Search
Close this search box.
پیر ,08 جون ,2026ء

وہ جن کا لکھا تقدیر بدل دیتا ہے

گو میری طبیعت مبالغے کی حد تک نا رساو بدحال ہے اور میرے معالج نے لکھنے پڑھنے خصوصاً موبائل یا لیپ ٹاپ کے استعمال سے سختی سے منع کیا ہے مگر اب جبکہ رات کے دو بج رہے ہیں نیند نہ آنے کی وجہ سے ایک نجی چینل پر ملک کے معروف لکھاری کا انٹرویو سن کر مجھ سے رہا نہیں جارہا ، صاحب فراش ہونے کے باوجود اپنی تمام تر مجبوری کو بالائے طاق رکھ کر ابلاغی مشین پر آن بیٹھا ہوں کہ اتنے لائق فائق اور سنجیدہ لکھاری جن کے قلم سے چنگاریاں نکلتی ہیں ، جو ایسے خیالی نقش جماتے ہیں کہ ان کے الفاظ حدت سے جسم اور روح لزر اٹھتے ہیں ، ان کے اظہاریئے پل بھر میں قیامت کا سا سماں پیدا کر دیتے ہیں ۔فصاحت وبلاغت کے وہ مرقعے گھڑتے ہیں کہ انسان انگشت بدنداں رہ جاتا ہے ۔موصوف اخلاقی اور سیاسی اقدار کو روند بھی رہے ہوں تو زخموں پر پھاہوں کے اہتمام کی جستجو بھی ساتھ ساتھ کرتے چلے جاتے ہیں ، وہ حریت کے ولولے بھی بیدار کریں تو جاگنے والوں کو پناہ کاوسیلہ آستانہ جاتی عمرہ ہی دکھاتے ہیں کہ ان کی اپنی سیاسی سجدہ گاہ میاں نواز شریف کے وجود باسعید سے بڑھ کر کوئی نہیں ۔جب میاں نواز شریف دیار فرنگی میں اپنے امراض کی دوا تلاش کرتے تھے تو یہ موصوف اپنے ممدوح کی سیاسی تتھاگت بحال رکھنے کے لئے کیا کیا منصوبہ سازیاں نہیں فرماتے تھے اور کس کس کو میاں صاحب کی حب الوطنی کی اسناد جاری کرنے کی استداع نہیں کرتے تھے ۔مگر ہر قرب مکانی رکھنے والا ان کی طرح ضمیر کی قربان گاہ بننا پسند نہیں کرتا ۔حضرت والا ایون فیلڈ کا اعتراف کجا، کبھی اس فارم ہائوس کاذکر کرنا بھی گوارہ نہیں کرتے جو حسن نواز نے ان کی آسائش اور آرام وسکون کے لئے انگلینڈ کے ایک گوشے میں سجا رکھاہے۔
وہ اینکر کے سامنے یہ اعتراف کرنے سے یکسر گریزاں تھے کہ 8 فروری 2024 ء کے انتخابات میں میں مینڈیٹ کی چوری کی گئی بلکہ وہ بار بار ایک ہی جملہ دہراتے رہے کہ 2018 ء میں بھی تو مسلم لیگ ن کا مینڈیٹ چرایاگیا تھا اب بھی چرایا گیا ہوگا یعنی یہ کہنے کی اخلاقی جرات ہی نہ فرمائی کہ اب کی بار بھی یہ ظلم ہوا اور بڑی سطح پر برپا ہوا۔حرف و صوت کے ہنر مند میرے بزرگ دوست ہیں ، میں ان کی نثرنگاری کے وہبی میلان کا دل و جان سے معترف ہوں وہ واقعتا جوش قلم کے سرمایہ دار ہیں اوراب تو ان کے مادی سرمایہ کی داستانیں بھی دبئی میں عام ہیں۔ مگر آل شریف کی مثل ان کی منفعت جلباب بھی تھمنے والی نہیں کہ وہ خصوصاً میاں نواز شریف کے بال بال کو بیگانہ بدعنوانی کے تصور پر ایمان کی حد تئیں یقین رکھتے ہیں ۔وہ مسلم لیگ ن میں پے در پے پڑنے والی دراڑوں کو بھی تسلیم نہیں کرتے۔چونکہ موصوف اختراع کار طبیعت کے حامل ہیں اس لئے اپنی جماعت میں درآنے والی دراڑکی بخیہ گری مترادفات اور عواطف تراکیب سے کرلیتے ہیں۔ذہین لکھاری کا یہ وصف ہوتا ہے وہ روشن دماغ ہوتا ہے اور فہم و فراست کے راستے میں آنے والی ہر گھاٹی کو عبور کرلیتاہے ۔
میں نے میاں صاحب کی خودساختہ جلاوطنی کے دنوں چوہدری نورالحسن تنویر کی دبئی کی محافل میں انہیں ہنسی کے چھینٹے اڑاتے بھی دیکھا ہے اور میاں نواز شریف کے روبر جنرل مشرف پر نوحہ گیر ہوتے بھی ، ان دنوں انہوں نے میاں نواز شریف کے جو قصیدے لکھے انہیں یکجا کیا جائے تو قصیدے کی ایک معتبر کتاب مرتب ہو سکتی ہے ۔
آج کی تقریبا ًپوری رات میں نے ان کے انٹرویو کے مندرجات پر غور کرتے گزار دی ، بہر حال میں وہ ایک سچ تلاش نہ کرسکا جو ان کے طویل انٹر ویو سے اخذ کرسکتا۔یہ ان کے ہنرکاکمال ہے کہ وہ تاریخ کے بڑے سے بڑے جھوٹ کو بھی اپنے شبنم جسے لہجے سے سچ کا لباس پہنا سکتے ہیں ۔آج پہلی بار محسوس ہوا کہ فقط سیاست ہی نہیں صحافت بھی اپنے سینے میں دل کی بجائے سنگ و خشت رکھتی ہے ۔ ہر بات میں مصلحت کے پیوند لگانے کی مہارت تھی کہ موصوف نے ہر جھوٹ کو ٹی وی اینکر سے سچ منوا کر کس کس کا دل نہیں جیتا۔ تومیں بھی ان کی سحرانگیز گفتگو میں آج کی رات گنوا بیٹھا تو کیا ہوا کہ یہی وہ لوگ ہیں جو اقوام کی تقدیر بنا دیتے ہیں ، یا بگاڑ دیتے ہیں!

یہ بھی پڑھیں