پاکستان کی خالق ہے ۔کتاب منظر عام پر آنے کی تقریباً نصف صدی بعد تک موصوف زندہ رہے ، ان کے اس دعویٰ کی بابت کسی نے سوال نہیں اٹھایا نہ ان کے خلاف قائد اعظمؒ کی جدوجہد کے ثمر کے انکار پر غداری کا مقدمہ بنا۔ مسلم لیگ بند آنکھوں سے اقتدار کے پیچھے بھاگ رہی ہے اورمقتدہ ہر بار اسے اوندھے میں گرنے سے بچا لیتی ہے کہ اس کی بھی عزت کا سوال تو ہے ہی!
مسلم لیگ (ن) اندر سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اوردو بھائیوں کے درمیان دراڑ کی چغلی دبے الفاظ نہیں روز روشن کی طرح عیاں ہے ،مگر اختیار ایک ضد ہے جو آدھا قدم تک پیچھے ہٹنے کاحوصلہ نہیں دے رہا، عسکری مزاج کا یہ لازمہ رہا ہے مگر اب جبکہ سب کچھ یکسر مبدل ہوچکا مزاجوں میں کچھ گنجائشِ زیر و زبر لازمی ہے کہ مٹنا مٹانا تو سبھی کو ہے یہاں سالمیت کا مسئلہ ملکی وجود کا ہے ۔دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت نئی کروٹ کے سمے دکھا رہی ہے۔ ہم اندرونی جنگ کو سنبھال نہیں پا رہے تو بیرونی جنگ کے سائے ٹالنے میں حکمت عملی کیوں کر بنانے پر مائل نہیں؟جو اسی منصب سے عہدہ برا ہونے کا مشاہرہ وصول کرتے ہیں ، فقط اپنے ا ختیارت کے طلسم میں مقید نہ رہیں ۔زمانہ روش بدل چکا ہے اب آپ کو بھی اپنا چلن تبدیل کرنا لازم ہے۔